حکمرانوں کی غیر سنجیدگی سے ملک بحرانوں سے دوچار ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وفاق میں بیٹھے لوگ سیاسی ادراک اور سمجھ بوجھ نہیں رکھتے، ہر بحران کو مزید گہرا کر دیتے ہیں. حکومت نے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کیا تو خوفناک صورتحال جنم لے سکتی ہے۔
مختلف پارٹی رہنماؤں سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے سابق صدرنے کہا کہ وفاق میں بیٹھے لوگ سیاسی ادراک نہیں رکھتے، ہر بحران کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو مضبوط بنانے کی بجائے انہیں مزید کمزور کررہی ہے، یہ نہ آئین کو مانتے ہیں نہ کسی اصول کو بلکہ ہر چیز توڑ پھوڑ دینا چاہتے ہیں۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ حکومت نے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کیا تو خوفناک صورتحال جنم لے سکتی ہے۔ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے پیپلز پارٹی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر اکبر بگٹی جیسا کوئی دوسرا واقعہ ہو گیا تو حالات کو سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جیالے متحد رہیں جلد اچھا وقت آنے والا ہے، ریاست کو بلوچستان میں اب زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ 2008 کے الیکشن میں بلوچستان کی تمام قوم پرست جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا، ہم نے انہیں قومی دھارے میں لانے کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔ موجودہ حالات میں حکومت نے عوام کیلئے کچھ نہ کیا تو خوفناک صورتحال جنم لے سکتی ہے۔ قمز زمان کائرہ اور چودھری منظور سے پارٹی امور سے متعلق گفتگو میں آصف زرداری نے کہا کہ پنجاب میں جیالے متحد رہیں، جلد اچھا وقت آنے والا ہے، مقدمات کا کوئی خوف نہیں، پہلےبھی عدالتوں میں مقابلہ کیا اب بھی کریں گے۔
شریک چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ 2008 کےعالمی بحران میں کسانوں، مزدوروں کو سپورٹ کیا، ہمارے سپورٹ پروگرامز سے ملکی معیشت واپس آئی، ٹڈی دل کی ایک سال پہلےوارننگ دی تھی لیکن حکمرانوں کو سمجھ نہیں آئی، ہم گندم، چینی، کپاس باہر بھجوا رہے تھے اور موجودہ حکمران درآمد کر رہے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ مقدمات کا سامنا پہلے بھی کیا تھا اب بھی کریں گے خوفزدہ نہیں ہیں ، حکومت نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا ، صورتحال خوفنا ک ہوسکتی ہے. ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے 2008 کے عالمی بحران میں کسانوں اور مزدوروں کو سپورٹ کیا، کسانوں اور محنت کشوں کے لیے سپورٹ پروگرامز سے ملکی معیشت واپس آئی۔
سابق صدر مملکت نے پنجاب کے رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ٹڈی دل کی سال پہلے وارننگ دی تھی لیکن ان کو سمجھ ہی نہیں آئی تھی، ٹڈی دل سے کسان کو اور ملک کو جو نقصان ہوگا وہ کئی سالوں تک پورا نہیں ہوسکے گا۔انہوں نے کہا کہ دو سیلابوں کے باوجود ہم نے خوراک کی کمی نہیں ہونے دی لیکن آج خوراک کی شدید قلت کا خطرہ ہے، ہم گندم، چینی اور کپاس کو برآمد کر رہے تھے اور یہ درآمد کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم نے وفاق کو جوڑا اور این ایف سی ایوارڈ نے اس کو اورمضبوط کیا، حکمران نہ آئین، نہ کسی اصول اور نہ ہی کسی تہذیب کو مانتے ہیں بلکہ ہر چیز توڑ پھوڑ دینا چاہتے ہیں۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ میں نے بلوچستان سے معافی مانگ کر کوئی ذاتی جرم نہیں کیا تھا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں واپس لانا میری ذمہ داری ہے۔
سابق صدر نے سینئر رہنماؤں سے گفتگو میں مزید کہا کہ آج اگر اختر مینگل سے بات کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں موجود ہیں اور پیپلز پارٹی آج بھی بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے البتہ شرط یہ ہے کہ بلوچ نوجوان مسلح جدوجہد ترک کر کے سیاسی جدوجہد میں واپس آئیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کو بھی بلوچستان میں اب زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر اکبربگٹی جیسا کوئی دوسرا واقعہ ہوگیا تو حالات کو سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔
یاد رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید تھے، انہیں 11 جون 2019 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد نیب کی ٹیم نے گرفتار کیا تھا۔23 اکتوبر کو طبیعت ناساز ہونے پر انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد منتقل کیا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سابق صدر کی طبی بنیادوں پر ضمانت کے لیے درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی جس پر 11 دسمبر کو عدالت نے آصف زرداری کی ضمانت ایک کروڑ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی تھی۔ضمانت منظور ہونے کے بعد آصف زرداری کو 13 دسمبر کو خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا تھا جس کے بعد وہ 14 دسمبر سے نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔سابق صدر آصف علی زرداری آج کل بیمار ہیں اور گزشتہ دنوں ان کی صحت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف افواہیں بھی زیر گردش رہیں جس کی پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے تردید کی گئی۔
