حکومت نے آرمی ایکٹ پر اپوزیشن میں پھوٹ ڈال دی

آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے اہم ترین قانون سازی کرتے ہوئے حکومت نہ صرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا بل منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی بلکہ اس نے دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مابین پھوٹ بھی ڈلوا دی ہے جس کے بعد پی پی پی کی قیادت نون لیگ سے نالاں نظر آتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع کاکہنا ہے کہ پارٹی قیادت سمجھتی ہے کہ ن لیگ نے ماضی کی طرح ایک بار پھر اسے دھوکہ دیا ہے
اور آرمی ایکٹ کی حمایت کا اعلان کرنے سے پہلے یا بعد میں بھی پیپلزپارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا۔ پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے شہباز شریف نے بطور پارٹی صدر بلاول بھٹو یا کسی اور سے رابطے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی
حالانکہ مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد دھرنے کے وقت یہ طے ہو گیا تھا کہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں اہم قومی معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل باہمی مشورہ کے ساتھ طے کریں گی۔
اسکے علاوہ پاکستان میں موجود نون لیگ کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف نے بھی کسی بھی پیپلزپارٹی رہنما سے رابطہ کرکے اپنی پارٹی کے فیصلے پر اعتماد میں نہیں لیا جسکی وجہ سے اب پی پی پی اور نون لیگ میں فاصلے بڑھتے نظر آرہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بلاول بھٹو کہہ چکے ہیں کہ ن لیگ نے غیر مشروط اس بل کی حمایت کر کے اپوزیشن کا کردار ہی ختم کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو اس معاملے میں اعتماد میں ہی نہیں لیا گیا۔
پیپلز پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق ن لیگ نے ایک تو پیپلز پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا، دوسرا اس نے پیپلز پارٹی کی آرمی ایکٹ کے حوالے سے مجوزہ ترامیم کی حمایت بھی نہیں کی جس سے پیپلز پارٹی کو مایوسی ہوئی اور اس نے اپنی ترمیم بھی واپس لے لی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے حکومتی اور اپوزیشن پارٹیوں کے اجلاس میں حکومت کی نمائندگی وزیر دفاع پرویز خٹک اور فروغ نسیم نے کی تھی جبکہ اپوزیشن کی طرف سے ن لیگ کے خواجہ آصف ، ایاز صادق، رانا ثنا اللہ اور محسن شاہ نواز رانجھا ،پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف ، نوید قمر اور مصطفیٰ کھوکھر شریک ہوئے تھے۔اجلاس میں پیپلز پارٹی نے جو ترامیم پیش کی تھیں ان میں آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر عدالتی اختیار ختم کرنے کی شق واپس لینے کے علاوہ ایک شق یہ بھی تھی کہ وزیر اعظم پارلیمانی کمیٹی برائے دفاع کے سامنے خود پیش ہو کر ملازمت میں توسیع کی وجوہات بتائیں گے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومتی نمائندوں نے ترامیم تو مسترد کی ہی تھیں، ن لیگ نے بھی ان کی توثیق نہیں کی جس کے بعد پی پی پی کو یہ ترامیم واپس لینا پڑیں۔
پیپلز پارٹی کے سینئر لیڈر کے بقول ن لیگ نے ایک بار پھر ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے حالانکہ پی پی پی ماضی میں مختلف مشکل مواقع پر ن لیگ کے ساتھ کھڑی رہی ہے لیکن جب بھی وقت آیا تو نون لیگ پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر خفیہ ڈیل کے ذریعے دوسرے راستے پر نکل گئی۔
