قائد سےملاقات کیلئے وزیراعظم وفد کیساتھ لندن جار ہے ہیں

وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نجی دورے پر پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کیلئے وفد کے ساتھ لندن جار ہے ہیں،سیاسی جماعتوں میں مشاورت کا عمل جاری رہتا ہے، ہم وہ کام کریں گے جو پاکستان اور عوام کے حق میں بہتر ہو۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھاکہ آئین شکنی کی مرتکب پی ٹی آئی غنڈہ گردی کر رہی ہے، پی ٹی آئی میں مشاورت نہیں ہوتی، وہاں صرف ایک شخص کی بات سنی جاتی ہے، ان کی پارٹی میں ایک شخص کی ضد، تکبر اور فیصلہ سازی کے ذریعے معاملات چلائے جاتے ہیں اور اسی شخص کے حکم پر ملک میں آئین شکنی بھی کی گئی،ایک شخص کے حکم کے اوپر 3 اپریل سے آئینی عہدیدار صدر مملکت، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور گورنر پنجاب آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور ان عہدوں کے اختیارات کا ناجائز استعمال آئین پاکستان پر حملہ ہے، اس آئین شکنی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا ایک تو آئین شکنی کی جارہی ہے اوپر سے غنڈہ گردی بھی کی جارہی ہے، اس سلسلے میں وزارت قانون کو ہدایت کردی گئی ہے کہ اس طرح کی آئین شکنی کا سد باب کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ کبھی کسی کو آئین پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہو۔

انکاکہناتھا وفاقی حکومت حنیف عباسی کی تعیناتی کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے نوٹس کا جواب جمع کرائے گی، حنیف عباسی ضمانت پر ہیں اور عدالت کے نوٹس کا سیاق و سباق کے ساتھ جواب تیار کیا جا رہا ہے جو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ تین اشیائے ضروریہ چینی، آٹا اور گھی کی قیمتوں پر نظر رکھنےکے لیے وزیراعظم نے ایک مانیٹرنگ میکینزم بنا دیا ہے اور صوبوں سے بھی اس سلسلے میں مکمل رابطہ ہے۔
انہوں نے کہا وزیراعظم شہباز شریف بہت جلد قوم سے خطاب کریں گے اور تمام حقائق و حکومتی اقدامات اور منصوبوں سے قوم کو آگاہ کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف جلد قوم کو گزشتہ حکومت کے کارناموں سےآگاہ کریں گے اور قوم کے سامنے پی ٹی آئی حکومت کا نامہ اعمال پیش کریں گے۔

مریم اورنگزیب نے کہا اگرپی ٹی آئی حکومت کے پاس اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے کچھ ہوتا تو آج عمران خان کو جھوٹا سازشی خط دکھانے کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن کیونکہ عمران خان کی کارکردگی کا صفحہ خالی ہے اس لیے وہ یہ جھوٹا سازشی خط لہرا رہے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ آج وفاقی کابینہ میں متعدد فیصلے کیے گئے، عوام کو ریلیف دینا ترجیح ہے، کابینہ اجلاس میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق جامع حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی، کابینہ نے جی ڈی آئی بی فواد اسد اللہ خان کو تعینات کرنے کی منظوری دی ہے جبکہ چیئرمین واپڈا مزمل حسین کا استعفیٰ منظور کرلیا گیا ہے اور ممبر فنانس کو ایڈیشنل چارج دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کو وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب پر بریفنگ دی گئی اور وزیر اعظم نے دورے پر کابینہ کو اعتماد میں لیا۔

انکا کہناتھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے گندم کی فصل کے لیے کسانوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، کھاد کی فراہمی نہیں کی گئی، جس کے باعث ملک میں گندم کی موجودہ صورتحال ہے اور کابینہ نے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمد کی اجازت دی ہے، آئندہ فصل کے دوران کسانوں کو ریلیف دیا جائےگا اور ملک کو گندم برآمد کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔

مریم اورنگزیب نے کہاکابینہ نے ایک سے زائد پاسپورٹ کی موجودگی کی صوورت میں انہیں منسوخ کرنے کی منظوری دی ہے اور آئندہ دو پاسپورٹ جاری ہونے کے عمل کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، دو پاسپورٹ کی منسوخی کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2022 ہوگی، کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے آٹے اور چینی کے ریٹس سے متعلق عوام کو دیے گئے ریلیف پیکج کی منظوری بھی دی ہے اور چینی کی قیمت ستر روپے کلو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کابینہ نے محمد مسعود کو ممبر پاکستان آرڈیننس فیکٹری اور ایڈمرل (ر) سلمان الیاس کو شپ یارڈ انجینئرنگ ورکس کے ڈائریکٹر کے طور پر تعینات کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔کابینہ نے ملک سے چینی برآمد کرنے پر پابندی عائد کرنے منظوری دے دی ہے، ماضی میں چینی امپورٹ کرکے ملک میں چینی کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی، چینی کی برآمدات پر پابندی لگانے کا مقصد چینی کی قیمت اور قلت پر قابو پانا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے آج گورنر پنجاب کے طرز عمل پر تفصیلی گفتگو کی اور کابینہ نے وزیراعظم کی گورنر پنجاب کو بر طرف کرنے کے فیصلے کی منظوری دے دی ہے،وفاقی کابینہ نے گورنر پنجاب اور صدر مملکت کی جانب سے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کیے گئے آئین شکن اقدامات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، کچھ لوگ آئین سے ماورا اقدامات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کچھ آئینی افراد آئین سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر خرم دستگیر نے اس موقع پر لوڈشیڈنگ سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ31 مئی 2018 میں ن لیگ کی حکومت کے دوران ملک میں صفر لوڈشیڈنگ تھی،گزشتہ 4 سال کے دوران عذاب عمرانی ملک پر مسلط تھا، جب میں نے وزارت سنبھالی تو اس وقت ملک میں 8 سے 12 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جارہی تھی اور 7 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی بنانے کے پلانٹ بند تھے، عمران خان کے دور حکومت میں ان کی نا اہلی کی وجہ سے پاور پلانٹس بند تھے جس کے باعث پاکستان کے عوام لوڈشیڈنگ کا عذاب بھگت رہے تھے۔

انہوں نے کہاوزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ یکم مئی سے ملک میں لوڈشیڈنگ ختم کردی جائے گی اور اللہ کا شکر ہے کہ یکم مئی سے اب تک ملک میں لوڈشیڈنگ صفر ہے،آج ملک میں بجلی کی پیداوار 22 ہزار 634 میگا واٹ ہے اور پورے ملک کے کسی حصے میں کوئی لوڈشیڈنگ نہیں ہے،گزشتہ دنوں جب میں نے یہاں عاجزی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ پورے ملک میں اب کہیں لوڈشیڈنگ نہیں ہے تو کئی لوگوں نے کہا خرم دستگیر دعویٰ کر رہے ہیں کہ لوڈشیڈنگ نہیں جبکہ ہمارے علاقے میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

Back to top button