صوبائی اسمبلی اجلاس پر پنجاب میں نئے آئینی بحران کا خدشہ

صوبہ پنجاب میں ایک مرتبہ پھر آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، وزیراعلٰی پرویز الہیٰ کے اسمبلی سے اعتماد کے ووٹ لینے کے معاملے پر جاری سیاسی تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے وزیرِ اعلیٰ پرویز الٰہی کو بدھ کی شام چار بجے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ رکھا ہے۔ اس سلسلے میں اُنہوں نے خصوصی طور پر اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ہدایت بھی کی ہے۔ جسے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے غیر قانونی اور آئین کی شقوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

گورنر پنجاب نے اسمبلی کا اجلاس بدھ کو طلب کرتے ہوئے 19 دسمبر کو وزیرِ اعلیٰ کو ارکان سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے خط لکھا تھا جب کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کہتے ہیں کہ اسمبلی کا رواں اجلاس 23 اکتوبر سے جاری ہے اس لیے جب تک یہ اجلاس ختم نہیں ہو جاتا اس وقت تک کوئی نیا اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔

گورنر پنجاب کے خط کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے دوران سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔وزیرِ اعلی چوہدری پرویزالٰہی نے مسلم لیگ (ق)کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔ اجلاس وزیر اعلی آفس میں ہو گا جس میں آئندہ کی حکمتِ عملی طے کی جائے گی۔مبصرین کا خیال ہے کہ پنجاب کی سیاست میں کا موجودہ بحران ایک مرتبہ پھر عدالت میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

Back to top button