حکومتی کنفیوژڈ اورغلط پالیسیوں سے ملک میں کرونا وائرس پھیلا

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کی حکومت کے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی کنفیوژڈ اورغلط پالیسیوں سے ملک میں کرونا وائرس پھیلا. وفاقی حکومت کا پیش کردہ بجٹ پاکستان کا بجٹ نہیں ہو سکتا اور یہ اس ملک کا بجٹ نہیں ہو سکتا جو کرونا کی وبا کا مقابلہ کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت کرونا سے ہر 15 منٹ بعد ایک شخص جان کی بازی ہار رہا ہے، تحریک انصاف نے ہر اس فیصلے کی مخالفت کی جو وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتے تھے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کی ہمت کیسے ہوئی اپنی غفلت اور نااہلی کا ذمہ دار عوام کو ٹھہرائیں،آپ کے فیصلوں کی وجہ سےکورونا وائرس زبردستی پھیلا،کیا آپ نے بجٹ میں کورونا سے نمٹنے کے لیے پیسہ رکھا ہے ؟ ڈاکٹرز،نرسز اور طبی عملے کو کیا آپ نے رسک الاؤنس دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اٹلی کے لوگ چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ جو غلطیاں ہم نے کیں آپ نہ کریں، نیوزی لینڈ کی مثال ہے بھرپور اقدامات کیے آج وہاں کوئی لوکل ٹرانسمیٹڈ کیس نہیں،ویتنام میں جلدی ایکشن لیا گیا اور وہاں کوروناوبا سے کوئی جاں بحق نہیں ہوا، سوئیڈن بھی کہہ رہا ہے کہ ہم سے غلطی ہوئی، وہاں زیادہ اموات اور معیشت کو نقصان ہوا، آج سوئیڈن آئسولیٹ ہے وہاں کے عوام دیگر ممالک نہیں جاسکتے،مگر گھبرانا نہیں ہم نے 1992ء کا ورلڈ کپ تو جیت لیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس وائرس کو بڑے شہروں تک پھلینے سے روک سکتے تھے،ہمیں عالمی ادارہ صحت کی بات سننا تھی، لیکن ہمارا وزیراعظم اپنی اے ٹی ایم کی بات سن رہا تھا اورکورونا کا وزیر کورونا کا ویسے ہی مقابلہ کررہا ہے جیسے معیشت کو سنبھالا تھا، ہم اب بھی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تجاویز کو اپنائیں تو نقصان کم کیا جاسکتا ہے۔
منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف کے بعد تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید نے گفتگو شروع کی تو اپوزیشن کی جانب سے احتجاج شروع کردیا گیا۔مراد سعید نے اس موقع پر احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ یہاں سے کوئی اٹھے اور دھمکیاں دی جائیں، اگر ایسا ہو گا تو پھر یہ لوگ بھی بات نہیں کر سکیں گے۔’یہ کوئی طریقہ نہیں کہ آپ اپنی تقریریں جھاڑیں اور یہاں پر کسی نے آغاز بھی نہ کیا ہو اور آپ اٹھ کر شور مچانا شروع کردیں’۔
اس موقع پر مراد سعید کے ساتھ ساتھ قائم مقام اسپیکر قاسم سوری بھی برہم نظر آئے اور انہوں نے اپوزیشن اراکین کو بیٹھنے کا مشورہ دیا۔مراد سعید نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں 50سال کے عرصے میں پہلی مرتبہ سال میں دو مرتبہ کشمیر کے مسئلے پر بحث ہوتی ہے اور کشمیر جو جسے بھارت اپنا اندرونی مسئلہ سمجھتا تھا، آج وہ بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مقدمہ جس انداز سے عمران خان نے لڑا اس طرح سے کبھی نہیں لڑا گیا۔
اس موقع پر اپوزیشن نے پھر شور شرابا کیا تو مراد سعید نے کہا کہ اب میں کہوں گا کہ اپنی نواسی کی شادی پر کون مودی کو بلاتا تھا تو یہ کہیں گے یہ جواب دے رہا ہے، میں سوال کروں گا کہ جندال کو بغیر ویزہ کے کس نے مری آنے کی دعوت دی۔
انہوں نے خواجہ آصف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی اس وقت ٹھیک نہیں ہو سکتی جب تک آپ کا وزیر خارجہ اور اس وقت کا وزیر دفاع باہر کسی کمپنی میں ملازمت کر رہا ہو کیونکہ پتہ نہیں چلے گا کہ اس کی وفاداری کس کے ساتھ ہے۔مراد سعید کے خطاب کے بعد اسمبلی میں شور شرابا شروع ہو گیا اور اپوزیشن اور حکومتی اراکین میں بحث چھڑ گئی۔
اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک دوسرے سے عزت و احترام سے پیش آئیں اور عزت سے پکاریں۔ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے کہا کہ میں کسی کی دھمکی میں نہیں آؤں گا اور ہاؤس قانون کے مطابق چلے گا۔اسپیکر نے اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رانا تنویر حسین کو گفتگو کی اجازت دی لیکن اس موقع پر حکومتی اراکین خصوصاً مراد سعید نے انہیں بولنے کا موقع نہ دیا۔اس موقع پر اپوزیشن اور حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی میں تلخ کلامی کے بعد ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی اور ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا۔اس مرحلے پر مراد سعید کی جانب سے اپوزیشن اراکین کو کہا گیا کہ ‘او چور بیٹھو’ جس کے بعد احتجاج شدت اختیار کر گیا۔مراد سعید مستقل اپوزیشن اراکین کو کو چور کہہ کر مخاطب کرتے رہے اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے مجھے بات نہیں کرنی دی، اب میں انہیں بھی بات نہیں کرنے دوں گا۔ایوان میں ہنگامہ آرائی کے سبب اسپیکر قاسم سوری کو اجلاس 10منٹ کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔
وقفے کے بعد اجلاس شروع ہوا تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ کہا جا رہا کہ پاکستان کہیں اسرائیل کو تسلیم تو نہیں کر رہا، میں واضح طور ایوان میں کہتا ہوں کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی تشریح کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ عرب ممالک کے اب اسرائیل سے تعلقات بہتر ہو گئے ہیں تو کہیں ہم ان کے دباؤ میں آ کر ایسا نہ کر رہے ہوں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔انہوں نے خواجہ آصف کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین پر ہمارا موقف وہی ہے جو آپ کا تھا، جب آپ وزیر خارجہ تھے، ہمارا وہی موقف جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، پاکستان کا جو تاریخی موقف تھا، آج بھی وہی ہے کہ ہم دو ریاستی حل کے کل بھی قائل تھے، آج بھی قائل ہیں۔
ہم کہتے ہیں کہ وہی فلسطین چاہیے جس کی سرحدیں 1967 سے قبل والی ہوں اور جس کا دارالخلافہ القدس شریف ہو، یہ پاکستان کا مسلسل موقف رہا ہے اور آج بھی وہی موقف ہے لہٰذا اس سلسلے میں کسی تشویش یا ابہام کی گنجائش نہیں ہے۔
ان کہنا تھا کہ بھارت کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کا موضوع تو زیر بحث ہے ہی نہیں کیونکہ اس کے لیے جو اصلاحات درکار تھیں وہ نہیں کی گئیں لہٰذا اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ غیرمستقل رکن کی بات کی جائے تو وہ بدلتے رہتے ہیں مثلاً جب سے ملک آزاد ہوا ہے تو سات مرتبہ ہندوستان سلامتی کونسل کا رکن رہا ہے اور سات مرتبہ ہی پاکستان بھی کونسل کا رکن رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے 2011 میں رکن بننے کی تیاری شروع کردی تھی اور اب ہم نے بھی 26-2025 میں آٹھویں مرتبہ رکن بننے کا اعادہ کیا ہے اور اس کے لیے لابی کر رہے ہیں کیونکہ اس کا الیکشن 2024 میں ہو گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر پر ہمارا موقف ایک تھا، ایک ہے اور میری کوشش ہو گی کہ ایک رہے کیونکہ اس پر قومی اتفاق رائے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارا ماننا ہے کہ کشمیر پر سیاسی اور قومی اتفاق رائے کے ساتھ ساتھ پارلیمانی اتفاق رائے بھی ہونا چاہی لہٰذا میں سیاست سے بالاتر ہو کر ایک کمیٹی تشکیل دے رہا ہوں۔ان کا کنا تھا کہ میں اس کمیٹی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے نمائندگی کے لیے مسلم لیگ ن کو دعوت دے رہا ہوں، پیپلز پارٹی کو دعوت دے رہا ہوں اور جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی کو دعوت دے رہا ہے کیونکہ کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جو جماعتی مفادات سے بڑھ کر ہوتے ہیں اور کشمیر، فلسطین کا مسئلہ اور اقوام متحدہ کی اصلاحات ان میں سے ایک مسئلہ ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں اس ایوان اور مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر کو اس بات کی یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ہم سے منسلک یہ تمام باتیں بے بنیاد ہیں، ہم ایک ہیں اور ان مسائل پر ایک رہیں گے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردار نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس جیسی وبا صدی میں ایک بار آتی ہے اور اس طرح کی وبا سے ماضی میں بڑی بڑی قدیم تہذیبیں تباہ ہو چکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں ہر 15منٹ بعد ایک پاکستانی کورونا کی وجہ سے مر رہا ہے، ہر پاکستانی کی صحت، زندگی اور معاشی صورتحال اس وقت خطرے میں ہے۔بلاول نے کہا کہ کورونا کے علاوہ ہمارا ٹڈی دل کا مسئلہ ہے، 25سال ٹڈی کا سب سے بڑا حملہ ہوتا جا رہا ہے، سیلاب کی بھی پیش گوئی کی جا چکی ہے، عالمی کساد بازاری اور پاکستان میں معاشی ڈپریشن کی بھی پیش گوئی کیا جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا 2020 کا بجٹ اس وقت کا بجٹ نہیں ہے، یہ پاکستان کا بجٹ نہیں ہو سکتا، یہ بجٹ کسی اور ملک کا ہے جو کسی اور وقت اور جگہ کے لیے تیار کیا گیا ہے، یہ اس ملک کا بجٹ نہیں ہو سکتا جو کورونا کی وبا کا مقابلہ کر رہا ہے، جو ٹڈی دل کے 25سال بعد سب سے بڑے حملے کا مقابلہ کر رہا ہے اور جہاں معاشی ڈپریشن کا خطرہ ہے، جہاں 7کروڑ پاکستانیوں کو غربت کی لکیر کے نیچے دھکیلے جا رہے ہیں اور اس وقت کے لیے یہ بجٹ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایک لاکھ 49ہزار پاکستانی وائرس کے مریض ہو چکے ہیں اور کم از کم 2ہزار 900پاکستانی فوت ہو چکے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ہمارے محکمہ صحت کے 2ہزار افراد کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور 40 شہید ہو چکے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے حکومت کنفیوژن، نااہلی، غفلت کا شکار ہے اور کوئی منصوبہ یا حکمت عملی نہیں اور یہ بجٹ اس بات کی عکاسی کرتا ہے۔
بلاول نے تنقید کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کس نے کہا تھا کہ کورونا وائرس ایک فلو، ایک زکام ہے، کون ہر ٹیلیفون کال پر چلایا تھا کہ کورونا وائرس جان لیوا نہیں ہے، کون پہلے لاک ڈاؤن کے خلاف تھا، پھر لاک ڈاؤن کے حق میں تھا، پھر لاک ڈاؤن کے خلاف تھا اور آج تک کنفیوژ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کون کہتا تھا کہ گرمیوں میں کورونا وائرس خود بخود ختم ہو جائے گا، کس نے کہا تھا کہ پاکستان میں کورونا وائرس تو وبا ہی نہیں ہے، کس نے کہا تھا کہ ٹریفک ایکسیڈنٹ کی وجہ سے لوگ فوت ہو جاتے ہیں لیکن ہم گاڑیوں پر پابندی نہیں لگاتے، کس نے کہا تھا کہ جو لوگ اپنے عوام کی زندگی، صحت کو بچانے کے لیے قدم اٹھا رہے تھے، اپنی دھرتی کو بچانے کے لیے قدم اٹھا رہے تھے کہ وہ خوف میں فیصلے لے رہے تھے۔
پیپلز پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ آپ کی ہمت کیسے ہوئی کہ آپ اپنی مجرمانہ غفلت، قیادت میں ناکامی، نااہلی پر پاکستان کے عوام کو ذمے دار ٹھہرائیں اور پھر یہ کہیں کہ پاکستان کے عوام جاہل ہیں، پاکستان کے عوام ان کو انتخابات میں بتائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم امید کر رہے تھے کہ یہ ایک وبا کے لیے بجٹ ہو گا اور جب تحریک انصاف ہر اس فیصلے اور قدم کی مخالفت کی جو اس وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتے تھے، جس وائرس پر قابو پایا جا سکتا تھا اور اس سے اموات میں کمی آ سکتی ہے، انہوں نے ایسے ہر اقدام کی مخالفت کی۔
بلاول نے کہا کہ اب جب آپ نے ان فیصلوں کی وجہ سے کورونا وائرس کو زبردستی پھیلایا ہے، جب آپ جانتے ہیں کہ زیادہ مریض ہوں گے، زیادہ اموات ہوں گی، زیادہ کیسز ہوں گے تو کیا تیاری ہے؟ کیا ہم نے صحت کے بجٹ میں تاریخی طور پر اضافہ کیا ہے، کیا ہم نے کافی پیسہ الگ رکھا ہے تاکہ ہم صوبائی حکومتوں کے محکمہ صحت کو کو پیکج دے سکیں تاکہ وہ اس وبا کا مقابلہ کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ کیا ہم نے ڈاکٹرز، نرسوں اور فرنٹ لائن ورکرز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا، کیا آپ نے ان کو رسک الاؤنس دیا ہے اور آپ نے کورونا کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے بجٹ میں کتنی رقم رکھی ہے تاکہ عوام کو سمجھا سکیں وہ کیسے پنا اور اپنے پیاروں کا تحفظ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اس ملک کو درپیش خطرات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے، جب انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے خبردار کرنے کی کوشش کی تو کوئی ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اسی ایوان میں گزشتہ سال بجٹ تقریر کے موقع پر صدر زرداری اور اختر مینگل نے ٹڈی دل کے معاملے کو اٹھایا تھا اور فروری سے ہم اس کورونا کے مسئلے کو اٹھا رہے ہیں۔
