حکومت عدالتی فیصلے سے مطمئن، اپیل دائر نہ کرنے کا اعلان

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس بارے سپریم کورٹ کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئےمعاون خصوصی احتساب شہزاد اکبرکا کہنا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور بالادستی سب سے مقدم ہے. سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے سے حکومت مطمئن ہے اور یہ بڑا احسن فیصلہ ہے’ اس کیخلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی جائے گی.
اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ آج کا آنے والا سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی کی ہار یا جیت نہیں بلکہ قانون کی بالادستی کی جیت ہے انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور وزیر اعظم عمران خان عدلیہ کی عزت کرتے ہیں۔معزز ججز اور عدلیہ کی عزت و تکریم کے حوالے سے حکومت کا موقف واضح ہے۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ججز کے معاملات سپریم جوڈیشل کونسل کو ہی دیکھنے چاہئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کا کام ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوانا ہوتا ہے اس کے بعد یہ سپریم جوڈیشل کونسل اور متعلقہ جج کا معاملہ ہوتا ہے۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ حکومت اس فیصلے سے مطمئن ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی مرضی کے فیصلے کے لیے کبھی بھی کوشاں نہیں تھی۔ وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے احتساب نے مزید کہا کہ اب جج صاحب کی اہلیہ اوربچوں کو لندن کے تین فلیٹس کی تفصیلات اورمنی ٹریل جمع کراناہوگی،ایف بی آر افسر اہلیہ اور بچوں کے نام پر نوٹس جاری کرےگا اور سپریم جوڈیشل کونسل ہی اس معاملے کو دیکھے گی۔ معاون خصوصی احتساب شہزاداکبرکہتےہیں سپریم کورٹ سے انتہائی اہم فیصلہ آیااسےتسلیم کرتے ہیں،یہ کسی کی جیت یا ہار نہیں اس کو کسی اور رنگ میں پیش کرنا غلط ہے،عدلیہ کااحترام کرتے ہیں،ہم شروع سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ججز کے معاملات صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو دیکھنے چاہیے جو ایک آئینی ادارہ ہے’۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں صرف یہ وضاحت دینی تھی کہ عدالتی فیصلے میں حکومت پر کوئی الزام نہیں ہے’۔علاوہ ازیں شہزاد اکبر نے کہا کہ ‘جس دن ریفرنس بنا کر پیش کردیا اس کے بعد سے حکومتی کام ختم ہوجاتا ہے، اس کے بعد یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کانسل اور متعلقہ ججز کے درمیان ہوتاہے’۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 ماہ کے دوران مذکورہ معاملے پر کوئی رائے قائم نہیں کی گئی جبکہ متعدد سوالات اٹھائے گئے، ان سوال کے جوابات تھے لیکن ریفرنس پر سماعت جاری تھی اور ریفرنس انتہائی حساس تھا۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو کسی کی ہار اور کسی کی جیت کا رنگ دیا گیا، یہ ہرگز کسی کی جیت ہے اور نہ ہی ہار ہے، یہ وہ عمل ہے جو جمہوری معاشرے میں مکمل ہوتا ہے، کسی اور رنگ میں پیش کرنا قابل افسوس ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے بعد رپورٹنگ میں بدنیتی کا لفظ استعمال کیا گیا، بعض وکلا دوستوں نے متنازع بات کی لیکن 13 صحفات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلے میں کہیں بھی ‘بدنیتی’ کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ‘تفیصلی فیصلہ ہمارے لیے باعث رہنمائی ہوگا، ملک کے بڑے وکلا سماعت میں شریک تھے، سب نے عدالت سے تعاون کیا اور آخر میں عدالت نے بھی وکلا سے اظہار تشکر کیا’۔ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 9 کے تحت تین طریقوں سے ججز سے متعلق سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص سپریم جوڈیشل کونسل کو معلومات بھیج سکتا ہے۔ دوسرا طریقے کے تحت حکومت کی جانب سے صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتے ہیں جبکہ تیسرے طریقہ میں سپریم جوڈیشل کونسل از خود نوٹس لے سکتی ہے۔
شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ یہ کسی کی جیت یا کسی کی ہار نہیں ہے۔ یہ وہ عمل ہے جوجمہوری دور میں ہوتا ہے۔ ہر سوال کا جواب ہے، مگر سوال کا جواب نہ دینے کا مقصد کسی بھی تنازع میں نہ پڑنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو بھی رپورٹ ہوگی، اس کو اب سپریم جوڈیشل کونسل دیکھے گی۔ حکومت اس فیصلے سے مطمئن ہے، یہ ایک بہت احسن فیصلہ ہے۔ رپورٹ حکومت کو نہیں بلکہ سیدھی سپریم جوڈیشل کونسل کے سیکریٹری کو بھیجی جائیگی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست کو منظور کرلیا۔عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کی، فل کورٹ کے دیگر اراکین میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم خان، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی امین احمد شامل تھے۔
یہ معاملہ گزشتہ سال مئی سے رواں سال جون تک تقریباً 13 ماہ تک چلا، جہاں سپریم کورٹ میں اس کیس کی 40 سے زیادہ سماعتیں ہوئیں، اس دوران ایک اٹارنی جنرل نے ججز سے متعلق بیان پر نہ صرف استعفیٰ دیا بلکہ فروغ نسیم بھی کیس میں حکومت کی نمائندگی کرنے کے لیے وزیرقانون کے عہدے سے مستعفی ہوئے، یہی نہیں بلکہ یہ کیس تاریخی لحاظ سے اس لیے بھی اہم رہا کیونکہ اس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج جسٹس عیسیٰ عدالت میں خود پیش ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button