حکومت کا نواز شریف کو وطن واپس لانے کا حتمی فیصلہ

وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو وطن واپس لانے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ نیب ذرائع کے مطابق نوازشریف کو عدالتی حکم پر نیب نے نہیں وفاقی حکومت نے بیرون ملک جانے کی اجازت دی، اب نواز شریف کو واپس لانے کے لیے وزارت داخلہ کو برطانیہ اور انٹرپول کو خط لکھنا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو وطن واپس لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ ہفتے نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے کارروائی کا آغاز کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی عدم واپسی کی صورت میں شہباز شریف سے پوچھ گچھ کی جائے گی کیونکہ وہ ان کے ضمانتی بھی ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزارت خارجہ کے ذریعے برطانوی حکومت سے مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف کو واپس لانے کےلیے درخواست کی جائے گی، نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر قانون کی آنکھو ں میں دھو ل جھونک کر ملک سے فرار ہو گئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ نواز شریف لندن میں بیٹھ کر کافی پی رہے ہیں، وہاں سے بلاول بھٹو اور فضل الرحمان سے رابطہ ہے۔ ان کا اگر کسی سے رابطہ نہیں، تو اپنے بھائی شہباز شریف سے نہیں ہے۔ شبلی فراز نے کہا کہ نواز شریف کو واپس آنا چاہیے، وہ عدالت کے سامنے سوالوں کے جواب رکھیں۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ نواز شریف ایک بیماری کا بہانہ بنا کر باہر چلے گئے تھے۔ انہوں نے قانون کا مذاق اڑایا اور بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے فرار ہوئے پنجاب حکومت نے ان سے میڈیکل رپورٹ مانگی لیکن لندن میں علاج تو کیا ایک ایکسرے تک نہیں کیا گیا۔ اسی حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ سابق وزیرا عظم نواز شریف کو ملک واپس آکر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے، دوسری صورت میں حکومت انہیں ملک واپس لانے کے لئے قانونی کارروائی کرے گی، انہوں نے کہا کہ نواز شریف طبی بنیادوں پر بیرون ملک علاج کرانے کےلئے گئے جس کےلئے عدالت نے انہیں ضمانت دی مگر وہ علاج کرانے کی بجائے لندن میں مزے کی زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت نے سابق وزیراعظم کو سزا دی اور اگر وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے تو انہیں اشتہاری قرار دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو باہر بھیجنے کی اجازت دینے سے تحریک انصاف کے بیانیہ کو شدید دھچکا لگا تاہم اب نواز شریف کی صحت کے بارے میں شریف فیملی کو بھی کوئی شک نہیں کہ وہ ٹھیک ہیں، اب نواز شریف لندن میں پھر رہے ہیں، کافیاں پی رہے ہیں، نواز شریف کی طبیعت اب ٹھیک ہے، کیا جاتے ہوئے بھی اتنی ہی طبیعت خراب تھی۔وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ ہائی کورٹ نے نواز شریف کی رپورٹس مانگیں تو پیش نہیں کی گئیں۔بانی متحدہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمیں بانی ایم کیو ایم واپس چاہیے، برطانوی حکومت دہشت گردی کی بات کرتی ہے، ہمارا سب سے بڑا دہشت گرد تو لندن میں بیٹھا ہے۔
جبکہ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا اس ھوالے سے کہنا ہے کہ حکومت کی خواہش تو ہے کہ نواز شریف کو واپس لایا جائے لیکن ہم اسحٰق ڈار اور سلمان شہباز کو نہیں لاسکے تو نواز شریف کو لانا آسان کام تو نہیں۔
خیال رہے کہ میاں نوازشریف کی طبیعت21 اکتوبر 2019 کو خراب ہوئی اور ان کے پلیٹیلیٹس میں اچانک غیر معمولی کمی واقع ہوئی، اسپتال منتقلی سے قبل سابق وزیراعظم کے خون کے نمونوں میں پلیٹیلیٹس کی تعداد 16 ہزاررہ گئی تھی جو اسپتال منتقلی تک 12 ہزار اور پھر خطرناک حد تک گرکر 2 ہزار تک رہ گئی تھی۔نوازشریف ک پلیٹیلیٹس انتہائی کم ہونے کی وجہ سے کئی میگا یونٹس پلیٹیلیٹس لگائے گئے لیکن اس کے باوجود اُن کے پلیٹیلیٹس میں اضافہ اور کمی کا سلسلہ جاری ہے۔
نوازشریف کی صحت کے معاملے پر ایک سرکاری بورڈ بنایا گیا تھا جس کے سربراہ سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (سمز) کے پرنسپل پروفیسر محمود ایاز تھے جب کہ اس بورڈ میں نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی شامل تھے۔
سابق وزیراعظم نوازشریف 16 روز تک لاہور کے سروسز اسپتال میں زیر علاج رہے جس کے بعد انہیں 6 نومبر کو سروسز سے ڈسچارج کرکے شریف میڈیکل سٹی منتقل کیا گیا تاہم شریف میڈیکل سٹی جانے کی بجائے ان کی رہائش گاہ جاتی امرا میں ہی ایک آئی سی یو تیار کیا گیا جس کی وجہ سے وہ اپنی رہائش گاہ منتقل ہوگئے۔
نواز شریف کو لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں طبی بنیادوں پر ضمانت دی ہے اور ساتھ ہی ایک ایک کروڑ کے 2 مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے 26 اکتوبر کو ہنگامی بنیادوں پر العزیزیہ ریفرنس کی سزا معطلی اور ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی اور انہیں طبی و انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 29 اکتوبر تک عبوری ضمانت دی تھی جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم کی سزا 8 ہفتوں تک معطل کردی۔اس مقدمے میں سابق وزیراعظم کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
8 نومبر کو شہباز شریف نے وزارت داخلہ کو نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی اور 12 نومبر کو وفاقی کابینہ نے نوازشریف کو باہر جانے کی مشروط اجازت دی۔ ن لیگ نے انڈيمنٹی بانڈ کی شرط لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردی اور 16 نومبر کو لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی جس کے بعد 19 نومبر کو نواز شریف علاج کے لیے لندن روانہ ہوگئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button