حکومت نے نیب چیئرمین کو سپریم جوڈیشل کونسل سے کیسے بچایا؟

وفاقی حکومت نے چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل سے واپس لے کر دراصل انہیں اس ریفرنس سے بچا لیا ہے جو ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت تھا۔ اس نااہلی ریفرنس کی آخری سماعت 12 جولائی 2021 کے روز ہوئی تھی جب چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں کونسل نے ایڈووکیٹ چوہدری محمد سعید ظفر کی جانب سے جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف دائر کردہ ریفرنس کی سماعت کی تھی۔
تاہم اب نیب کے تیسرے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے وفاقی حکومت نے جسٹس جاوید اقبال کو سپریم جوڈیشل کونسل کی لٹکتی تلوار سے بچا لیا ہے۔ وزارت قانون سے جاری ترمیمی دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت نے نئے آرڈیننس میں چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار صدر کو دے دیا ہے جو کہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر عمل کریں گے۔ یعنی اب نیب چیئرمین صرف وزیراعظم کو جواب دہ ہوں گے۔ یاد رہے کہ چھ اکتوبر کو قومی احتساب بیورو کا ترمیمی آرڈیننس 2021 وفاقی کابینہ کی منظوری اور صدر عارف علوی کے دستخطوں سے نافذالعمل ہو چکا ہے۔اس آرڈیننس کے مطابق اس کے نفاذ کے بعد جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال بطور چیئرمین نیب اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے کے باوجود نئے چیئرمین کے تعینات ہونے تک موجودہ عہدے پر برقرار رہیں گے۔
بتایا جاتا ہے کہ نیب چیئرمین اپنے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرالتوا ریفرنس کی وجہ سے پریشان تھے اور اب وفاقی حکومت نے نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے ان کی یہ پریشانی ختم کر دی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں چیئرمین نیب کیخلاف ریفرنس میں درخواست گزار ایڈووکیٹ سعید ظفر نے الزام عائد کیا تھا کہ ایک نجی کمرے میں کسی خاتون ملزم سے ذاتی ملاقات کرنا اور ہھر قابل اعتراض حرکات کرنا ایک غیر اخلاقی عمل ہے اور چیئرمین نیب کا یہ فعل غلط کاری کے زمرے میں آتا ہے۔
ریفرنس میں مزید کہا گیا کہ نیب انکوائری کے دوران ملزمہ طیبہ گل کی چیئرمین نیب سے ملاقات اور اس کے بعد فون پر ہونے والی بیہودہ گفتگو اتنے باعزت عہدے پر فائز شخص کی جانب سے سنگین مس کنڈکٹ ہے لہذا سپریم جوڈیشل کونسل چیئرمین نیب کے خلاف اس مس کنڈکٹ کی انکوائری کرے اور حقیقت جاننے کے لیے دستیاب ویڈیوز کی فرانزک جانچ کا حکم دے۔
چئیرمین نیب کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی آخری سماعت میں اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کی گئی تھی اور پوچھا گیا تھا کہ چئیرمین نیب کو قانونی طور پر ہٹانے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جائے۔ بعد ازاں وفاقی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے آرڈیننس میں چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کو دے دیا گیا تھا۔ آرڈیننس کے تحت 1999 کے آرڈیننس کے سیکشن چھ میں بھی ترمیم کی گئی ہے جس میں واضح لکھا تھا کہ چیئرمین نیب کو ہٹانے کا طریقہ کار آرٹیکل 209 میں دیے گئے سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے طریقہ کار جیسا ہوگا۔ جس کے بعد جوڈیشل کونسل نے اٹارنی جنرل کو چیئرمین نیب کو ہٹانے کا طریقہ کار وضاحت کی ہدایت کی تھی۔ آرٹیکل 209 کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہونے یا عدالت کا کوئی جج جسمانی، دماغی معذوری کی وجہ سے اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو یا بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہو تو اس پر کونسل کے اراکین فیصلہ کرتے ہیں۔
تاہم اب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ سپریم جوڈیشل کونسل سے چئیرمین نیب کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار واپس لے لیا گیا ہے لہذا انکے خلاف ریفرنس بھی غیر موثر ہو گیا ہے۔
