مری کیڈٹ کالج میں جونئیر طالبعلم سے سینیئرز کی زیادتی

مری کے ایک مشہور کیڈٹ کالج کے ہاسٹل میں ایک جونئیر طالبعلم کے ساتھ چار سینئرز کی جانب سے ریپ کا کیس سامنے آیا ہے جس پر کالج پرنسپل پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ ریپ ہونے والے لڑکے کے والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب طالبعلم نے کالج پرنسپل سے رابطہ کیا تو اس نے دھمکی دی کہ وہ واقعے کا کسی سے ذکر نہ کرے ورنہ اسے کالج سے نکال دیا جائے گا۔ واقعے کے بعد جب طالب علم کے والدین مری پہنچے اور پولیس سٹیشن میں کیس درج کروایا تو کالج انتظامیہ نے متاثرہ طالب علم کے والد کو نہ صرف کالج کے اندر یرغمال بنا لیا بلکہ پولیس کو بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

راولپنڈی پولیس ترجمان کے مطابق کار سرکار میں مداخلت اور مزاحمت کی دفعات کے تحت کالج انتظامیہ کے خلاف ایک الگ ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کی مطابق کالج کے ریٹائیرڈ فوجی پرنسپل سے رابطہ قائم کیا گیا تو اُنھوں نے سفید جھوٹ بولتے ہوئے ایسے کسی بھی واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ موصوف نے کہا کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تاکہ معاملے کو ہوا دی جا سکے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس حکام کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں۔ واقعے کا مقدمہ متاثرہ طالب علم کے والد کی مدعیت میں درج کروایا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں والد نے کہا کہ گذشتہ دنوں جب ان کی اپنے بیٹے سے فون پر بات ہوئی تو اس نے رونا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے فون پر بار بار پوچھا کہ کیا ہوا تو بیٹا نہیں بتا رہا تھا۔ میں فی الفور مری پہنچا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ میں مری سے اپنے بیٹے کو لے کر گھر آ گیا جہاں اس کی طبعیت بحال ہوئی تو اس نے بتایا کہ اس کے ساتھ ہاسٹل کے کمرے میں رات ایک بجے چار سینئر لڑکوں نے باری باری ریپ کیا ہے جن میں سے ایک کے پاس پستول بھی تھا۔ انھوں نے دھمکی دی کہ شور مچایا یا کسی کو بتایا تو جان سے مار دیں گے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ بچے نے اس واقعے سے متعلق پرنسپل کو بتایا تو انھوں نے کہا کہ ’اس واقعے کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتانا ورنہ سکول سے نکال دوں گا۔

متاثرہ طالب علم کے والد کے مطابق جب ہم نے پولیس کی مدد حاصل کی اور کالج پہنچے تو کالج انتظامیہ کی جانب سے انتہائی نامناسب صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے اور میرے ساتھ آنے والوں کو کالج انتظامیہ نے یرغمال بنا لیا تھا۔ ہمیں کالج سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ ہمیں ڈرایا دھمکایا جا رہا تھا۔ ہمیں کہا جارہا تھا کہ پولیس کیس واپس لیں ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے، تاہم کسی نہ کسی طرح ہمیں پولیس نے وہاں سے بحفاظت نکالا۔

راولپنڈی پولیس کے ترجمان سجاد الحسن کے مطابق مری میں واقع ایک کیڈٹ کالج کے ہاسٹل میں پیش آنے والے واقعے کے مقدمے میں نامزد دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دو کی تلاش جاری ہے، تفتیش کے نتیجے میں اگر کوئی اور ملزم ہوا تو اس کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق واقعے کے بعد متاثرہ طالبعلم کا میڈیکل کروا لیا گیا ہے جس کی بنیاد پر گرفتاریاں کی گئی ہیں تاہم میڈیکل کی تحریری رپورٹ فی الحال موصول نہیں ہوئی ہے۔ سجاد الحسن کے مطابق مری پولیس جب قانونی کارروائی کے لیے تعلیمی ادارے پہنچی تو اس کو بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس پر مری پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کی اور پولیس کے خلاف مزاحمت اور قانونی کارروائی میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا بھی مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس اے ایس آئی کی مدعیت میں درج ہونے والے اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ جب پولیس کارروائی کیلئے پہنچی تو پولیس پارٹی پر پتھراؤ کیا گیا۔ جس سے سرکاری گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس موقعے پر ہوائی فائرنگ بھی ہوئی۔

متاثرہ طالبعلم کے والد کا کہنا ہے کہ اُن کا بیٹا اس وقت سکتے کی کیفیت میں ہے۔ اس وقت اس کا علاج چل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بیٹے کے اچھے مستقبل کے لیے لاکھوں روپے کی فیسیں ادا کی تھیں۔ ہمیں کیا پتا تھا کہ وہاں پر ایسا واقعہ پیش آئے گا جس کے نتیجے میں ہمیں اپنے بیٹے کی زندگی کے لالے پڑ جائیں گے۔اس وقت ہمارا سارا خاندان سکتے کی کیفیت میں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ میرا فیصلہ ہے کہ میں سکول اور پھر ملزماں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا، ملزماں کو کبھی معاف نہیں کروں گا تاکہ آئندہ کسی اور طالبعلم کے ساتھ ایسا نہ ہو۔

دوسری جانب رابطہ کرنے پر جھوٹے پرنسپل نے کہا کہ اُن کا کیڈٹ کالج ایک طویل عرصے سے طلبا کی کردار سازی اور اخلاقی تربیت میں مصروف عمل ہے اور انھیں فورسز اور پاکستان کے دیگر بڑے اداروں میں بھیجنے کے لیے جدوجہد کرتا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’بورڈنگ اداروں میں چھوٹے موٹے مسائل ہوتے رہتے ہیں، کبھی طلبا لڑ پڑتے ہیں اور بعض اوقات بچے معاملات اپنے والدین تک بھی پہنچا دیتے ہیں۔ چند روز پہلے ایک واقعہ پیش آیا جس میں چار طلبا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ متاثرہ بچہ اپنی والدہ کے ہمراہ 16 اکتوبر کو ہمارے ادارے سے چھٹی پر گیا تھا۔مگر پھر اچانک پولیس آئی اور کہا کہ انھیں چار بچے مطلوب ہیں۔

دو بچے ہمارے پاس موجود تھے جنھیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔انھوں نے کہا کہ ان کے ادارے میں بہت سی بلڈنگز اور کمرے ہیں جہاں کیمرے موجود ہیں اور اہلکار بچوں کی نگرانی کے لیے موجود رہتے ہیں اس لیے ہراسانی کا اس نوعیت کا سنگین واقعہ ہونا ممکن نہیں۔ بےغیرت پرنسپل نے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ مزید جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ تاہم جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر ایسا واقعہ ان کے بیٹے کے ساتھ ہو تو کیا وہ ملزمان کو معاف کر دیں گے، تو موصوف غصے میں آ گئے۔

Back to top button