حکومت دھاندلی کرنے والے اپنوں کے خلاف ایکشن لینے سے گریزاں

ڈسکہ ضمنی الیکشن میں حکمران جماعت پر دھاندلی کا الزام ثابت ہونے کے باوجود ابھی تک پنجاب حکومت نے فردوس عاشق اعوان سمیت اپنے کسی بھی پیارے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور فردوس عاشق اعوان اور دیگر کا احتساب کرنے کی بجائے حسب روایت مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے سرکاری افسران کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس دھاندلی میں ملوث سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کا اختیارتو ہے لیکن وہ حکومتی شخصیات کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں رکھتا لہٰذا کمیشن کو یہ اختیار بھی سونپا جانا چاہیے تاکہ کوئی حکومت دھاندلی کرنے کا نہ سوچے۔
دوسری جانب مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لئے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی عملے کو ڈیوائسز فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے ڈیوائسز کے ذریعے دھاندلی تب تک نہیں رک سکتی جب تک بھارت کی طرح الیکشن کمیشن کو براہ راست انتظامی افسران اور عملے کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں دیا جاتا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب دھاندلی کی ذمہ دار حکومت خود ہی ہوگی تو پھر وہ اپنے لوگوں کے خلاف کاروائی کیوں کرے گی؟
الیکشن دھاندلی بارے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انتخابی عملے کو اغواء کرنے اور حکمران جماعت پر دھاندلی کا الزام درست قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے عملے کو مخصوص ڈیوائسز یا آلات فراہم کرنے کی تجویز دی ہے۔ الیکشن کمیشن نے دو مختلف انکوائری رپورٹس میں کہا ہے کہ پنجاب کے مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے افسران نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ کمیشن کی اسٹیبلشمنٹ ونگ نے انکوائری رپورٹ میں ملزم ٹھہرائے جانے والے صوبائی الیکشن کمیشن پنجاب کے جوائنٹ کمشنر عابد حسین اور ڈپٹی ڈائریکٹر اطہر عباسی کو او ایس ڈی بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے اور ساتھی ہی دیگر انتظامی افسران اور عملے کے خلاف فوجداری کارروائی کے لیے ایک کمیٹی بھینتشکیل دے دی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن منظم دھاندلی ثابت ہونے پر وزیراعظم عمران خان، وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور انکوائری رپورٹ میں مجرم قرار دی جانے والی فردوس عاشق اعوان کے خلاف ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم ابھی تک کسی حکومتی شخصیت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نے ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ہماری تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی حکومت کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔‘نواز شریف نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ ’اگر الیکشن کمیشن نے 2018 کے عام انتخابات میں اپنی ذمہ داری پوری کی ہوتی تو آج ملک کی قسمت مختلف ہوتی۔نواز شریف نے مزید کہا کہ 2018 میں آر ٹی ایس کیوں بند کیا گیا، ڈسکہ انکوائری رپورٹ کے بعد کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔انہوں نے کہا کہ اس دھاندلی کے تمام مجرموں کو عبرت ناک سزا دے کر آئینی ذمہ داری پوری کی جائے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دھاندلی کی منصوبہ بندی کے اصل ماسٹر مائنڈز یعنی حکومتی اراکین کو پکڑنے کی بجائے انتخابی عملے کو ڈیوائسز دینے سے شفافیت ممکن ہو سکے گی؟اس حوالے سے سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کمیشن عملے کو آلات دے کر یا کوئی بھی انتظام کر کے دھاندلی نہیں روکی سکتی۔‘انہوں نے کہا کہ ’ایسا تب تک نہیں ہو سکتا جب تک بھارت کی طرح الیکشن کمیشن کو براہ راست انتظامی افسران اور عملے کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں دیا جاتا۔‘ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں دھاندلی سے متعلق منصوبہ بندی میں سابق معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب فردوس عاشق اعوان کو بھی ملوث قرار دیا گیا ہے۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کی جانب سے جو دو انکوائری رپورٹس ڈسکہ ضمنی الیکشن دھاندلی سے متعلق جاری ہوئی ہیں وہ ایک غیر معمولی اقدام ہے جس سے حکمران جماعت ہی دھاندلی میں ملوث پائی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس ویسے تو کافی سہولیات اور اختیارات موجود ہیں لیکن یہ سب دھاندلی روکنے کے لیے ناکافی ہیں۔ اگر الیکشن کمیشن کو انتظامیہ سے الیکشن کے دوران لیے گئے افسران اور عملے کے خلاف براہ راست کارروائی کا اختیار ہو تو انتخابی شفافیت زیادہ بہتر ہوسکتی ہے۔ کنور دلشاد کے بقول الیکشن کے موقعے پر جو افسران اور عملہ الیکشن کمیشن کو دیا جاتا ہے وہ اپنے محکموں کے ماتحت ہوتے ہیں۔ اب جو اس رپورٹ میں ملوث پائے گئے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے لیکن پنجاب میں حکومت اسی جماعت کی ہے جس پر الزام ہے تو وہ کیا کارروائی کرے گی؟‘انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے جو پولنگ عملے کو ڈیوائسز دینے کی تجویز دی ہے وہ بھی بے سود ہوگی کیونکہ دھاندلی میں ملوث ہونے والے عملے کو ایسے نہیں روکا جاسکتا۔
