عمران خان اگلے الیکشن میں حصہ لے پائیں گے یا نہیں؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عمران خان کو نااہل کیے جانے کے بعد اب تک یہ کنفیوژن برقرار ہے کہ انکی نا اہلی کتنے عرصے کے لیے ہے اور کیا وہ اگلے انتخابات میں حصہ لے پائیں گے یا نہیں؟ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران پانچ سال کے لیے نا اہل کیے گئے ہیں جبکہ فواد چوہدری کا اصرار ہے کہ ان کی نااہلی صرف موجودہ اسمبلی کی مدت تک ہے. اس ابہام کی ایک وجہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مکمل تحریری فیصلہ جاری نہ کرنا ہے جسکی عدم دستیابی میں حکومت اور تحریک انصاف اپنی اپنی تشریح کر رہے ہیں۔

عمران خان کے قریبی قانونی مشیر حامد خان جہاں وزیر قانون اعظم تارڑ کی تشریح سے اختلاف رکھتے ہیں وہیں وہ جہلم کے چوہدری کی رائے سے متفق ہیں جو اکثر ان پر طنز کے تیر چلاتے رہتے ہیں۔ حامد خان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی اس رائے سے بھی متفق نہیں کہ الیکشن کمیشن کے پاس کسی رکن پارلیمینٹ کو نا اہل کرنے کا اختیار نہیں۔ حامد کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا درجہ ٹرائیبیونل کا ہے اور یہ کہ اسے نیم عدالتی اختیارات حاصل ہوتے ہیں جن کے تحت کمیشن ایسے مقدمات سننے کا مجاز ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے سے عمران نہ صرف اپنی نشست سے محروم ہو چکے ہیں بلکہ ضمنی الیکشن میں جیتی جانے والی تمام 6 سیٹوں سے بھی نااہل ہو گئے ہیں۔ تاہم نااہلی کی مدت بارے حامد خان کی رائے یہ ہے کہ یہ موجودہ اسمبلی کی مدت تک رہے گی اور اگلے انتخابات میں عمران لڑنے کے اہل ہوں گے۔

یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ فیصلہ سپریم کورٹ نے توہین عدالت ثابت ہونے پر دیا تھا کیونکہ اس وقت کے وزیراعظم نے عدالت کے حکم کے باوجود اس وقت کے صدر آصف زرداری کے خلاف سوئس حکام کو دوبارہ مقدمات کی تحقیقات کرنے سے متعلق خط نہیں لکھا تھا۔‘ سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اکرم شیخ کے مطابق عمران خان کی نااہلی پانچ برس تک کے لیے ہوئی ہے۔ ان کے مطابق یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کی نااہلی الیکشن کمیشن نے ہی کی تھی۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے کیس میں سپریم کورٹ سے قصوروار قرار دیے جانے کے بعد پانچ برس کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔ اکرم شیخ کے مطابق آئین میں پانچ سال کی نااہلی کا ذکر تو موجود ہے مگر تاحیات نااہلی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ان کے مطابق وہ جہانگیر ترین کے خلاف درخواست دائر کرنے والے ن لیگ کی رہنما حنیف عباسی کے وکیل تھے مگر انھوں نے کبھی عدالت سے جہانگیر ترین کو تمام عمر کے لیے نااہل کر دینے کا ریلیف نہیں مانگا تھا کیونکہ ’آئین میں ایسی گنجائش ہی موجود نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تاحیات نااہلی کو کالا قانون قرار دیا تھا۔ تاہم اکرم شیخ کے مطابق چیف جسٹس تو خود اس بینچ کا حصہ تھے جس نے نواز شریف کے لیے تاحیات نااہلی کی تشریح کی تھی۔ حامد خان یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ آئین میں نااہلی کی مدت پانچ سال درج ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ سنایا ہے اس کے تحت ’اس نے خود عمران کی نااہلی کو موجودہ اسمبلی کی مدت سے جوڑ دیا ہے جو کہ اگست 2023 تک بنتی ہے یعنی اگلے الیکشن میں عمران خان انتخابی اکھاڑے میں ہوں گے۔ ان کے مطابق آئین کا آرٹیکل 62 اہلیت جبکہ 63 نااہلی سے متعلق ہے۔

اکرم شیخ کے مطابق ’نااہلی کا تعلق ایک امیدوار سے ہوتا ہے اس لیے اسے ایسے فیصلے کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔ انھوں نے اس دلیل کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ عمران ضمنی انتخابات میں جیتی نشست سے اسمبلی کے رکن رہ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس فیصلے کو معطل کرانے کے لیے تحریک انصاف کو عدالتوں کو ٹھوس شواہد دینے ہوں گے کیونکہ الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ دیا ہے وہ حقائق کی جانچ پڑتال کے بعد دیا ہے۔ اکرم شیخ کے خیال میں عمران کو یہ بتانا ہو گا کہ جس پیسے سے انھوں نے تحائف خریدے تھے وہ پیسہ کہاں سے آیا تھا اور کیا انھوں نے اپنے گوشواروں میں اس کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔ انھیں یہ بھی تسلی کرانا ہوگی کہ جو تحائف انہوں نے خریدنے کے بعد فروخت کیے تھے ان کا پیسہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔

Back to top button