کیا آرمی چیف کے نام پرواقعی کوئی پھڈاچل رہا ہے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پرحکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مابین اتفاق رائے نہ ہو پانے کی افواہیں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب عمران خان کے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کے اعلان کو بھی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا ہتھکنڈا قرار دیا جا رہا ہے، لیکن یہ دباؤ کس حد تک کامیاب ہو گا اسکا اندازہ نئے آرمی چیف کے نام کے اعلان سے ہی ہو گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ جوں جوں نومبر اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا رہے، توں توں پاکستانی سیاست کا پارہ بھی مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔گذشتہ چند دنوں سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق نئی نئی افواہیں گردش میں آرہی ہیں۔ ایک طرف اہم تعیناتی کے حوالے سے حکومتی حلقوں میں بھاگ دوڑ مچی ہوئی ہے تو دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ بھی وفاقی دارالحکومت کے دروازوں پر دستک دے رہا ہے،غرض یہ کہ ملکی سیاسی صورت حال عجیب مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔
غریدہ کا کہنا ہے عمران خان کی جانب سے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کے اعلان کے بعد اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے موجودہ سیاسی صورت حال پر کیا فرق پڑے گا؟ کیا عمران خان جو تاریخ دیں گے، اس کا آرمی چیف کی تعیناتی سے کوئی تعلق بنتا ہے؟ خان کا لانگ مارچ گذشتہ ایک ماہ سے جاری ہے اور اس دوران ایک دلخراش واقعے کے نتیجے میں عمران خان بھی زخمی ہوئے، جس کے باعث لانگ مارچ کو کچھ دنوں کے لیے ملتوی کیا گیا تھا۔ اب یہ لانگ مارچ ایک دفعہ پھر اسلام آباد کی جانب گامزن ہے اور اس میں گذشتہ ایک دو روز میں کافی تیزی دیکھی گئی ہے۔
غریدہ کے بقول، عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے راولپنڈی پہنچنے اور آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے پیشرفت میں مماثلت کافی معنی خیز ہے اور اسی تناظر میں مختلف سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا لانگ مارچ کے ذریعے پی ٹی آئی صرف جلد انتخابات کا مطالبہ منوانے آرہی ہے یا اس کے مقاصد کچھ اور ہیں؟ کیا تحریک انصاف لانگ مارچ سے حکومت پر دباؤ ڈال پائے گی؟ کیا تحریک انصاف اور حکومت میں کوئی جھڑپ ہوسکتی ہے؟ اور اگر اس طرح کا واقعہ ہو بھی جائے تو اس سے عمران خان کو کچھ حاصل ہوگا یا حکومت اس صورت حال سے فائدہ اٹھائے گی یا پھر اس پورے منظر نامے سے کوئی اور مستفید ہوگا؟ اور اس ساری صورت حال کے بعد پاکستان کی سیاست کا منظر نامہ کیا ہوگا؟ موجودہ حالات میں جہاں ایک طرف آرمی چیف کی تعیناتی میں مسلسل تاخیر سے کئی افواہیں جنم لے رہی ہیں، وہیں دوسری طرف حکومت نے اس حوالے سے سارے پتے اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اس صورت حال میں کچھ بھی ممکن ہے۔
پیپلز پارٹی نے بھی موجودہ صورت حال میں بالآخر اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے گذشتہ دنوں اس اہم تعیناتی پر اپنی پارٹی کا ایک اہم مشاورتی اجلاس طلب کیا تھا، جس میں سابق صدر آصف زرداری اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو سمیت پارٹی کی سینئر قیادت شریک تھی۔
غریدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں صرف یہی ایک موضوع زیر بحث ہے کہ کون ہوگا نیا سپہ سالار؟ کیا حکومت افواج پاکستان کی جانب سے دی گئی لسٹ میں سے کسی کو منتخب کرے گی یا موجودہ آرمی چیف کو ایک دفعہ پھر ایکسٹینشن دی جائے گی؟ اس وقت صورت حال انتہائی غیر یقینی کا شکار ہے اور ماسوائے چند لوگوں کے کسی کو پتہ نہیں کہ آئندہ چند دنوں میں کیا ہوگا۔ اس حوالے سے صدر عارف علوی پر بھی بہت سی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ اگر آئینی طور پر دیکھا جائے تو صدر افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں لیکن اہم تعیناتی میں ان کا کردار کیا ہوگا، یہ انتہائی معنی خیز ہے۔
ویسے تو آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کا اختیار ہے، ان کی مرضی کہ وہ جسے چاہے تعینات کریں اور اس تعیناتی میں صدر کے مشورے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، لیکن وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی صدر سے ملاقات اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں بڑی معنی خیز ہے۔ اسی طرح سابق صدر آصف زرداری کی اسلام آباد میں موجودگی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ گزرتے وقت کے ساتھ وفاقی حکومت پر بھی اب فیصلہ لینے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مسلم لیگ ن اس حوالے سے کافی محتاط ہے اور کافی سوجھ بوجھ کے ساتھ یہ اہم تعیناتی کرنے کی کوششوں میں ہے۔ بہرحال فیصلے کی گھڑی تو آن پہنچی ہے، جس میں آئندہ ایک سے دو دن کلیدی کردار رکھتے ہیں اور فیصلہ بھی ایسا، جس سے نہ صرف حکومت بلکہ عمران کو بھی سرپرائز ملے گا۔
