حکومت کا رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ
حکومت نے سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ، اس حوالے سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے چیف کمشنر اسلام آباد کو مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کو لکھے گئے مراسلے میں بتایا گیا کہ خدشہ ہے کہ رانا شمیم ملک سے فرار ہو سکتے ہیں ، مراسلے کے متن میں کہا گیا کہ رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی کارروائی شروع کرنے کی درخواست ہے۔کیس کی اگلی سماعت 13 دسمبر کو ہے، نام فوری ای سی ایل میں ڈالا جائے۔
واضح رہے کہ توہین عدالت شوکاز نوٹس پر سابق چیف جج جی بی رانا شمیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریری جواب جمع کرا دیا ہے۔
رانا شمیم نے توہین عدالت شوکاز نوٹس پر تحریری جواب جمع کرواتے ہوئے موقف اپنایا کہ جو کچھ کہا حلفیہ طور پر کہا ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا ان حقائق پر سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے گفتگو گلگت میں ہوئی جو پاکستان کی حدود سے باہر ہے ، رانا شمیم نے موقف اپنایا کہ میں نے بیان حلفی پبلک نہیں کیا اور میرے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہو سکتی ہے ، اپنی زندگی کے دوران پاکستان میں بیان حلفی پبلک نہیں کرنا چاہتا تھا۔
گلگلت بلتستان کے سابق چیف جج نے بتایا کہ برطانیہ میں بیان ریکارڈ کرانے کا مقصد بیان حلفی کو بیرون ملک محفوظ رکھنا تھا ، واقعہ ثاقب نثار کیساتھ 15 جولائی 2018 کی شام چھ بجے کی ملاقات کا ہے، مرحومہ بیوی سے وعدہ کیا تھا حقائق ریکارڈ پر لاؤں گا، بیان حلفی مرحومہ اہلیہ سے کیا وعدہ نبھانے کیلئے جذباتی دباؤ میں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک لبیک سے اشتراک پر تحریک انصاف میں تقسیم
گلگلت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے کہا کہ بیان حلفی کسی سے شئیر کیا نہ ہی پریس میں جاری کیا ، عدلیہ کو متنازعہ بنانا میرا مقصد نہیں تھا جو کچھ ہوا اس پر افسوس کا اظہار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ، میرے خلاف توہین عدالت کا شوکاز نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے۔
