کیا عمرانڈو عدلیہ نااہلی کا فیصلہ بھی ریورس کر دے گی؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے عمران خان کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا پی ٹی آئی چیئرمین کو ہر قدم پر ریلیف فراہم کرنے والی عمرانڈو عدلیہ انکی نااہلی کا فیصلہ بھی ریورس کر دے گی؟ شیدا ٹلی کہلانے والے عمران خان کے قریبی ساتھی شیخ رشید احمد نے دعوی کیا ہے کہ کپتان کی نااہلی صرف ایک پیشی کی مار ہے اور ان کے خلاف الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جائے گا۔ عمران نے اپنی نااہلی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس انہیں نااہل کرنے کا اختیار ہی نہیں تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نااہلی کے خلاف عمران خان کی درخواست 24 اکتوبر کو سماعت کے لئے مقرر کر دی یے۔ اس سے پہلے تحریک انصاف چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی نااہلی کے لئے ریفرنس بھی دائر کر چکی ہے۔
عمران خان کے قریبی ساتھی فواد چوہدری کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ لندن میں مقیم نواز شریف نے لکھا ہے اور یہ ہر صورت ریورس ہو جائے گا۔ انکا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو حتمی شکل اعلٰی عدالتوں نے دینی ہے اور جب تک یہ کیس اعلٰی عدالتوں میں چلے گا تب تک اس پر عمل درآمد ممکن نہیں ہے۔ عمران کے قریبی ساتھی کا اصرار یے کہ اول تو اسلام آباد ہائی کورٹ ہی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم کر دے گی لیکن اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو سپریم کورٹ تو ہر صورت اس فیصلے کو ریورس کر دے گی۔ تاہم وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے دیا جانے والا فیصلہ ٹھوس شواہد پر مبنی ہے اور اس کے ریورس ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ ماضی میں دو موجودہ وزیر اعظم آرٹیکل 62 اور 63 کی زد میں آ گے تھے، لہذا عمران خان کوئی آسمان سے تو نہیں اترے کہ ان کے لیے قانون بدل دیا جائے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عمران خان بدعنوانی کے عمل کے مرتکب ہوئے ہیں اس لیے وہ آرٹیکل 63 ون پی کے تحت نااہل ہیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس فیصلے کے فوراً بعد کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس کیس میں عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کا بھی کہا ہے۔ لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی اس فیصلے کے اثرات بارے بات کرنا قبل از وقت ہے کیونکہ اسکا حتمی تعین بھی اعلٰی عدالتوں کی طرف سے ہی کیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ ہائی کورٹ اس کیس کے کیا میرٹس طے کرتی ہے اور پھر سپریم کورٹ اس کا کیا فیصلہ کرتی ہے۔ دونوں فریقین کیا دلائل دیتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ دونوں طرف سے عدالتی کارروائی میں نئی چیزیں سامنے لائی جائیں۔ انکا کہنا ہے کہ ابھی یہ بھی طے ہونا باقی ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے پر کورٹ آف لا ہے بھی یا نہیں۔ عمران کے حمایتی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس کسی رکن پارلیمنٹ کو نااہل کرنے کا اختیار نہیں۔ انکے مطابق الیکشن کمیشن کسی عدالتی فیصلے پر نا اہلی کا نوٹی فیکیشن تو جاری کر سکتا ہے لیکن خود سے نا اہلی کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اسلیے اس بات کا قوی امکان یے کہ اگر اور کچھ بھی نہ ہوا تو ہائی کورٹ اس معاملے پر حکم امتناعی جاری کر دے گی اور اس معاملے پر قانونی جنگ چلتی رہے گی۔
اسی دوران عمران خان کو سیشن جج کی عدالت میں ایک اور کیس کا سامنا بھینکرنا پڑے گا کیونکہ الیکشن کمیشن نے تحائف چھپانے سے متعلق جھوٹے بیانات جمع کرانے پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو پہلے عمران کی درخواست کے قانونی جائزے کا مرحلہ عبور کرنا ہوگا، درخواست پر لگایا جانے والا پہلا اعتراض یہ ہو سکتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے حتمی فیصلے کے خلاف پٹیشن دائر کرنے کا مناسب فورم سپریم کورٹ ہے۔ درخواست پر فوری سماعت میں ایک اور رکاوٹ الیکشن کمیشن کے تحریری حکم کی عدم موجودگی ہوگی، جس پر بینچ کے پانچوں ارکان کے دستخط ہونا باقی ہیں کیونکہ ان میں سے ایک رکن بیماری کی وجہ سے غیر موجود تھے اور انہوں نے دستخط نہیں کیے لہذا اسی وجہ سے میڈیا کو بھی ابھی تک فیصلے کی مصدقہ کاپی مہیا نہیں کی گئی۔
پی ٹی آئی کے قانونی ماہرین کا الیکشن کمیشن کے فیصلے پر بنیادی اعتراض یہ ہے کہ یہ فیصلہ جلد بازی میں جاری کیا گیا اور الیکشن کمیشن نے بینچ کے بیمار رکن کی واپسی کا انتظار نہیں کیا۔ بظاہر یہ تکنیکی پہلو عمران کو بروقت فیصلے کو چیلنج کرنے سے روک سکتا ہے کیونکہ ایک مناسب اپیل فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی ملنے کے بعد ہی دائر کی جا سکتی ہے جس پر تمام اراکین کے دستخط موجود ہوں۔ تاہم پارٹی کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اس معاملے کا الیکشن کمیشن کے زیرسماعت ہونا ایک ایسی قانونی کارروائی تھی جو اس کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے سینئر رکن ایڈووکیٹ فیصل حسین نے بتایا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ کی بجائے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس لیے چیلنج کیا کہ عمران خان کی نااہلی کا حکم دینے کے لیے الیکشن کمیشن متعلقہ فورم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ کمزور ہے اور برقرار نہیں رہ سکتا کیونکہ الیکشن کمیشن نے اپنے ہی قوانین کی خلاف ورزی کی یے۔
لیکن حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عدالت کی جانب سے ریورس کیے جانے کا کوئی امکان موجود نہیں کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کو ڈی سیٹ کیے جانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا ہوا ہے اور یہ کیس فی الحال سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ عدالت میں فیصل واوڈا کے وکیل کا زور الیکشن کمیشن کے اس دائرہ اختیار پر تھا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 62 یا 63 کے تحت کوئی اعلامیہ جاری کرسکے، اس دلیل کے جواب میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست تھا اور اس کو صرف سپریم کورٹ میں ہی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
