حکومت کی این اے 133 کا الیکشن ملتوی کروانے کی کوشش

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 133 میں تحریک انصاف کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ اور انکی کورنگ امیدوار مسرت چیمہ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد پنجاب حکومت نے اس حلقے میں الیکشن ملتوی کروانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن سے رجوع کر لیاہے۔ پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو درخواست دیتے ہوئے کالعدم تحریک لبیک کے دھرنے اور علامہ خادم حسین رضوی کی پہلی برسی کو بنیاد بنایا ہے اور حلقہ این اے 133 میں الیکشن ملتوی کروانے کی استدعا کی ہے۔ تاہم یاد رہے کہ تحریک لبیک اور وفاقی حکومت کے مابین پہلے ہی ایک معادہ طے پا چکا ہے جس کے بعد امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں رہا لہذا الیکشن کمیشن کو حکومتی استدعا کو دراصل الیکشن سے فرار کا ایک بھونڈا بہانہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 18 اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے این اے 133 میں ضمنی انتخاب کے شیڈول کا اعلان کیا تھا جس میں کہ پولنگ کی تاریخ 5 دسمبر مقرر کی گئی تھی۔قومی اسمبلی کی نشست 11 اکتوبر کو تب خالی ہوئی تھی جب ایم این اے پرویز ملک، جو مسلم لیگ (ن) کے لاہور چیپٹر کے صدر بھی رہ چکے ہیں، دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔ وہ پانچ بار لاہور سے منتخب ہو چکے تھے اور 2018 کے انتخابات کے بعد لاہور کی نشست این اے 133 سے پارٹی کے ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔ این اے 133 کے ضمنی انتخاب کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد جانچ پڑتال کے عمل میں تحریک انصاف کے جمشید اقبال چیمہ اور ان کی کورنگ امیدوار انکی اہلیہ مسرت جمشید کے کاغذات پر اعتراض لگا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ انکے تجویز اور تائید کنندہ حلقہ 133 کے ووٹرز نہیں تھے۔ جمشید اقبال چیمہ کی نااہلی کے بعد تحریک انصاف کا اس حلقے سے کوئی امیدوار میدان میں نہیں بچا لہذا امن و امان اور علامہ خآدم حسین رضوی کی برسی کا بہانہ بنا کر حکومت پنجاب ضمنی الیکشن سے بھاگنا چاہتی ہے۔ اسی لیے حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب قرار دے کر حالات معمول پر آنے تک ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط میں لاہور کے ضمنی الیکشن کو دوبارہ شیڈول کرنے کی درخواست کی ہے جسکی وجہ سیکیورٹی کی صورتحال بتائی گئی۔ یہ مطالبہ تب کیا گیا جب لاہور کی ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی نے 28 اکتوبر کو اپنے اجلاس میں ضمنی انتخاب کو موجودہ اور مستقبل کے سیکیورٹی حالات، خاص طور پر 19 نومبر کو تحریک لبیک پاکستان کے بانی خادم حسین رضوی کی پہلی برسی کے بعد دوبارہ شیڈول کرنے کی سختی سے سفارش کی۔ خط میں دعویٰ کیا گیا کہ صوبائی حکومت ای سی پی کے فیصلے کی تعمیل میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے محفوظ ماحول میں انعقاد کے لیے ہر ممکن کوششیں کرنے کے لیے پرعزم ہے لیکن کالعدم ٹی ایل پی نے اسلام آباد کی جانب ’لانگ مارچ‘ شروع کر دیا ہے تاکہ حکومت پر وہ اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے دباؤ ڈال سکے۔ اس میں کہا گیا کہ یہ مظاہرین بڑے پیمانے پر عوام کی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اس کے نتیجے میں اب تک جاری پرتشدد احتجاج میں متعدد پولیس اہلکار شہید اور شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ محکمہ داخلہ نے ای سی پی کو بتایا کہ 19 نومبر کے بعد کے مہینوں میں امن و امان کی سنگین صورتحال کا شدید خدشہ ہے۔آنے والے مہینوں میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ای سی پی سے کہا گیا کہ وہ حالات کے معمول پر آنے تک ضمنی انتخابات کو دوبارہ شیڈول کرے۔
تاہم دوسری جانب حکومت اور تحریک لبیک کے مابین 31 اکتوبر کو معاہدہ طے پاچکا ہے جس کے بعد لانگ مارچ کا چیپٹر کلوز ہوچکا اور اس کے نتیجے میں علامہ خادم رضوی کی برسی پر بھی کسی قسم کی سیکیورٹی صورتحال کا خدشہ نہیں۔ ویسے بھی علامہ خادم حسین رضوی کی برسی 19 نومبر کو ہے جبکہ ضمنی انتخاب 5 دسمبر کو ہے، لہذا پنجاب حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن سے این اے 133 میں الیکشن ملتوی کرنے کا مطالبہ نامناسب اور ناقابل عمل قرار دیا جا رہا ہے۔
