صدر مملکت کی ملک میں آٹے کے بحران سے اظہار لا علمی

ملک میں جہاں آٹے کا شدید بحران جاری ہے . آٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اس بحران سے لاعلم ہیں۔
کراچی میں قومی ادارہ برائے امراض قلب کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ لوگوں کی حکومت اس دعوے کے ساتھ آئی تھی کہ ہم چیزیں سستی کریں گے مگر زندگی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ اس پر صدر مملکت نے جواب دیا کہ حالات بہتر ہوں گے ان دعووں سے پہلے ہمیں خزانے کی کیفیت کا اندازہ نہیں تھا لیکن اب خزانے کی کیفیت کا پتہ چلا کہ کیا کیفیت ہے۔
اسی دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ ملک میں آٹے کا بدترین بحران چل رہا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ تو اس پر صدر مملکت نے کہا کہ میرے خیال سے مجھے اس کا پتہ نہیں ہے لیکن پتہ ہونا چاہیے۔
دوسری جانب سندھ کے وزیراطلاعات سعید غنی نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں اس بات کی تعریف ہی کروں گا کہ اگر انہیں کسی چیز کا نہیں پتہ تو انہوں نے کہہ دیا۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے فردوس عاشق اعوان کی طرح ‘بونگی’ مارنے کی بجائے سچی بات کردی جو اچھی بات ہے. تاہم ان کا کہنا تھا کہ آٹے کا مسئلہ ایسا ہے جو ہرشخص کو پتہ ہے تو شاید سب کو پتہ ہونا چاہیے تھا۔
خیال رہے کہ ملک میں آٹے کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے اور مختلف صوبوں میں کہیں آٹا دستیاب نہیں اور کہیں اس کی قیمت عوام کی قوت خرید سے باہر ہے اور مختلف شہروں میں آٹا 70 روپے کلوسے زائد قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے.
اس بارے میں وفاق اور صوبے خاص طور پر سندھ کی حکومت بحران کی ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرارہی تو وہی حکومتی وزیر یہ دعویٰ کر رہے کہ یہ بحران منگل تک ختم ہوجائے گا۔ اسی تناظرمیں حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا ایک اجلاس بھی ہوا، جس میں بغیر ریگولیٹری ڈیوٹی کے 3 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کی اجازت دی گئی۔وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں 31 مارچ تک گندم کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے. اس کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت اور پاکستان ایگری کلچرل اسٹوریج اور سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو ہدایت کی گئی ہے کہ ملک بھر میں جاری قلت کو ختم کرنے کے لیے ذخیرہ کی گئی گندم کو جاری کریں۔
