حملہ کیس کی FIR پر عمران اور پرویز الہٰی میں اختلاف

سابق وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کے مابین وزیر آباد حملہ کیس کی ایف آئی آر درج کرانے پر اختلافات کی وجہ سے اس واقعے کا مقدمہ ابھی تک درج نہیں ہو پایا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمران خان ایف آئی آر میں وزیر اعظم شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ خان کے علاوہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس میجر جنرل فیصل نصیر کا نام بھی شامل کروانا چاہتے ہیں لیکن پرویز الہٰی ایسا کرنے کو تیار نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کا موقف ہے کہ جب نوید احمد نامی حملہ آور نے ایک واضح اقبالی بیان میں تسلیم کر لیا ہے کہ حملہ اس نے خود کیا اور اس میں کسی اور کا کوئی کردار نہیں تو پھر ایف آئی آر میں آئی ایس آئی کے سینئر افسر کا نام شامل کرنے کی کوئی تک نہیں بنتی۔ پرویز الٰہی کا موقف ہے کہ حملہ آور ایک مذہبی جنونی ہے اور پولیس تفتیش میں بھی ثابت ہوگیا ہے کہ اسے کسی نے استعمال نہیں کیا۔
دوسری جانب عمران خان وزیرآباد حملے کو سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اور یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ حملے میں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے علاوہ میجر جنرل فیصل نصیر کا بھی مرکزی کردار تھا۔ یاد رہے کہ فیصل نصیر اس وقت ڈی جی سی ہیں اور عمران اس سے پہلے انہیں ‘ڈرٹی ہیری’ کے نام سے پکارتے رہے ہیں۔ چار نومبر کو بھی شوکت خانم ہسپتال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران نے فیصل نصیر پر اپنا الزام دہرایا اور جنرل قمر باجوہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں ان کے عہدے سے برطرف کرکے کارروائی کا آغاز کیا جائے تا کہ فوج کی شان میں اضافہ ہو سکے۔
تاہم دوسری جانب سے فوجی ترجمان نے عمران کو بھرپور جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج ڈٹ کر اپنے افسران کے ساتھ کھڑی ہے اور عمران خان کی جانب سے ایک اعلیٰ فوجی افسر کے خلاف بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ الزامات کو سختی سے رد کرتے ہے۔ آئی ایس پی آر ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے فضول الزامات لگا کر فوجی افسران اور سپاہیوں کی عزت، حفاظت اور وقار کو داغدار کیا جاتا ہے تو کچھ بھی ہو جائے، فوج افسران اور سپاہیوں کی ڈٹ کر حفاظت کرے گی۔
تاہم اسی چپقلش میں عمران خان کے کنٹینر پر حملے کا مقدمہ درج نہیں ہوسکا ہے۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چوہدری پرویز الہی کا سارا سیاسی کیریئر ہی فوج کا مرہون منت ہے اور وہ کسی بھی صورت آئی ایس آئی اور فوج کے ادارے کو ناراض نہیں کر سکتے چاہے انہیں عمران خان کو ناراض کرنا پڑ جائے۔ 4 نومبر کو شوکت خانم ہسپتال میں پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے بھی ایف آئی آر پر پرویز الہی کے ساتھ اختلافات کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں لیکن کوئی واقعے کی ایف آئی آر درج نہیں کر رہا کیونکہ سب ڈرے ہوئے ہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ ان پر بھی سلمان تاثیر کی طرح توہین اسلام کا الزام لگا کر قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 4 لوگوں نے بند کمرے میں مجھے مروانے کا فیصلہ کیا، لیکن میں نے ویڈیو بنا کر رکھی ہے، مجھے کچھ ہوا تو وہ پبلک ہو جائیں گی۔
