سقوط کابل سے قبل بائیڈن اور اشرف غنی میں فون پر آخری بات کیا ہوئی تھی؟

افغانستان پر طالبان کے کنٹرول سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے افغان ہم منصب اشرف غنی کے درمیان آخری ٹیلیفونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے فوجی امداد، اسٹریٹیجی اور حکمت عملی پر بات کی تھی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کا متن خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے دیکھا اور ان کے مطابق بائیڈن اور اشرف غنی دونوں ہی اس بات سے لاعلم نظر آتے تھے کہ طالبان جلد پورے ملک کے اقتدار پر کنٹرول حاصل کر لیں گے۔ 15 اگست کو اشرف غنی صدارتی محل سے بھاگ کر فرار ہو گئے تھے اور طالبان کابل میں داخل ہوئے، اس وقت سے اب تک ہزاروں مایوس افغان ملک سے فرار ہو چکے ہیں اور انخلا کے اس عمل کے دوران کابل کے ہوائی اڈے پر ہونے والے دھماکے میں 13 امریکی فوجی اور درجنوں افغان شہری مارے گئے تھے۔
رائٹرز نے صدارتی فون کال کے ٹرانسکرپٹ کا جائزہ لیا اور گفتگو کی تصدیق کے لیے آڈیو کو سنا، یہ مواد نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک ذریعے نے فراہم کیا کیونکہ وہ اسے تقسیم کرنے کا مجاز نہیں تھا۔ کال میں بائیڈن نے کہا تھا کہ اگر اشرف غنی عوامی سطح پر افغانستان میں بڑھتی ہوئی صورتحال کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ پیش کر سکتے ہیں تو وہ امداد کے لیے تیار ہیں۔ جو بائیڈن نے کہا تھا اگر ہمیں پتہ ہو کہ منصوبہ کیا ہے تو ہم فضائی مدد فراہم کرتے رہیں گے، مذکورہ کال سے کچھ دن پہلے امریکا نے افغان سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے فضائی حملے کیے تھے اور طالبان نے کہا تھا کہ یہ حملے دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
امریکی صدر نے اشرف غنی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ آگے بڑھنے کی فوجی حکمت عملی کے طور پر طاقتور افغانوں کو خرید لیں اور وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغان صدر ایک طاقتور فرد کو ان افراد کا انچارج مقرر کردیں۔
