حمزہ کے وزیر اعلیٰ بننے کے باوجود کابینہ کیوں نہیں بن پائی؟

حمزہ شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہونے کے ایک ماہ بعد بالآخر عدالتی حکم پر حلف اٹھانے میں کامیاب تو ہو گئے لیکن دس روز گزر جانے کے باوجود وہ اب تک اپنی کابینہ تشکیل نہیں دے پائے۔ پنجاب کابینہ بنانے میں تاخیر کی بڑی وجہ گورنر ہے کیونکہ اگر حمزہ اپنی کابینہ تشکیل دے بھی دیں تو گورنر حلف لینے سے انکاری ہو گا۔وفاقی حکومت نے عمرانڈو بریگیڈ سے تعلق رکھنے والی آئین شکن گورنر پنجاب عمر چیمہ کو ان کے عہدے سے ہٹا تو دیا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی قائم مقام گورنر بن گئے ہیں اور وہ بھی حلف لینے سے انکاری ہیں۔ یوں پنجاب کابینہ کی تشکیل مزید لٹک جانے کا امکان ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے 9 اور 10 مئی کی شب ایک گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹا تو دیا لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ صوبائی کابینہ کو حلف کیسے دلوایا جائے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے گورنر کی تعیناتی تک حمزہ شہباز اپنی کابینہ تشکیل نہیں دیں گے۔ لیکن نیا گورنر تعینات کرنے کے عمل میں بھی صدر عارف علوی رکاوٹیں ڈال سکتے ہیں۔ اس سے پہلے عارف علوی کی جانب سے گورنر پنجاب کو ہٹانے کی وزیر اعظم کی سمری مسترد کر دی گئی تھی۔ وزیر مملکت برائے قانون اعظم نذیر تارڑ کہتے ہیں کہ ’وفاقی حکومت ہر چیز قانون کے مطابق کر رہی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ صدر نے دو مرتبہ گورنر ہٹانے کی سمری مسترد کی تاہم آئینی طریقہ کار اور رولز کے تحت دو مرتبہ صدر کی جانب سے سمری مسترد کیے جانے پر وفاقی حکومت خود گورنر کو ہٹا سکتی ہے اور اب ایسا ہی کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رولز میں دنوں کی قید ضرور ہے۔ دو سمریاں ارسال کیے جانے کے 10 دن تک صدر کے پاس وقت ہوتا ہے کہ وہ منظور یا مسترد کرے جس کے بعد وفاقی حکومت فیصلہ لینے کی مجاز ہوتی ہے۔
آئینی ماہرین کے مطابق وفاقی حکومت نے گورنر کو ہٹا تو دیا ہے لیکن نیا گورنر لگانے کے لیے ایک مرتبہ پھر سمری صدر مملکت کو ہی بھیجنا ہوگی۔ موجودہ حالات میں ایسا نہیں لگتا کہ یہ کام آسانی سے ہو پائے گا۔ امید یہی کی جا رہی ہے کہ عارف علوی وفاقی حکومت کی جانب سے عمر چیمہ کو بطور گورنر ہٹانے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ ہی نیا گورنر تعینات کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ یوں معاملہ ایک مرتبہ پھر عدالتوں میں جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمی ٰبخاری کے بقول کابینہ کی فہرست مکمل ہے، صرف گورنر کی تبدیلی کے عمل کا انتظار کیا جا رہا تھا اور اب جلد ہی پنجاب کی کابینہ کا اعلان کر دیا جائے گا۔ انہوں نے اس سیاسی بحران کی ذمہ داری تحریک انصاف پر عائد کی ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کی طرف سے عمر سرفراز چیمہ کو بطور گورنر ہٹانے کے بعد ان کے گورنر ہاؤس میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی۔ گورنر ہاؤس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور عمر سرفراز چیمہ کو دیا گیا سرکاری پروٹوکول بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ گورنر ہاؤس انتظامیہ کے مطابق وہ رات گورنر ہاؤس میں موجود نہیں تھے اور اب انہیں گورنر ہاؤس میں داخل بھی نہیں ہونے دیا جائے گا۔
دوسری جانب بتایا جا رہا ہے کہ حمزہ شہباز کو نئی کابینہ تشکیل دینے میں بھی دشواریوں کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ مرکز کی طرز پر پنجاب میں بھی مسلم لیگ ن نے اپنی کم نشستوں کو اکثریت میں تبدیل کرنے کے لیے اتحادیوں کا سہارا لیا تھا اس لیے وزارتوں میں بھی انہیں بھی حصہ دینا ہے۔ یہ کام بھی فارمولے کے تحت کیا جانا ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما مخدوم عثمان محمود کے مطابق صوبائی کابینہ بھی مرکزی قیادت اور وزیر اعظم کے ساتھ مل کر طے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی، مخدوم احمد محمود اور قمر الزماں کائرہ وزیراعظم شہباز شریف سے مل کر پنجاب کابینہ تشکیل دے رہے ہیں اس معاملے میں پنجاب کے ارکین اسمبلی اپنی قیادت کی ہدایات کے منتظر ہیں۔ لیگی رہنما عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں کی قیادت ہمارا ساتھ دینے والے دھڑوں سمیت اپنے پارٹی اراکین کو وزارت کے لیے نامزد کر رہی ہے۔ اس معاملے کو بھی پہلے کی طرح خوش اسلوبی سے نمٹایا جارہا ہے۔
