حکومت سے مذاکرات پر آمادگی کے بعد عمران پیچھے کیوں ہٹے؟

اسلام آباد میں باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نااہلی سے بچنے کے لیے حکومت کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا دروازہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن اپنی نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد وہ دوبارہ پہاڑی پر چڑھ گئے ہیں اور مذاکرات کو ایک بار پھر فوری الیکشن کرانے کے مطالبے سے مشروط کر دیا ہے، چنانچہ اب مذاکراتی عمل آگے بڑھنے کا امکان ختم ہو گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چند روز پہلے اسٹیبلشمنٹ کے اصرار پر حکومت اور تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں کی آپس میں ملاقاتیں ہوئی تھیں جس کا بنیادی مقصد عمران خان کو لانگ مارچ سے روکنا تھا تاہم پی ٹی آئی والوں نے لانگ مارچ روکنے کا مطالبہ فوری الیکشن کے اعلان اور آرمی چیف کی تقرری پر عمران خان سے مشاورت کے ساتھ مشروط کر دیا جس وجہ سے مذاکرات ناکام ہوگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت بھی یہی چاہتی تھی کیونکہ وہ اپنی آئینی مدت پوری کرنا چاہتی ہے لیکن اسٹیبلشمینٹ کے دباؤ پر گونگلووں سے مٹی جھاڑنے کے لیے ملاقات کرنا ضروری تھی۔
تاہم حکومت اور پی ٹی آئی کے وفود کی ملاقات کی خبر باہر آنے کے بعد تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے واضح اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت کے حکومت سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں اور اگر کسی کی کوئی ملاقات ہوئی بھی ہے تو وہ انفرادی نوعیت کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مؤقف آج بھی بڑا واضح ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کا واحد حل فوری نئے انتخابات ہیں لہٰذا اگر حکومت الیکشن کی تاریخ دینے پر راضی ہو جائے تو ہم بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھی واضح کیا ہے کہ حکومت کے تحریک انصاف کے ساتھ کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور اس حوالے سے چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور اگلے برس اگست میں نگران حکومت کا قیام عمل میں آئے گا جس کے بعد اکتوبر 2023 میں نئے انتخابات کا امکان ہے۔
موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار غریدہ فاروقی کہتی ہیں یہ درست ہے کہ عمران خان کی ضمنی الیکشن میں مسلسل کامیابی اہم ہے لیکن یہ ایسا سنگین دباؤ بھی نہیں کہ حکومت انکی جماعت سے مذاکرات پر مجبور ہو کر کپتان کے ہاتھوں زیر ہونے پر آمادہ ہو جائے۔ ان کے مطابق ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ حالات ایک بار پھر کم و بیش اسی دوراہے پر آ کر کھڑے ہو گئے ہیں جہاں 25 مئی کے عمران خان کے لانگ مارچ کے قریب قریب تھے۔
غریدہ بتاتی ہیں کہ 19 مئی کو ایک اعلیٰ حکومتی شخصیت نے ایک اور اہم ترین ریاستی شخصیت سے رابطہ کر کے اس فیصلے سے آگاہ کیا کہ مسلم لیگ ن حکومت سے استعفیٰ دینے کو تیار ہے اور جلد الیکشن کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کی حتمی منظوری لندن سے بھی آ چکی تھی۔ عمران خان لانگ مارچ کی آخری تیاریوں میں مصروف تھے اور حکومت پر مسلسل دباؤ بڑھاتے چلے جا رہے تھے۔ دو فیصلہ سازوں کے مابین اس اہم ترین گفتگو نے ملکی سیاست کا رخ ہی موڑ دینا تھا، یہ گفتگو ابھی جاری تھی کہ ایک اور اہم شخصیت نے توجہ دلوائی کہ فوری حکومت ختم کر دینے کی صورت میں چند روز بعد ہونے والی آئی ایم ایف ڈیل شدید متاثر ہو گی کیونکہ اگر مسلم لیگ ن حکومت سے الگ ہو جاتی ہے تو نہ تو حکومت رہے گی نہ ہی کوئی وزیر خزانہ ہو گا۔ ایسے میں پھر آئی ایم ایف سے فائنل مذاکرات کون کرے گا اور معاشی ڈیل پر دستخط کس کے ہوں گے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ملک کے دیوالیہ ہونے کے لالے پڑے ہوں۔
غریدہ فاروقی بتاتی ہیں کہ اس کڑے خدشے کے پیشِ نظر تحریک انصاف سے رابطہ کیا گیا اور اسد عمر اور پرویز خٹک کو حکومت ختم کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا، لیکن ساتھ ہی آئی ایم ایف والے معاملے کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔ طویل بات چیت کے بعد طے یہ پایا کہ عمران خان لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان نہیں کریں گے، اس دوران حکومت آئی ایم ایف ڈیل حاصل کر لے گی جسکے بعد اقتدار سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے فوری الیکشن میں جایا جائے گا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی طرف سے یقین دہانی کروائی گئی کہ وہ انہی نکات پر عمران خان سے بات کر کے انہیں راضی کر لیں گے، لیکن عمران نے اس سنہری موقع کو جذباتیت، جلدبازی اور سیاسی کوتاہ نظری کے سپرد کرتے ہوئے چند روز کا انتظار کرنا مناسب نہ سمجھا اور لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دیا، جس سے پسِ پردہ ہونے والے مذاکرات اور ن لیگ کے انتہائی کلیدی فیصلے پر ضرب پڑی اور حکومت نے لانگ مارچ کی تاریخ کے دباؤ میں آ کر اقتدار سے علیحدگی کے عوامی تاثر کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلہ واپس لے لیا۔ یوں بازی مکمل طور پر پلٹ گئی۔
غریدہ فاروقی بتاتی ہیں کہ رواں برس مئی کے اواخر میں ہونے والے مذاکرات میں عمران اگر سیاسی صبر و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے تو آج حالات قطعی مختلف ہوتے۔ چھ ماہ بعد ایک بار پھر، اکتوبر کے اواخر میں چند اہم ریاستی شخصیات کی سفارشوں، کوششوں، مہربانیوں اور سہولت کاریوں کی بنا پر دوبارہ سے حکومت اور عمران خان کی تحریک انصاف کے درمیان ٹوٹی ہوئی بات چیت کا سلسلہ جوڑا تو گیا لیکن اعتماد کے بحران کی ایسی طویل خلیج حائل ہے جسے پاٹنا ناممکن نہیں تو جوئے شیر لانے کے مترادف ضرور ہے۔ بظاہر تو فی الوقت کوئی ایسی وجہ بھی نظر نہیں آتی کہ ن لیگ ایک بار پھر حکومت سے علیحدگی کا آپشن مذاکرات کی میز پر رکھ دے۔ مئی کے مہینے میں چونکہ نومولود حکومت کو آئے صرف ایک ہی ماہ ہوا تھا، لہذا اقتدار کی دودھ چھڑائی آسان تھی، مگر اب کم و بیش سات ماہ کے عرصے بعد ایسا کرنا سیاسی خودکشی ہی معلوم ہو گا۔ یہ درست ہے کہ عمران کی ضمنی انتخابات میں مسلسل کامیابی ایک بڑا عنصر ہے لیکن یہ ایسا سنگین دباؤ بھی نہیں کہ حکومت زیر ہونے پر آمادہ ہو جائے۔
اسحاق ڈار کی واپسی کی صورت میں وفاقی حکومت پہلے ہی معاشی اعتبار سے پُراعتماد فوٹنگ پر آ چکی ہے اور اسے امید ہے کہ آئندہ چھ سے سات ماہ میں معاشی معاملات پر گرفت کم از کم اتنی اچھی ضرور کر لی جائے گی کہ عوام کو ریلیف دینے کی پوزیشن میں آ جایا جائے۔غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ عمران خان الیکشن کمیشن سے نااہل قرار پائے ہیں، اب پنجاب میں پرویز الٰہی تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے لیے کتنی سپورٹ مہیا کرتے ہیں اس بارے میں خود پی ٹی آئی بھی پُریقین نہیں ہے۔ خیبرپختونخوا سے عوام کی بڑی تعداد لانگ مارچ میں نکلنے کے لیے تیار نہیں ہے، خود تحریک کے اندر لانگ مارچ کو لے کر بہت بڑی تقسیم موجود ہے۔ یہ وہ تمام کلیدی عناصر ہیں جن کی بنا پر اس بار مذاکرات کے لیے عمران خان کی ’بارگیننگ پوزیشن‘ مضبوط نہیں ہے۔اس مرتبہ بات چیت حکومت سے زیادہ عمران کی مجبوری ہے اور اس لیے سفارش بھی تحریک انصاف کی جانب سے ہی ایک اہم ریاستی شخصیت کے ذریعے کروائی گئی ہے۔ملکی حالات تقسیم، تفریق اور انتشار کی ایسی اتھاہ گہرائیوں کی طرف مسلسل لڑھکتے ہی چلے جا رہے ہیں کہ تاریخی اعتبار سے ماضی میں سیاسی سٹیک رکھنے والے حالیہ سہولت کار ریاست کی ایسی تنزلی پر خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتے۔
غریدہ کہتی ہیں کہ حکومت اور عمران خان دونوں پر کم از کم اتنا تو واضح ہو ہی جانا چاہیے کہ نظام بھی ایک حد تک دباؤ برداشت کرنے کی سہولت اور گنجائش برقرار رکھتا ہے۔ جب نظام پر دباؤ ناقابل برداشت حد تک بڑھ جائے تو اصول بقا و درستی کے تحت غیر قدرتی راستہ بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ لہذا اس بار مذاکرات کی کامیابی کا زیادہ بار اور ذمہ داری عمران اور تحریک انصاف پر عائد ہوتی ہے۔ لانگ مارچ تو اب خیر شاید ہی ممکن ہو اور اگر ہوا بھی تو کم از کم اکتوبر کے مہینے میں تو اس کا امکان ناممکنات میں سے ہو گا۔ اس صورت میں عمران خان کا ایک اور یوٹرن تو پہلے ہی عیاں ہو جاتا ہے جو ہر حال میں رواں ماہ ہی لانگ مارچ نکالنے پر مصر تھے۔ بحر حال سسٹم کو چلتے رہنا چاہیے، اسی میں سب کی بھلائی اور پاکستان کی بہتری ہے۔
