حکومت کا ٹیکس دہندگان کی گرفتاری کے اختیارات ختم کرنے کا عندیہ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) افسران کو بغیر وارنٹ کے لوگوں کی گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے فنانس بل میں موجود شق پر حزب اختلاف کے سخت اعتراض کے بعد وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے سینیٹ کو یقین دلایا کہ متنازع شق ختم کردی جائے گی۔
وزیر قانون نے اس اصول پر اتفاق کیا کہ فیصلہ سنانے سے پہلے کسی شخص کی گرفتاری نامناسب ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹم قوانین میں اس سے متعلق دفعات کا جائزہ لیا جائے گا۔
سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمٰن نے مسئلہ اٹھایا اور اسے بنیادی حقوق کی دفعہ 203-اے کے خلاف قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس افسران کو گرفتاری کے اختیارات منی مارشل لا لگتا ہے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی فنانس ریونیو اور اقتصادی امور کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا جس نے متفقہ طور پر اسے مسترد کردیا اور فنانس بل سے دفعات کو ختم کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کو بتایا گیا کہ کسٹم ایکٹ میں بھی یہی شق موجود ہے۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی نے بھی حکومت سے یقین دہانی چاہی کہ اس مقصد کے حصول کے لیے بیک ڈور استعمال نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button