حکومت کو تحریک لبیک سے کیا معاہدہ FATF میں بھگتنا پڑ گیا

کپتان حکومت کی جانب سے شدت پسند مذہبی جماعت تحریک لبیک کے ساتھ فرانس کے سفیر کو ملک سے بے دخل کرنے کا معاہدہ بظاہر پوری پاکستانی قوم کو بھگتنا پڑ گیا ہے۔ معلوم ہوا یے کہ پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی مخالفت روایتی حریف بھارت سے بھی بڑھ کر یورپ کے بااثر ترین ملک فرانس نے کی جس کی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے جنوری 2021 میں علامہ خادم حسین رضوی کی شدت پسند تنظیم تحریک لبیک کے ساتھ کیا جانے والا ایک معاہدہ تھا۔ ذرائع کے مطابق فرانس کا موقف تھا کہ حکومت پاکستان ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے شدت پسند تنظیموں کو ختم کرنے کی بجائے انکے ساتھ معاہدے کر رہی ہے لہذا اسے گرے لسٹ سے نکالنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد تحریک لبیک پاکستان نے فرانسیسی سفیر کو بیدخل کروانے کے لئے 16 فروری کے لیے اعلان کردہ اسلام آباد مارچ مؤخر کردیا تھا۔ اسکے بعد وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے اعلان کیا تھا کہ حکومت پاکستان 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ تاہم اب یہی حکومتی اعلان پاکستان کو بھگتنا پڑا ہے اور اسے جون 2021 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جب سے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا ہے، پڑوسی ملک انڈیا نے بڑھ چڑھ کر پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی کوششیں کی ہیں۔ کئی مرتبہ تو انڈیا کے سینئر وزرا ایف اے ٹی ایف کے اجلاس سے پہلے پاکستان کے بلیک لسٹ میں جانے کی پیشگوئیاں کرتے رہے ہیں لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو پایا ہے۔ لیکن ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس کی اطلاعات کے مطابق اس میں پاکستان کے روایتی حریف انڈیا سے بھی بڑھ کر فرانس نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کی مخالفت کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ تو حکومت پاکستان کا تحریک لبیک کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ تھا جب کہ دوسری وجہ فرانس اور انڈیا کے مابین ہونے والے دفاعی آلات کی فراہمی کے معاہدے ہیں۔ یاد رہے کہ انڈیا نے حال میں فرانس سے اربوں ڈالرز مالیت کے دفاعی پیدوار کے متعدد معاہدے کیے ہیں جن میں جدید جنگی طیارے رفال کا سودا بھی شامل ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب عمران خان حکومت اس معاملے پر دونوں جانب سے مشکل میں پھنس چکی ہے۔ اگر حکومت تحریک لبیک کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق 20 اپریل تک پارلیمنٹ میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد نہیں لاتی تو تحریک لبّیک سڑکوں پر نکل آئے گی اور اگر حکومت قرارداد لے آتی ہے تو پھر فرانس مزید ناراض ہوگا اور ایف اے ٹی ایف کے اگلے اجلاس میں پاکستان کے لیے بھارت سے مل کر مزید مسائل کھڑے کرے گا۔ وفاقی حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان ناموس رسالت ﷺ کے معاملے پر ہونے والے ضمنی معاہدے کی تصدیق وزیراعظم نے خود کی تھی۔ خیال رہے کہ 2020 میں فرانس میں سرکاری سطح پر نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم دنیا میں سخت ردعمل آیا تھا خاص طور پر پاکستان میں بھی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔ اس معاملے پر تحریک لبیک نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا جسے حکومت کے ساتھ 16 نومبر کو معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے دو روز بعد 19 نومبر 2020 کو تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے تھے۔ نومبر 2020 میں ہوئے اس معاہدے میں حکومت پاکستان فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق 3 ماہ میں پارلیمنٹ سے فیصلہ لے گی، فرانس میں اپنا سفیر دوبارہ قبول نہیں کرے گی اور تحریک لبیک کے تمام گرفتار کارکنان کو رہا کرے گی۔ اگرچہ آخری مطالبہ فوری طور پر مان لیا گیا تھا لیکن پہلا مطالبہ ابھی زیر التوا ہے۔
بعد ازاں تحریک لبیک نے رواں برس جنوری میں خبردار کیا تھا کہ حکومت نے اگر 17 فروری تک توہین رسالت ﷺ کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا تو وہ اپنا احتجاج دوبارہ شروع کرے گی۔ خادم حسین رضوی کے چہلم پر ان کے صاحبزادے اور تحریک کے نئے سربراہ سعد رضوی نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر آپ اپنا معاہدہ بھول گئے ہیں تو ہماری تاریخ دیکھ لیں، اب ہم حضور ﷺ کی ناموس کے لیے مرنے کو مزید تیار ہیں، آپ کے پاس فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے لیے 17 فروری تک کا وقت ہے جس کے بعد حکومت کی جانب سے لبیک والوں کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا جس کے نتیجے میں حکومت نے 20 اپریل تک کی مہلت حاصل کرلی۔ اس حوالے سے معاہدے کی دستیاب نقل کے مطابق تحریک لبیک پاکستان اور حکومت پاکستان کے درمیان ناموس رسالت کے معاملے پر 16 نومبر 2020 کو ایک معاہد ہوا تھا جس پر تاحال عمل نہیں ہوسکا۔ اس میں کہا گیا کہ اس مسئلے پر حکومت پاکستان اور تحریک لبیک ﷺ کے درمیان گزشتہ ایک ماہ سے مذاکرات جاری تھے، جس میں حکومت نے اپنے عزم کو دوہرایا اور معاہدے کی شقوں کو 20 اپریل 2021 تک پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا اور فیصلے پارلیمنٹ کی منظوری سے طے پائیں گے۔ دونوں فریقین کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے جو لوگ فورتھ شیڈول پر ڈالے گئے ہیں ان کے نام نکال دیے جائیں گے، مزید یہ کہ 20 اپریل 2021 تک معاہدے کی روح کے منافی کوئی سرگرمی پر معاہدہ منسوخ سمجھا جائے گا۔ تحریری معاہدے کے مطابق اس ضمنی معاہدہ کا اعلان وزیراعظم پاکستان کریں گے جس کے بعد یہ معاہدہ نافذ العمل ہوگا اور اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مذکورہ معاہدے پر حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے دستخط موجود ہیں جبکہ تحریک لبیک کی طرف سے ان کے شوریٰ کے نمائندگان غلام غوث بغدادی قادری رضوی، ڈاکٹر محمد شفیق امینی اور غلام عباس فیضی شامل ہیں۔ بعد ازان میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم نے بھی تصدیق کی تھی کہ ہمارا تحریک لبیک ایک معاہدہ ہوگیا ہے اور اب اس پر عمل درآمد کی ڈیڈ لائن 20 اپریل تک چلی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 20 اپریل تک کیا حکومت پاکستان پارلیمنٹ میں فرانس کے سفیر کو بے دخل کرنے کی کارروائی کا آغاز کرتی ہے یا نہیں؟
