پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور باپ کو PDM میں لانے کا منصوبہ

ضمنی انتخابات میں عمران خان کی مقبولیت ثابت ہو جانے کے بعد اب حکمران اتحاد کو اگلے الیکشن سے پہلے ایک انتخابی اتحاد میں تبدیل کرنے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا گیا یے تاکہ 2023 میں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر تحریک انصاف کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اسلام آباد میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں اوپر تلے عمران خان کی جماعت نے جس طرح دیگر جماعتوں کے امیدواروں کو پچھاڑا ہے اس کے بعد سے حکمران اتحادی جماعتوں کی قیادت نے اگلا الیکشن اکٹھے ایک ہی پلیٹ فارم سے لڑنے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے اور صلاح مشوروں کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے حکومتی قیادت نے اگلے الیکشن میں ایکدوسرے کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کیا تھا لیکن اب ایک قدم آگے بڑھنے پر غور شروع ہو گیا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور باپ کو پی ڈی ایم کا حصہ بنا لیا جائے۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان کی بڑھتی مقبولیت اور عام انتخابات کی قریب آنے کے تناظر میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور افادیت پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں تین صوبوں میں قومی اسمبلی کی آٹھ میں سے چھ نشستوں پر عمران خان کی کامیابی اور حکمران اتحاد کے امیدواروں کی ناکامی کے بعد وزیراعلٰی پنجاب پرویز الہی کا کہنا ہے پی ڈی ایم کا انجام خطرناک ہے اور اس کی تباہی ایک ماہ میں نظر آ جائے گی۔ لیکن لیگی رہنما اور پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کا اتحاد مضبوط ہے اور وہ مشاورت سے فیصلے کر کے مستقبل میں بھی کامیابی حاصل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعے کو مولانا فضل الرحمن صاحب کی زیر صدارت ہونے والا پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس عمران خان کی ضمنی الیکشن میں کامیابی یا ان کے لانگ مارچ کی وجہ سے ہی نہیں بلایا جا رہا بلکہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے مشاورت سے ہی چلتی ہیں اور یہ اجلاس اسی سلسلے میں طلب کیا جا رہا ہے۔’میں سمجھتا ہوں کہ یہ اجلاس اور زیادہ تواتر سے منعقد ہونے چاہییں تاکہ تمام معاملات پر اتفاق رائے قائم رہے۔
پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور باپ پارٹی کو پی ڈی ایم میں شامل کرنے پر غور کے حوالے سے پی ڈی ایم کے رہنما شاہ اویس نورانی نے بتایا کہ چند ہفتے قبل ہونے والے اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے رائے دی تھی کہ اتحاد کو ہر مہینے کم از کم ایک بار ملنا چاہئے تاکہ تمام ایشوز پر بات چیت ہوتی رہے۔
شاہ اویس نورانی کا کہنا تھا کہ آئندہ عام انتخابات میں یا تو پی ڈی ایم ایک انتخابی اتحاد کی شکل اختیار کر لے گا یا پھر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فارمولہ اپنایا جائے گا کیونکہ جن پارٹیوں کی اپنے صوبوں میں اکثریت ہے وہ اپنے حلقے اپنے پاس رکھیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور باپ جیسے اہم جماعتوں کو بھی پی ڈی ایم کے اجلاسوں میں بلانے کی تجویز دی گئی ہے کیونکہ یہ سب حکمران اتحاد کا حصہ ہیں اور تجویز ہے کہ سب کو آن بورڈ لے لیا جائے۔تاہم پیپلزپارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ پیپلز پارٹی چونکہ پی ڈی ایم کا حصہ نہیں اس لیے وہ صرف حکمران اتحاد کے اجلاسوں میں شریک ہوتی ہے اور پی ڈی ایم کے علیحدہ اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتی۔
پی ڈی ایم کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم جب بنایا گیا تھا تو اس کا مقصد حکمران جماعت تحریک انصاف کا مقابلہ کرنا تھا کیونکہ عمران خان کے ون پارٹی ریجیم کے نظریے سے اپوزیشن جماعتوں کے وجود کو خطرہ لاحق تھا۔ اس حوالے سے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، اے این پی، جے یو آئی اور دیگر جماعتوں نے پی ڈی ایم نے اپنی بقا کی خاطر تشکیل دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پی ڈی ایم حکومت میں آ گئی اور اس بات کا امکان کم تھا کہ یہ بطور انتخابی اتحاد اگلے الیکشن میں میدان میں اترے۔تاہم ضیغم خان کے مطابق عمران کی حالیہ کامیابیوں اور مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اب یہ امکانات پھر روشن ہو گئے ہیں کہ اپنی سیاسی بقا کے لیے پی ڈی ایم جماعتیں اس کو انتخابی اتحاد میں بدل دیں الیکشن میں تحریک انصاف کو شکست دے کر دوبارہ حکومت بنائی جا سکے۔
