حکومت سندھ نے چین سے براہِ راست ویکسین خریدنے کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کردیے

صوبائی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے براہِ راست چین سے کین سینو ویکسین کی خریداری کےلیے 50 کروڑ روپے مختص کردیے ہیں جو سنگل ڈوز ویکسین ہے۔
کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ خود کو ویکسین لگوائیں، ہمارے ہاں ویکسینیشن کا عمل بہت سست ہے کیوں کہ ہمیں کم تعداد میں خوراکیں موصول ہورہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں 175 ویکسینیشن سینٹرز برائے بالغان مقرر کیے گئے ہیں جس میں کراچی میں 29، حیدرآباد میں 8 جب کہ دیگر اضلاع میں فی ضلع 5 سے 6 ویکسینیشن مراکز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جیسے ہی مزید ویکسین ملے گی ہم ویکسنیشن سینٹرز کی تعداد میں اضافہ کردیں گے تاکہ یونین کونسل کی سطح تک رسائی ہوسکے۔ صوبائی وزیر صحت نے عوام پر زور دیا کہ ایس او پیز کا خاص خیال رکھا جائے کیوں کہ پنجاب میں موجود وائرس کی برطانوی قسم اگر سندھ میں آگئی تو یہاں بھی وہی تباہی مچ سکتی ہے جو اس وقت پنجاب میں صورت حال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں اسپتالوں میں پر بہت دباؤ ہے اور ہر صوبے میں 5 سے 6 سو کے قریب وینٹیلیٹرز کووِڈ کےلیے مختص ہیں اگر یہ سب بھر جائیں گے تو دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کا کیا حال ہوگا۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ابھی سے ہوش کے ناخن لیں، اپنے آپ کو اپنے بزرگوں کو اس وبا سے محفوظ رکھیں ماسک پہنیں، ہاتھ دھوئیں، سینیٹائزر استعمال کریں اور سماجی فاصلہ رکھیں۔ انہوں نے مزید عوام کو تاکید کی کہ ایسے مقامات جہاں لوگ جمع ہوسکتے ہیں مثلاً شادی ہالز وغیرہ ان کے دور رہیں اور گھروں میں بھی تقریبات سے گریز کریں۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ پنجاب میں پھیلاؤ کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہاں برطانیہ سے واپس آنے والے افراد کی دعوتیں ہوتی ہے جہاں ایک سے دوسرے میں وائرس منتقل ہوتا ہے اور ویکسین اس وقت کام آئے گی جب 70 سے 80 فیصد عوام کووِڈ کی ویکسین لگوا چکے ہوں گے، اسی طریقے سے ہماری حفاظت ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ ویکسینیشن کے بعد بھی آپ کو انفیکشن ہوجائے لیکن آپ میں اس کی شدت کم ہوگی اور نزلہ زکام جیسی کیفیت یا ہلکا سا بخار ہوگا لیکن آپ کو اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ صوبائی وزیر صحت نے ویکسینیشن سے موت کا خطرہ بھی کم ہوگا اس لئے ویکسین ضروری ہے، بزرگوں کو لگ رہی ہے اور آئندہ 2 سے 3 روز میں 50 سال کی عمر کے افراد کی بھی ویکسینیشن کا آغاز ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم اسپتالوں سے شدید بیمار مریضوں مثلاً کینسر کے مریضوں کی فہرستیں موصول ہونے کے منتظر ہیں تا کہ ان کی ویکسینیشن کا پروگرام شروع کیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے اسپٹنکv ویکسین کی خریداری کےلیے بات چیت کی تھی لیکن وہ خاصی مہنگی ہے اور نجی شعبے نے بھی اسے خریدنے کی کوشش کی ہے لیکن قیمت طے نہ ہونے کی وجہ سے اب تک دستیاب نہیں ہوسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ امیر اور تعلیم یافتہ افراد ویکسینیشن کروا رہے ہیں لیکن ہمارے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے یا ناخواندہ افراد اس سے کترا رہے ہیں، میں ان سے اپیل کرتی ہوں کہ آئیں اور اس مفت کی ویکسین سے فائدہ اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ویکسین سے شاید ہلکا سا بخار محسوس ہو لیکن اس کے علاوہ کوئی نقصان نہیں ہوتا اس لیے وہ افراد بھی آئیں اور یہ ٹیکے لگوائیں تا کہ ان کی بھی حفاظت ہوسکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ابتدا میں کراچی میں بھی کورونا وائرس کی برطانوی قسم کی نشاندہی ہوئی تھی ہم نے اس وقت برطانیہ سے آنے والے افراد کی ٹیسٹنگ تیزی سے کی اس لیے کمیونٹی میں پھیلنے سے بچ گیا۔ سندھ میں موجود بڑے اسپتالوں کا انتظام وفاقی حکومت کے سنبھالنے سے متعلق سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت بہت پریشان ہے کہ عدالتی حکم کی پیروی نہ کرنے پر کہیں توہیِن عدالت نہ ہوجائے لیکن میں نے انہیں کہا کہ عدالتی فیصلہ دوبارہ پڑھیں۔ انہوں نے کہا فیصلے کے مطابق وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت آپس میں بات چیت کر کے اسپتالوں کا انتظام صوبائی حکومت کو دے سکتے ہیں اور عدالتی حکم کے مطابق 2011 سے حکومت سندھ نے جو پیسہ ان اسپتالوں پر خرچ کیا ہے وہ انہیں اسپتالوں کا انتظام سنبھالنے کےلیے اس کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ ہمارے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرکے اس کا انتظام ہمارے حوالے کردیں یہ بھلے آپ کی ملکیت رہیں لیکن ہم اس کا بجٹ بھی مختص کریں گے اور اسے چلائیں گے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد میں بیٹھ یہ اسپتال سنبھال نہیں سکتی، انہوں نے ہم نے بورڈ آف گورنر کےلیے نام مانگے جو ہم نے نہیں دیے کیوں کہ نام دینے کا مطلب ہے کہ ہم ان کی بات سے اتفاق کررہے ہیں جب کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسپتالوں کا انتظام ہمارے پاس ہی رہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے صوبوں کو ویکسین کی خریداری کا مشورہ دیا تھا۔ ایک ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘وفاقی حکومت نے کووِڈ کی ویکسین خریدی اور تمام پاکستانیوں کے خریداری جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ صوبائی حکومتوں کو ویکسین کی خریداری کےلیے کسی این او سی کی ضرورت نہیں اور اگر وہ ویکسین خریدنا چاہیں تو نہ ہی ان پر کوئی پابندی ہے، اس سلسلے میں جو بھی سہولت درکار ہوگی فراہم کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button