حکومت قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس لے کر عزت بچائے

قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 10 رکنی بنچ پر الزامات کے بعد حکومت نے اٹارنی جنرل انور منصور سے استفعیٰ لے لیا ہے۔ اس حوالے سے سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس ایک مذاق بن چکا ہے، حکومت کو ریفرنس واپس لے کر عزت بچا لینی چاہئیے،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراٹارنی جنرل انور منصور کی جانب سے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوائے گئے استعفے کو شئیر کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے الزام لگایا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا جواب تیار کرنے میں سپریم کورٹ کے کچھ ججوں نے ان کی مدد کی. جب سپریم کورٹ کی طرف سے ان سے الزام کا ثبوت مانگا گیا تو پیش نہ کر سکے۔ حامد میر نے مزید کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس ایک مذاق بن چکا ہے بہتر یہی ہو گا کہ حکومت ریفرنس واپس لے کر اپنی عزت بچالے.


واضح رہے کہ 20 فروری کے روز اٹارنی جنرل انور منصور نے صدر کو استعفیٰ بھجوایا تھا۔ مستعفی ہونے کے بعد انور منصورکا کہنا تھا کہ مجھ سے پاکستان بار کونسل نے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا جب برادری استعفیٰ مانگے تو استعفیٰ دینا پڑتا ہے. جبکہ اٹارنی جنرل کے مستعفی ہونے کے بعد وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور معاون خصوصی شہزاد اکبر کا بیان سامنے آیا تھا کہ اٹارنی جنرل انور منصور نے استعفی دیا نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے لیا گیا ہے کیونکہ ان کی طرف سے سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ کے سامنے اپنایا جانے والا مؤقف حکومت کی رائے نہیں تھی اور نہ ہی انھیں اس حوالے سے ایسا کوئی مؤقف اپنانے کی ہدایت کی گئی تھی.
یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے دوران اٹارنی جنرل بیرسٹر انور منصور کے مبینہ متنازع بیان پر پاکستان بار کونسل نے اٹارنی جنرل انور منصور اور وزیر قانون فروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں اٹارنی جنرل کی طرف سے ججز پر لگائے گئے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کے الزام سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ججز کی جاسوسی کا عمل اب بھی جاری ہے، اٹارنی جنرل نے جان بوجھ کرکھلی عدالت میں یہ بات کہی، اور اگر اس بیان میں صداقت ہوتی تو اٹارنی جنرل 133 دن تک خاموش نہ بیٹھتے، اٹارنی جنرل کا بیان سپریم کورٹ کو دبائو میں لانے، دھمکانے اوربلیک میل کرنے کی کوشش ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button