کشمیر میں انٹرنیٹ پابندیوں پر نظرثانی کی جائے

بھارتی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو 5 اگست 2019 سے خطے میں انٹرنیٹ سروس پر عائد پابندیوں پر نظرثانی کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرنیٹ کی عارضی معطلی اور شہریوں کی بنیادی آزادیوں کو کم کرنا صوابدیدی نہیں ہونا چاہیے، انٹرنیٹ کی آزادی بنیادی حق ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ کے جسٹس این وی رامانا، آر سبھاش ریڈی اور بی آر گوائی پر مشتمل عدالتی بینچ نے بھارت کی مرکزی حکومت کو ایک ہفتے میں مقبوضہ کشمیر میں تمام پابندیوں کا جائزہ لینے کا حکومت دیا۔
بھارتی سپریم کورٹ بینچ نے کہا کہ ’آئین کے آرٹیکل 19 میں آزادی اظہار رائے کے ساتھ انٹرنیٹ تک رسائی کا حق شامل ہے لہٰذا انٹرنیٹ پر پابندیوں کےلیے آرٹیکل 19(2) کے تحت تناسب کے اصولوں پر عمل کرنا ہوتا ہے‘۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’کسی خاص مدت کے بغیر اور غیر معینہ مدت‘ تک انٹرنیٹ کی معطلی ٹیلی کام قوانین کی خلاف ورزی ہے۔عدالتی بینچ نے کہا کہ پابندیوں سے متعلق تمام احکامات کو شائع کیا جانا چاہیے تاکہ انہیں عدالت میں چیلنج کیا جاسکے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ من مانی کرتے ہوئے بنیادی اختیارات پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔
عدالتی بینچ نے ریمارکس دیے کہ ’ہماری محدود تشویش لوگوں کی آزادی اور سیکیورٹی سے متعلق توازن تلاش کرنا ہے، ہم شہریوں کو حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے یہاں موجود ہیں، ہم ان احکامات کے پیچھے موجود سیاسی خواہشات تلاش نہیں کریں گے‘۔
ذرائع کے مطابق بھارت کی دفاعی اٹارنی جنرل ورندا گروور نے کہا سپریم کورٹ نے بھارتی حکومت آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن سے متعلق تمام احکامات پبلک کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ انٹرنیٹ کی معطلی سے آزادی صحافت متاثر ہوتی ہے جو آزادی اظہار رائے کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس رہنما غلام نبی آزاد اور کشمیر ٹائمز کی ایڈیٹر انورادھا بھاسن مذکورہ کے مرکزی درخواست گزاران تھے۔ انورادھا بھاسن نے کہا کہ پابندیوں کی وجہ سے آزادی صحافت، بنیادی سروسز یہاں تک کہ خاندانوں کے درمیان مواصلاتی رابطے ختم ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے لے کر اب تک مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے اور مواصلاتی بلیک آؤٹ موجود ہے۔مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے چند ماہ بعد فون کالز اور محدود ٹیکسٹ میسیجز کی اجازت دی گئی تھی تاہم انٹرنیٹ سروسز تاحال معطل ہیں۔
بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا تھا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔
بعدازاں 31 اکتوبر کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سخت سیکیورٹی کی موجودگی اور عوامی غم و غصے کے باوجود وادی پر براہِ راست وفاقی حکومت کی حکمرانی کا آغاز کیا تھا جس سے متنازع علاقہ اپنے پرچم اور آئین سے بھی محروم ہوگیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button