تیزرفتارکاربےقابوہوکرسمندرمیں جا گری، دوافرادجاں بحق

کراچی کےعلاقے ڈیفنس فیز8 میں تیزرفتاری کے باعث حادثے کا شکار ہونے والی کارسمندرمیں جاگری جس کے نتیجے میں کارسوار2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ درخشاں پولیس اسٹیشن کےعہدیداروں کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت 55 سالہ محمد افتخاراور20 سالہ دانیال عزیزکے نام سے ہوئی۔
پولیس کے مطابق جاں بحق محمد افتخار ڈیفنس فیز8 میں ایک میدان میں دانیال عزیزکوکارچلانا سکھا رہے تھے جہاں کاران کے قابوسےباہرہوگئی اورسمندرمیں جاگری۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اوررضاکارحادثےکی اطلاع ملتے ہی جائے وقوع پرپہنچ گئےاوردونوں افراد کو بچانےکی کوششیں کیں لیکن وہ ناکام ہوئے کیونکہ وہ کار کے اندرپھنسے ہوئےتھے۔ سینئرپولیس افسر کا کہنا تھا کہ دونوں افراد کوہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ راستےمیں ہی دم توڑ گئے۔
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹرڈاکٹرسیمی جمالی نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں افراد ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑگئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاشوں کو لواحقین کے حوالے کردیا گیا۔
یاد رہے کہ 18 نومبر 2018 کو کراچی کے علاقے سی ویومیں کم عمرکار ڈرائیور نے موٹرسائیکل کو ٹکرماری تھی جس کے نتیجےمیں سوار2 نوجوان جاں بحق ہوگئے تھے۔ ساحل پولیس کےافسر ہمرازکا کہنا تھا کہ خطرناک اندازمیں ڈرائیونگ کرنےوالامعیزعارف طالب علم ہےاورعمر صرف 17برس ہے جبکہ ان کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں تھا۔ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں 2 مارچ 2018 کو سابق صوبائی وزیرروبینہ قائم خانی کے نوجوان بیٹے بھی کارحادثے میں جاں بحق ہوئے تھے۔
ایس پی کلفٹن توقیرمحمد نعیم نےڈان کو بتایا تھا کہ روبینہ قائم خانی کا بیٹا ایک نوجوان کے ہمراہ پراڈو جیپ میں سوار تھا، جو ساحل سمندرکے لاقے میں تیزرفتاری کے باعث اچانک الٹ گئی جس کے نتیجے میں حمزہ قائم خانی جاں بحق اور افراسیاب زخمی ہو گئے تھے۔ خیال رہے کہ11 جنوری 2020 کو نیو کراچی میں چلتی گاڑی میں آگ لگنے سے تین بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق اور5 شدید زخمی ہو گئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button