کیا عمران خان کو لانگ مارچ کے لئے کسی اشارے کا انتظار ہے؟

پچھلے پانچ ماہ سے وفاقی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرنے کی دھمکیاں دینے والے عمران خان الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ہاتھوں نااہل ہو جانے کے باوجود اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنانے سے گریزاں ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ انہیں کسی اشارے کا انتظار ہے۔ سابق وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ جمعہ کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ لیکن ایسے اعلانات وہ 25 مئی کو اپنے ناکام لانگ مارچ کے بعد سے مسلسل کرتے آرہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان دراصل اپنی لانگ مارچ کی دھمکی کو جلد الیکشن کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ اسی لئے عمران نے آرمی چیف سے ایوان صدر میں ایک خفیہ ملاقات کے بعد ان کے عہدے میں توسیع کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ لیکن حکومت کی جانب سے توسیع سے انکار کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد عمران کو بھی سمجھ آ چکی ہے کہ اب جلد نئے انتخابات کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ 22 اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں عمران نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی جماعت کے حکومت سے خفیہ مذاکرات جاری ہیں جنکا بنیادی مقصد جلد الیکشن کا انعقاد ہے۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ مجھے الیکشن کے جلد انعقاد کا امکان نظر نہیں آتا اس لیے میں جمعہ کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دوں گا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اب پی ٹی آئی بھرپور قوت سے سڑکوں پر سیاسی میدان سجائے گی اور لانگ مارچ کا اعلان ہو گا۔ پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے سے قبل بہت سے پارٹی رہنماؤں نے اپنی پریس کانفرنسز اور سوشل میڈیا پر عمران خان کو اپنی ریڈ لائن قرار دیا تھا۔ ان کی نااہلی کا فیصلہ آنے کے فوری بعد متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں نے اپنے کارکنوں اور عوام سے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا کہا۔فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کے باہر ہی ‘اس نظام کو پلٹنے’ کی دھمکی دی تو اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد اب عوام پیچھے ہٹنے کو کسی صورت تیار نہیں ہے۔ مگر پھر پی ٹی آئی نے پارٹی اجلاسوں کے بعد اپنے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے بڑے پیمانے پر ردعمل دینے کی بجائے قانونی راہ اختیار کرنے کا اعلان کیا۔

اس سلسلے میں عمران کی جانب سے انکے وکیل بیریسٹر علی ظفر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے۔ مگر جہاں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد یہ ابہام رہا کہ عمران کی نا اہلی کتنی مدت کی ہے وہیں عوامی حلقوں میں یہ بات بھی زیر بحث رہی کہ عمران خان نے جمعے کی شام کو جاری کردہ بیان میں اپنے کارکنان کو احتجاج ختم کرنے کی ہدایت کیوں کی؟

جب پوچھا گیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کا واضح فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا تو پی ٹی آئی کے سنیئر رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پارٹی کی پالیسی بالکل واضح ہے اور عمران خان اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور کسی اور کے ٹائم ٹیبل کے مطابق وہ فیصلے کرنے کو تیار نہیں۔ ان کی تیاری چل رہی ہے اور وہ اپنے طے شدہ وقت پر ہی لانگ مارچ کریں گے۔ انھیں کسی اشارے یا بات کا انتظار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد پارٹی کے اندر بھی بہت سے ایسے لوگ تھے جنھوں نے عمران کو کہا کہ اس وقت عوام اور کارکنان بہت جذباتی ہیں آپ فوراً لانگ مارچ کا اعلان کر دیں مگر عمران خان نے کہا نہیں میں اپنی منصوبہ بندی کے مطابق چلوں گا اور اگر ایسی کو رکاوٹ آتی ہیں تو میں جذباتی ہو کر فیصلہ نہیں کروں گا۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اکتوبر کے اندر اندر لانگ مارچ کی کال دے دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی ترتیب دے رکھی ہے، اس حوالے سے تمام تیاری ہو چکی ہے کہ اسلام آباد کی جانب کیا معاملہ ہو گا، تنظیموں کا کیا کردار ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز جو فیصلہ سامنے آیا اس میں ہم جلدبازی میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتے تھےجس سے لانگ مارچ کے اصل مقصد کو نقصان پہنچتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کل ملک بھر میں جو عوامی ردعمل سامنے آیا وہ پارٹی کی کال نہیں تھی اور گذشتہ روز کے ردعمل کے بعد پارٹی میں چند افراد کی رائے تھی کہ اس ردعمل کو بڑھاوا دیا جائے مگر پارٹی کے کور گروپ کا خیال تھا کہ لانگ مارچ کا اعلان اپنے وقت اور منصوبے کے مطابق کیا جائے۔

سنیئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس نے مقامی میڈیا میں پس پردہ مذاکرات کے متعلق شائع ہونے والی ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے تبصرہ کیا کہ اگر پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی خبر درست ہے تو شاید عمران خان لانگ مارچ کا اعلان کرنے میں اس لیے احتیاط برت رہے ہیں کیونکہ وہ ان کے مذاکرات کے نتیجے کا انتظار کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لانگ مارچ کا ہوا ضرور بنا رہے ہیں مگر وہ اس سے گریز اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ لانگ مارچ کس کے خلاف کریں گے۔ اگر ان کے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے تو عمران خان اس پر فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ وہ لانگ مارچ کو کس نہج پر لے جائیں گے۔ کیونکہ اگر لانگ مارچ کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو پارٹی اور ورکر میں بہت زیادہ مایوسی پھیل جاتی ہے۔ ایسے میں حکومت پر دباؤ بنائے رکھنا اور لانگ مارچ کا بھرم قائم رکھنا ان کے حق میں ہے۔

Back to top button