نعمان اعجاز نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی تباہی کی وجہ بتا دی

سینئر اداکار نعمان اعجاز نے پاکستانی ٹی وی ڈراموں کے موضوعات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے پاکستانی ڈرامے کی تباہی کے ذمہ دار ہم خود ہیں، ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں، ہم نے خود ہی اپنے ڈرامے کو تباہ کیا ہے اس لئے کسی اور کو اس کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔
وہ پاکستانی ٹی وی ڈرامہ جس کی مثال دنیا میں دی جاتی تھی آج وہ مسلسل تنقید کی زد میں، ایک وقت تھا جب پرائم ٹائم پر شہر کی سڑکیں سنسان ہوجاتی تھیں، مگر اب شائقین ایک جیسے موضوعات پر بننے والے ڈراموں سے تنگ آچکے ہیں۔ ہر ڈرامے میں والدین سے جھگڑتی ہوئی اولادیں، طلاق، ڈیپریشن، چیٹنگ، خواتین کے ساتھ ناانصافی، اور ظلم ۔ ہمارے ڈرامے اب انہی گھسے پٹے موضوعات کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں اور شائقین کے ساتھ ساتھ ڈرامہ آرٹسٹ بھی ڈرامے کے مستقبل سے مایوس نظر آرہے ہیں۔
گزشتہ چند سال سے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے نامور اداکار و ہدایت کار بھی ملکی ڈرامے کے زوال کی شکایتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ایسی شکایتوں میں حال ہی میں اس وقت اضافہ ہوا جب پاکستان ٹیلی وژن پر ترک ڈرامہ نشر کیا گیا۔ ترک ڈرامے ارطغرل غازی کو نشر کیے جانے کے بعد ڈرامہ انڈسٹری کے افراد سمیت عام شائقین بھی پاکستانی ڈراموں کے زوال اور تباہی کا ذکر کرتے دکھائی دیے۔ اب معروف ڈرامہ اداکار و پروڈیوسر نعمان اعجاز نے بھی تسلیم کیا ہے کہ اس وقت پاکستانی ڈرامہ ختم ہوچکا ہے اور ڈرامے کا خاتمے کا کریڈٹ خود ہمیں ہی جاتا ہے۔ پاکستانی ڈرامے پر بات کرتے ہوئے نعمان اعجاز نے کہا کہ ایک وقت تھا جب سرکاری ٹی وی پر چاروں صوبوں کی روایات اور ثقافتوں پر مبنی ڈرامے دکھائے جاتے تھے اور لوگ گھر بیٹھے دوسرے صوبے کی روایات سے واقف ہوتے تھے۔ نعمان اعجاز نے کہا کہ اب پاکستانی ڈرامہ ڈرائنگ روم اور گھر تک محدود ہوگیا ہے، جس میں ساس اور بہو کے جھگڑوں سمیت بیوی اور شوہر کے درمیان تلخیوں اور ماں اور بیٹی کے درمیان حسد کو دکھایا جاتا تھا۔
انہوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے ڈراموں میں یہ دکھایا جارہا ہے ایک خاتون کسی اور کے شوہر کو پسند کرتی ہے لیکن شادی کسی اور سے کرتی ہے نہ صرف یہ بلکہ ماں بیٹی سے بیٹا باپ سے بدلہ لے رہا ہوتا۔یے۔ حقیقت میں ایسا اب کہیں نہیں ہوتا مگر ہمارے ڈراموں میں یہ سب دکھایا جاتا ہے۔ نعمان اعجاز کا کہنا ہے کہ ہماری زوال پزیر ڈرامہ انڈسٹری کو جاگنے کی ضرورت ہے۔۔آخر کب تک ایسے گھسے پٹے موضوعات پر کہانیاں بنتی رہیں گی۔
انہوں نے پاکستانی ڈراموں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حیرانی اس بات کی ہے کہ آج کا پاکستانی ڈرامہ ایک گھر میں ہی بنتا ہے اور ڈرامے کے کرداروں کو باہر جھانکنے تک نہیں دیا جاتا۔ نعمان اعجاز کا کہنا تھا کہ ڈرامے کے ایسے زوال میں سب سے بڑا کردار چینل مالکان کا ہے جو کسی بھی قیمت پر ایسا ڈرامہ چاہتے ہیں جس سے ریٹنگ بنے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں لوگ پروفیشنل ازم سے ناواقف ہیں اور پوری انڈسٹری سوری اور کمپرومائیز پر چل رہی ہے، کسی سے کوئی کام خراب ہوجائے تو سوری کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کمپرومائز کرلو، کسی کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا احساس نہیں، نعمان اعجاز کا کہنا تھا کہ آج کل کا پاکستانی ڈرامہ لوگوں کو تعلیم نہیں دے رہا اور لوگ نیٹ فلیکس اور پرائم ایمازون کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں ڈرامے لوگوں کو تعلیم دیتے تھے اور انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے پی ٹی وی کے پرانے ڈرامے یہ زندگی کی مثال دی اور کہا کہ یہ ڈرامہ خلع کے موضوع پر بنا تھا جس پر اس وقت لوگوں نے احتجاج کیا تھا کہ یہ کیسے موضوع پر ڈرامہ بنایا گیا ہے۔
نعمان اعجاز نے پاکستانی ڈرامے کی تباہی کی زیادہ تر ذمہ دار چینل مالکان پر ڈالتے ہوئےکہا کہ آج کل ڈرامے کے پروڈیوسرز چینل مالکان سے پیسے حاصل کرنے کےلیے ان کے پاؤں تک پڑتے ہیں مگر پھر بھی انہیں پیسے نہیں ملتے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں اداکار ڈرامے کے ہدایت کار اور پروڈیوسر کے پاؤں پڑ کر ان سے سیکھتے اور ڈرامے سے متعلق پوچھتے تھے مگر اب بیچارے ہدایت کار نئی لڑکیوں کے پاؤں پڑتے ہیں اور پوچھتے رہتے ہیں کہ فلاں ڈائیلاگ کتنے منٹ میں ہوجائےگا؟
انہوں نے نوجوان اداکاروں سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کے اداکاروں کو یہ تک معلوم نہیں ہوگا کہ قوی خان کون تھے اور فردوس جمال کون ہیں؟ نعمان اعجاز نے بتایا کہ وہی اداکار کامیاب ہوتا ہے جو اپنے سینئرز اور بڑوں کی عزت کرکے ان سے سیکھنے کی کوشش کرتا ہے مگر نئی نسل کے اداکار ایسا کم کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ آج کے پاکستانی ڈرامے کی تباہی کے ذمہ دار ہم خود ہیں، ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں، ہم نے خود ہی اپنے ڈرامے کو تباہ کیا اور اب کسی اور کو موردِ الزام ٹھہرانا غلط ہے۔
