حریم شاہ کے زرداری سمیت بڑے سیاستدانوں کو مشورے


اپنی متنازعہ ویڈیوز اور بیانات کے حوالے سے جانی جانے والی ٹک ٹاکر حریم شاہ نے سابق صدر آصف رداری کو سیاسی مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھٹو شہید کو چھوڑ کر اپنی الگ شناخت بنائیں۔
ایک ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے حریم نے آصف زرداری، شاہ محمود قریشی، بلاول بھٹو اور شیخ رشید‘ کو اپنے پسندیدہ سیاستدان قرار دیا، حریم نے بلاول بھٹو کو کوئی مشورہ دینے کے سوال پر بتایا کہ وہ ان کے پسندیدہ سیاستدان ہیں، اور وہ ان کی سیاست کی مداح ہیں لہذا انہیں مشورہ دینا بنتا نہیں۔ حریم نے مریم نواز کو مفت مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اسی طرح آگے بڑھنا چاہئے، ٹک ٹاکر نے فردوش عاشق اعوان کو وزن کم کرنے کا مشورہ دیا جبکہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو تجویز دی کہ وہ کوئی بھی بات کرنے سے قبل سوچ لیا کریں، انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری نے اپنی ایک عجیب ہی سائنس بنا رکھی ہیں اور وہ سوچے سمجھے بغیر کچھ بھی بول دیتے ہیں۔
حریم شاہ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو بہادر شخص تھے اسی لیے وہ اپنی شہادت کے کے 30 برس بعد بھی اپنی اصول پسندی اور دلیری کی وجہ سے عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ حریم نے کہا کہ آصف علی زرداری نے بھی بہادری سے قید کاٹی لیکن انہیں بھٹو شہید کی طرح مذید دلیری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ ٹک ٹاک سٹار کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کو اپنی پہچان ایک ڈرائنگ روم سیاستدان کی بجائے بھٹو کی طرح عوامی لیڈر کے طور پر بنانی چاہیے۔
حریم شاہ نے کہا کہ انہیں اب یاد نہیں کہ ان کی پہلی کون سی ویڈیو تھی جو سب سے ذیادہ وائرل ہوئی تاہم ان کی ہزاروں ویڈیوز وائرل ہوئیں اور انہیں بہت جلد مقبولیت ملی، انکامکہنانتھا کہ انہیں پاکستان میں ٹی وی اسکرین پر ’ٹک ٹاک‘ کو متعارف کرانے پر فخر ہے، آج ٹی وی پر اس ایپ کی وجہ سے جو بھی باتیں ہوتی ہیں، وہ ان کی وجہ سے ہے۔ حریم نے بتایا کہ ’ٹک ٹاک‘ میں کوئی برائی یا خرابی نہیں، لیکن اصل مسلہ اسے استعمال کرنے والوں میں ہے۔ غیر تعلیم یافتہ لوگ اس کے ذریعے جہالت پھیلاتے ہیں جبکہ پڑھے لکھے لوگ تعلیم پھیلا رہے ہیں۔
حریم نے ماہرہ خان، صبا قمر اور سجل علی کو اپنی پسندیدہ اداکارائیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ خود اتنی مشہور ہو چکی ہیں کہ کسی اداکار یا اداکارہ کے ساتھ ویڈیو یا تصویر بنانے کی خواہش باقی نہیں رہی ہے۔ٹک ٹاک سٹار نے بتایا کہ وہ شوہر سے کچھ نہیں لینا چاہیں گی جبکہ انہیں اپنی پوری زندگی دے سکتی ہیں اور یہ کہ وہ اپنے بچوں کو ہر چیز دیں گی، وہ انہیں موبائل فون سے بھی محروم نہیں رکھیں گی۔

Back to top button