پرویز الٰہی کا وزارت اعلی پر برقرار رہنا نا ممکن کیوں ہے؟

آئینی اور قانونی ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی گورنر کی ہدایت کے مطابق 21 دسمبر کو پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کرتے تو وہ رات بارہ بجے کے بعد آئین کے مطابق وزارت اعلیٰ سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئین پاکستان میں ایسی کوئی شق موجود نہیں کہ اسمبلی کا اجلاس جاری ہو تو گورنر صوبے کے وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے نہیں کہہ سکتے۔ آئینی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پرویز الٰہی وزارت اعلیٰ سے اپنی فراغت کو عدالت میں چیلنج کریں گے تو وہاں سے بھی گورنر کے حق میں ہی فیصلہ آئے گا چونکہ عدلیہ آئین کے خلاف نہیں جا سکتی لہٰذا پرویز الٰہی بہر صورت اپنے عہدے سے محروم ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر کی جانب سے اعتماد کے ووٹ کا حکم غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسمبلی اجلاس ملتوی کر دیا ہے تاکہ 21 دسمبر کو کوئی کاروائی نہ ہو سکے۔ سپیکر نے پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ لینے سے بچانے کے لیے نیا اجلاس بلانے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ میں گورنر ہنجاب کے طلب کردہ اجلاس کو درست نہیں سمجھتا، کیونکہ اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہو تو نیا اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔ تاہم آئینی اور قانونی ماہرین سپیکر کے موقف کو سراسر غلط قرار دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر اس توجیح کو درست مان لیا جائے تو پھر کبھی کوئی گورنر کسی وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے نہیں کہہ سکے گا۔

دوسری جانب وزیر داخلہ رانا ثنا نے کہا ہے کہ پرویزالٰہی نے اگر آج اعتماد کا ووٹ نہ لیا تو وزیراعلیٰ ہاؤس سیل کر دینگے، اسکے علاوہ اجلاس نہ بلانے پر گورنر نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا اعلان کر سکتے ہیں، دوسری جانب تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے خیبرپختونخوا اور پنجاب اسمبلی توڑنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ تاہم آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد وہ اسمبلی توڑنے کے اختیار سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے آئینی ماہرین سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے باوجود انہوں نے صدر کو اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دی تھی اور صدر نے اسمبلی توڑ دی تھی۔ لیکن سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر اس عمل کو غیر قانونی قرار دے کر قومی اسمبلی کو بحال کر دیا تھا۔

وفاقی کابینہ کے رکن عرفان قادر نے رولز آف پروسیجر آف پنجاب اسمبلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رول 33 اے کے مطابق حکومت ایک سالانہ کیلنڈر سپیکر کو فراہم کرنے کی پابند ہے جس میں صوبائی اسمبلی کے سیشنز کو طلب کرنے کا شیڈول دیا گیا ہے لیکن اس رول کے ضمنی رولز چار تین کے مطابق گورنر اس شیڈول کے علاوہ بھی جب چاہے صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا مجاز ہے اور اس سالانہ کیلنڈر میں دیا گیا شیڈول سپیکر کے ان اختیارات کو کسی طور پر محدود نہیں کرتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آئین کا آرٹیکل 130 بہت واضح صورت حال پیش کرتا ہے، جس کے مطابق صوبائی گورنر کا یہ آئینی اختیار ہے کہ وہ جب بھی اس امر کا اطمیان کرلیں کہ وزیراعلیٰ صوبائی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکا ہے تو وہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس صرف اس مخصوص مقصد کیلئے طلب کرے گا کہ وزیراعلیٰ صوبائی اسمبلی اس سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر سکے۔ لہذا عرفان قادر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو ہر صورت اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا ورنہ وہ اپنے عہدے سے فارغ ہو جائیں گے۔

پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے کہا ہے کہ گورنر اسمبلی کو سمن کردے تو وزیراعلیٰ کیلئے اعتماد کا ووٹ لینا لازمی ہوجاتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر کا یہ موقف درست نہیں کے اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر اس موقف کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر کوئی بھی وزیراعلیٰ اعتماد کے ووٹ سے بچنے کے لیے پانچ برس تک اسمبلی سیشن چلا سکتا ہے۔ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ایک غلط تعبیر کی بنیاد پر پچھلے 57 دن سے مسلسل پنجاب اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، کیونکہ وزیراعلیٰ سمجھتے ہیں کہ اگر اجلاس جاری رہے گا تو گورنر انہیں اعتماد کے ووٹ کیلئے نہیں کہہ سکے گا، لیکن آئینی صورت حال یہ ہے کہ اگر پرویز الٰہی نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا تو سمجھا جائے گا کہ ان کے پاس اکثریت نہیں ہے اور یوں وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے۔

اس معاملے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک احمد خان نے کہا کہ گورنر نے وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے سمن جاری کیا ہے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس پہلے ہی جاری ہے اس صورت میں سمن خودبخود لاگو ہوجاتا ہے، وزیراعلیٰ اور سپیکر نے اعتماد کے ووٹ کیلئے گورنر کی ہدایت کی تعمیل کرنی ہے، کل اعتماد کا ووٹ لینا وزیراعلیٰ پنجاب کی ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ نے اعتماد کا ووٹ لینے سے گریز کیا تو سمجھا جائے گا وہ اکثریت کھو بیٹھے ہیں۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے سب سے مضبوط امیدوار ملک احمد خان کا کہنا یے کہ گورنر نے وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے سمن جاری کیا ہے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس پہلے ہی جاری ہے اس صورت میں سمن خودبخود لاگو ہوجاتا ہے، لہٰذا اگر پرویز الہٰی اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کرتے تو وہ رات بارہ بجے کے بعد اپنے عہدے سے محروم ہو جائیں گے۔ ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ہی ٹی آئی کی جانب سے منظور وٹو کیس کا حوالہ دیا جا رہا ہے جس کا پس منظر مختلف تھا۔

تب پنجاب اسمبلی کا اجلاس جاری نہیں تھا اسلیے سپیشل سیشن کال کرنے کیلئے کہا گیا تھا، لیکن موجودہ صورت حال میں اسمبلی سیشن جاری ہے اور تمام ممبران موجود ہیں، لیکن پھر بھی وزیراعلیٰ پنجاب نے اعتماد کا ووٹ لینے سے بچنے کیلئے اجلاس موخر کروا دیا۔ انکا کہنا تھا کہ اگر پرویز الٰہی کو 186 ارکان ہنجاب اسمبلی کی حمایت حاصل ہے تو اسے ایوان میں ثابت کیوں نہیں کرتے؟ انکے بقول پرویز الٰہی کے پاس مطلوبہ ارکان کی حمایت ہوتی تو وہ سپیکر کی رولنگ کا سہارا نہ لیتے۔

اس معاملے پر سابق جج اور ماہر قانون جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی نے اعتمادکا ووٹ نہیں لیا تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے اور گورنر ان کی فراغت کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے پابند ہیں، لیکن گورنر پرویز الٰہی کو نئے وزیراعلیٰ کی تقرری تک بطور وزیراعلیٰ کام جاری رکھنے کا کہہ سکتے ہیں، انکا کہنا تھا آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ اگر اسمبلی کا اجلاس جاری ہو تو گورنر وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے نہیں کہہ سکتے۔ ایسے میں پرویز الہٰی کا وزارت داخلہ پنجاب پر برقرار رہنا اب ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

Back to top button