حکومتی اتحاد کے تین درجن اراکین نے پرویز الہٰی کا ساتھ چھوڑ دیا

پی ڈی ایم ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی اور قاف لیگ کے حمایتی 199 میں سے کم از کم تین درجن اراکین کا اعتماد کھو چکے ہیں اور اسی لئے انہوں نے گورنر کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کے حکم نامے پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے درجنوں اراکین نے پنجاب اسمبلی توڑنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی میں قاف لیگ کے دس اراکین میں سے چھ کے باغی ہوکر چوہدری شجاعت حسین کے ساتھ مل جانے کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔
چنانچہ حکومتی اتحاد نے فیصلہ کیا کہ پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے امتحان میں نہ ڈالا جائے اور اسی لئے سپیکر نے گورنر کے حکم پر اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے اسمبلی کا اجلاس بلانے سے انکار کیا ہے تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ ہر صورت ختم ہو جائے گی چونکہ اگر وہ اعتماد کا ووٹ نہیں لیتے تو آئین کے مطابق 22 دسمبر کی رات بارہ بجے کے بعد وہ اپنے عہدے سے محروم ہو جائیں گے۔ دوسری جانب پرویز الٰہی کو تحریک عدم اعتماد کا بھی سامنا ہے اور اگر وہ واقعی اپنے اتحادی اراکین کا اعتماد کھو چکے ہیں تو ان کا عہدے پر برقرار رہنا ممکن نظر نہیں آتا۔ ذرائع اس امکان کو بھی رد نہیں کرتے کہ پرویز الہی ہیں خود کو وزارت اعلیٰ سے محروم ہوتا دیکھ کر بالآخر عمران خان کا ساتھ چھوڑ دیں اور پی ڈی ایم اتحاد کی جانب سے سپیکر پنجاب اسمبلی بننے پر راضی ہو جائیں۔
پنجاب میں ایک مرتبہ پھر سیاسی جوڑ توڑ کا موسم ہے۔ آخری مرتبہ لگ بھگ تین ماہ قبل مسلم لیگ ن، اس کی اتحادی جماعتوں اور تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے درمیان سیاسی رسہ کشی نظر آئی تھی۔ اس وقت پی ٹی آئی پنجاب میں اپنی جماعت کی حکومت قائم رکھنے کی تگ و دو میں تھی اور ن لیگ اس سے حکومت چھیننے کی کوشش کر رہی تھی۔ ابتدائی ناکامی، عدالتی جنگوں اور ضمنی انتخابات کے بعد عمران کی جماعت سیاسی اعتبار سے اہم صوبے پنجاب میں حکومت قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئی۔ ان کے اتحادی ق لیگ کے چوہدری پرویز الٰہی نے ان کا ساتھ دیا اور بدلے میں پنجاب کے وزیرِاعلیٰ بن گئے۔ تاہم اس مرتبہ پی ٹی آئی پنجاب میں اپنی ہی حکومت ختم کرنے کے لیے تیار ہے لیکن وہ اس کو یوں بھی نہیں چاہتی کہ پنجاب کی باگ ڈور کسی دوسرے کے ہاتھ منتقل ہو۔ وہ موجودہ اسمبلی ہی ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ نئے انتخابات کروائے جائیں۔
دوسری جانب حزبِ اختلاف کی جماعتیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کو اسمبلی تحلیل کرنے سے روکنا چاہتی ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان اعلان کر چکے ہیں کہ 23 دسمبر کو پنجاب اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی۔ اس تناظر میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے پنجاب اسمبلی میں وزیرِاعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کروا دی ہے۔ ساتھ ہی گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیرِاعلیٰ کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی ہے۔ اپنے ہدایت نامے میں گورنر نے بدھ کے روز چار بجے اسمبلی کا اجلاس بلا کر وزیراعلیٰ کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا ہے یعنی انھیں یہ ظاہر کرنا ہو گا کہ انھیں اسمبلی کے 186 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان کے خیال میں گورنر کی ہدایت ’قانونی اور آئینی نہیں۔‘ اپنی رولنگ میں ان کا مؤقف ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس پہلے ہی چل رہا ہے اس لیے ایک چلتے ہوئے اجلاس میں نیا اجلاس کیسے بلایا جا سکتا ہے۔ منگل کے روز بھی انھوں نے اجلاس کی کارروائی کو جمعے کے روز تک مؤخر کیا لیکن اجلاس کو ختم نہیں کیا۔
اس صورتحال نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اگر گورنر کی ہدایت کے مطابق اجلاس بلا کر اعتماد کا ووٹ نہیں لیا جاتا تو کیا ہوگا؟ اور اگر اجلاس نہیں ہوتا تو کیا وزیرِاعلیٰ اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھجوا سکتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع ہو چکی ہے؟ دوسری صورت میں اگر گورنر کی ہدایت پر اعتماد کا ووٹ لیا جاتا ہے اور وزیرِاعلٰی ایوان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیا تحریکِ عدم اعتماد ختم ہو جائے گی؟ اور اگر ایسا ہے تو حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے لگ بھگ ایک ہی نوعیت کی دو تحریکیں ایک وقت میں لانے کی حکمتِ عملی کیوں اپنائی؟
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کا مقصد پنجاب اسمبلی کو تحلیل ہونے سے بچانا ہے جبکہ اعتماد کا ووٹ لینے کے حکم کا بنیادی مقصد پرویز الہی کو فارغ کرنا ہے۔ گورنر کی ہدایت پر وزیراعلٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی صورت میں یہ وزیرِ اعلٰی کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ 186 ممبران کی حمایت ثابت کریں۔ جبکہ حزبِ اختلاف کی طرف سے لائی گئی عدم اعتماد کی تحریک کی صورت میں یہ حزبِ اختلاف کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وزیراعلٰی کو 186 اراکین کی حمایت حاصل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ایوان میں حکومتی جماعت کو بظاہر عددی برتری حاصل ہے لیکن تحریکِ عدم لانے والی حزبِ اختلاف یہ سمجھتی ہے کہ حکومتی جماعت کے تین درجن اراکین اب ان کے ساتھ نہیں اور اسی لیے پرویزالہی اعتماد کا ووٹ لینے سے بھاگ رہے ہیں۔
اسی لیے ایک خیال یہ بھی ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں عدم اعتماد کی تحریک کے ساتھ گورنر کے ذریعے اعتماد کے ووٹ کی تحریک اس لیے بھی لائی کہ اس میں ان کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کرنا ممکن ہوگا۔یعنی وہ حکومتی اتحاد کے چند ممبران کی خفیہ حمایت حاصل کر لیں اور وہ ممبران ووٹنگ کے دوران غیر حاضر ہو جائیں تو اس طرح وہ وزیراعلٰی کو اعتماد کے ووٹ میں شکست دلوا سکتے ہیں۔آئینی ماہر حامد خان کہتے ہیں کہ ’حزب اختلاف کی طرف سے اس چال کا بظاہر یہی مقصد نظر آ رہا ہے۔ان کے خیال میں معاملہ عدالت میں جانے سے حزبِ اختلاف کو یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کو معاملہ مزید آگے چلا جائے گا۔
صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ حکومتی جماعت کی طرف سے اعتماد کا نہ کروانے کی بظاہر وجہ یہ نظر آتی ہے کہ ’اس میں انھیں اپنا نمبر پورا کرنا ہو گا اور اگر وہ اس سے بھاگ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے انھیں خوف ہے کہ ان کے نمبر پورے نہیں۔‘ ایسے میں پرویز الہی کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا مشکل نظر آتا ہے۔
