حکومتی کرپشن، نااہلی اور ذخیر اندوزی آٹا بحران کی وجہ

کپتان حکومت کی نا تجربہ کار ٹیم کی بد انتظامیوں، نااہلی، ذخیرہ اندوزی اور کرپشن جیسے عناصر نے غریب عوام سے زندگی کی بنیادی ترین ضرورت یعنی آٹا بھی چھین لیا۔
ملک میں جاری شدید آٹے کے بحران کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما ہیں؟ یہ حیران کن اور تہلکہ خیز انکشاف ہوا ہے کہ اس بحران کے ہیچھے حکومتی شخصیات کی جانب سے کی گئی 500 ارب روپے سے زائد کی کرپشن اور منافع خوری کار فرما ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق کہ ہر پاکستانی کے آٹے کی سالانہ ضرورت 125 کلو ہے اور اس حساب سے ملک بھر کی گندم کی ضروریات 2 کروڑ 60 لاکھ ٹن سالانہ بنتی ہے جبکہ 50 روپے فی کلو کے حساب سے آٹے کی قیمت 13 کھرب روپے بنتی ہے اور 70 روپے کے حساب سے آٹے کی قیمت 18 کھرب 20 ارب روپے بنتی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ آٹے کے بحران کے نام پر قیمت میں اضافے سے حاصل ہونیوالے 520 ارب روپے کس کی جیب میں جائینگے؟ اور وہ کون سے عناصر ہیں جو اس منافع خوری میں ملوث ہیں۔
ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق آٹے بحران کی وجہ بننے والے اس وقت 2 عناصر ہی نظر آ رہے ہیں، ایک منافع خوری اور دوسرا حکومتی بد انتظامی جو اس سے پہلے بھی ہر حکومتی امور میں سامنے آتی رہی ہے۔ حکومت نے گزشتہ برس 6 لاکھ ٹن سے زائد گندم افغانستان ایکسپورٹ کی جس کی وجہ سے آٹے کا بحران پیدا ہوا ہے۔ فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے پاس گندم کی قلت تھی تو پھر حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی کہ ساڑھے 6 سے 7 لاکھ ٹن گندم ایکسپورٹ کر دی جائے۔ جبکہ ایکسپورٹ بھی تقریبا 30 روپے فی کلو پر کی گئی اور پاکستان عوام کو یہی آٹا اب 70 روپے کلو میں بھی میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرور کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی تو بہت منافع کما رہا ہے، ذخیرہ اندوزی کی جا رہی ہے اور دوسری طرف حکومتی بد انتظامی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت مزید بد انتظامی پیدا کرنے کا سوچ رہی ہے اور اب تجویز دی گئی ہے کہ بحران پر قابو پانے کیلئے گندم کو امپورٹ کر لیا جائے یعنی جو گندم گزشتہ برس 30 روپے کلو ایکسپورٹ کر کے ملک میں بحران پیدا کیا گیا اب وہی گندم پاکستان 50 سے 60 روپے کلو خریدے جس سے ملک کو ایکسپورٹ میں بھی نقصان اور امپورٹ میں بھی نقصان کا سامنا کرنا ہو گا۔
ڈاکٹر فرخ سلیم نے حکومتی فیصلہ سازوں پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ فیصلہ سازی کون کر رہا ہے، کون یہ دیکھ رہا ہے کہ جو بنیادی ترین خوراک ہے اس کو کیسے مینج کرنا ہے۔ یا شائد پھر حکومت کے پاس ان معاملات کو دیکھنے کیلئے کوئی بہتر آپشن موجود ہی نہیں ہے۔
ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاسکو نامی ادارے نے 60 سے 80 ارب کے قرضے لے رکھے ہیں، یہی ادارہ سپورٹ پرائس فکس کرتا ہے اور اسی نے گندم کی 1365 روپے فی 40 کلو گرام سپورٹ پرائس فکس کر رکھی ہے۔ حکومت کی طرف سے بتایا جا رہا تھا کہ پاکستان میں تقریبا 26 ملین ٹن گندم کی ضرورت ہو گی اور حکومت نے 27 ملین کا ہدف رکھا تھا۔ لہذا بڑی مستحکم پوزیشن لگ رہی تھی۔ تاہم اب کہا یہ جا رہا ہے کہ قلت اس لیے ہوئی ہے کہ گنفم کی ساڑھے 25 ملین ٹن پیداوار تھی، حکومت بتا رہی تھی کہ حکومت کے پاس 3 ملین ٹن یعنی 30 لاکھ ٹن ذخیرہ موجود ہے۔ حساب کے مطابق طلب سے کئی زیادہ رسد موجود تھی تو پھر اسکی قیمت نہیں بڑھنی چاہیے اور نہ ہی بحران پیدا ہونا چاہیے۔ اب اگر ایسا ہورہا ہے تو ضرور کہیں حکومتی سطح پر منافع خوری ہو رہی ہے۔
