حکومت اور مافیاز ایک دوسرے کی مدد سے چل رہی ہیں

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت مافیاز جب کہ مافیاز حکومت کی مدد سے چل رہی ہیں۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے پیٹرول بحران انکوائری کمیٹی کی تحقیقات متعین مدت میں مکمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ پھر ثابت ہوا کہ چینی کی طرح پیٹرول کے مجرم پکڑنے میں حکومت ہے نہ ہی اس میں جرات واہلیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول بحران پر حکومتی رویے نے چینی اسکینڈل کی یاد تازہ کردی، موجودہ حکومت مافیاز اور مافیاز حکومت کی مدد سے چل رہی ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پیٹرول بحران پر انکوائری کمیٹی کا 15 روز میں رپورٹ جمع نہ کرانا ‘دال میں کچھ کالا’ ہونے کا اشارہ ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اس سوال کا جواب نہیں آیا کہ جب عوام کو پیٹرول نہیں مل رہا تھا تو ذخیرہ اندوزی کون کررہا تھا؟ جبکہ جون کے مہینے میں قلت کے دوران پیٹرول کی فروخت زیادہ کیوں ہوئی؟ یہ پراسرار معمہ بھی حل نہیں ہوا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا پٹرول بحران انکوائری کمیٹی کی تحقیقات متعین مدت میں مکمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار
پھر ثابت ہوا کہ چینی کی طرح پٹرول کے مجرم پکڑنے میں حکومت سنجیدہ نہیں ، نہ ہی اس میں جرات واہلیت ہے
— PMLN (@pmln_org) July 11, 2020
ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن اور تیل کی قلت کے باوجود فروخت اتنی زیادہ کیوں سامنے آئی؟ اس سوال کا جواب اصل کہانی بتارہا ہے، ساتھ ہی وہ بولے کہ یہ امر حیران کن ہے کہ مئی کے مہینے میں فروخت 6 لاکھ 35 ہزار ٹن کیوں سامنے آئی؟ صدر مسلم لیگ (ن) نے یہ سوال بھی کہا کہ مزید حیرت انگیز یہ ہے کہ جون میں پیٹرول کی کھپت 7 لاکھ25 ہزار ٹن بتائی جارہی ہے تو یہ کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے باعث طلب میں کمی، قلت کے باوجود فروخت میں اتنا اضافہ مطلب صرف ذخیرہ اندوزی ہے، حکومتی ملی بھگت سے پیٹرول کے ذریعے قوم سے اربوں لوٹ لیے گئے۔ شہباز شریف کے مطابق موجودہ دور میں مافیاز کو عوام کو لوٹنے کا لائسنس دے دیا گیا ہے، ہر شخص محسوس کررہا ہے کہ ملک میں حکومتی عمل داری نام کی کوئی چیزموجود نہیں ہے۔
خیال رہے کہ 9 جولائی کو لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد قاسم خان نے گزشتہ ماہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے بعد سامنے آنے والے پیٹرول بحران کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔
حکومتی ملی بھگت سے پٹرول کے ذریعے قوم سے اربوں لوٹ لئے گئے
موجودہ دور میں مافیاز کو عوام کو لوٹنے کا لائیسنس دے دیا گیا ہے
ہر شخص محسوس کررہا ہے کہ ملک میں حکومتی عمل داری نام کی کوئی چیز موجود نہیں
— PMLN (@pmln_org) July 11, 2020
یاد رہے کہ یکم جون کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک میں پیٹرول کا بحران پیدا ہوگیا تھا جس پر حکومت اور اوگرا کے نوٹس کے باوجود قلت پر قابو نہ پایا جاسکا تھا۔
تاہم 26 جون کو جیسے ہی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے 58 پیسے تک اضافہ کیا ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت ختم ہوگئی تھی۔ ملک میں پیٹرول کی قلت اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں کا پتا لگانے کے لیے وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے 8 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ بعد ازاں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے ملک میں تیل بحران ختم ہونے کے بعد مختلف کمپنیوں کو کروڑوں روپے کا جرمانہ بھی کیا تھا۔
