حسینہ واجدکی بھارت کےشہریت ترمیمی قانون پرشدیدتنقید

بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نےبھارت کےشہریت کے متنازع قانون کوغیر ضروری قراردے دیا۔
خلیجی اخبارگلف نیوزکودیےگئےانٹرویومیں بنگلادیشی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سمجھ میں نہیں آیا کہ بھارتی حکومت نے ایسا کیوں کیا،اس قانون سے بھارت میں رہنے والے لوگوں کو مشکلات کاسامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا نیا شہریت کا قانون غیرضروری ہے جبکہ نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزن ایکٹ (این سی آر) کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کا اندورنی معاملہ ہے اورنریندرمودی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ این آرسی سے ان کے لوگ متاثر نہیں ہوں گے۔
یاد رہے کہ بھارت کا متنازع شہریت بل 11دسمبر2019 کوپارلیمنٹ سے منظورکیا گیا تھا جس کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیرمسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔ متنازع شہریت قانون سے قبل نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزن میں شہریوں کے اندراج کی آڑ میں بھارتی ریاست آسام میں 19 لاکھ سے زائد افراد کو شہریت سے محروم کیا جاچکا ہے ۔ ان افراد میں اکثریت بنگلا دیش سے آنے والوں کی ہے جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ،جو کہ بہترروزگار کے لیے گذشتہ کئی دہائیوں سے آسام میں آباد ہیں۔
خیال رہے کہ بھارت میں متنازع قانون کی منظوری کے بعد بنگلادیش نے حالیہ دنوں میں احتجاجاً بھارت کے اعلیٰ سطح کے دورے بھی منسوخ کیے ہیں۔ بھارت نے ریاست آسام میں مسلمانوں سمیت 19لاکھ افراد کو شہریت سے محروم کردیا۔ بھارت سے بڑے پیمانے پرمسلمانوں کی بنگلادیش کی جانب نقل مکانی کے خدشےکے پیش نظرسرحد پرسیکیورٹی بھی سخت کی گئی ہے۔
بنگلادیش کی 16کروڑآبادی میں ایک کروڑ کےقریب ہندو آباد ہیں تاہم اب تک وہاں سے کسی خاندان کی بھارت نقل مکانی کی کوئی خاص خبرنہیں آئی جب کہ بنگلا دیشی وزیراعظم کےمطابق بھارت سے بھی بنگلادیش میں ہجرت نہیں ہورہی تاہم بھارت کے شہری اس قانون کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ دوسری جانب بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جب کہ متعدد ریاستیں بھی اس قانون کو نافذ کرنے سے انکار کرچکی ہیں۔
