نااہل حکومت کو لانے اور بچانے والوں کو شرم کیوں نہیں آتی؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹی فیکیشن پر وزیراعظم عمران خان نے جو کھلواڑ کھیلا اس کے بعد فوج میں دو واضح گروپ نظر آنے لگے۔ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ اب فوجی ترجمان کی جانب سے ریجکیٹڈ کا کوئی ٹویٹ نہیں آیا۔ اب نہ تو اس نااہل ترین حکومت کو غیرت آتی ہے، اور نہ ہی اسے لانے والوں کو شرم آتی ہے۔ اب حکومت کے پاس نہ تو منہ چھپانے کو جگہ ہے، نہ شرم سے ڈوب مرنے کو پانی میسر ہے۔ آج جو اس حکومت کے ساتھ ہو رہا ہے، یہ مکافات عمل ہے اور اس کا نزول آسمانوں سے ہو رہا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ ماضی میں خان صاحب کنٹینر پرچڑھ کے فرمایا کرتے تھے کہ جب چیزیں مہنگی ہوتی ہیں تو پیسے حکمرانوں کی جیب میں جاتے ہیں، آج اس ملک میں صرف موت سستی رہ گئی ہے۔ مقصوف کہتے تھے مجھے ایک دفعہ کسی نے کہا کہ استعفی دے دو تو میں گھر چلا جاؤں گا، آج پورا ملک جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دیتا ہے مگر استعفی تو کیا خان صاحب کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ وہ یاد دلواتے ہیں کہ نواز شریف لندن میں بیمار بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر مریم نواز کا ہاتھ تھامے جب لندن سے ایک بے بنیاد مقدمے میں سزا کاٹنے آئے تو انھوں نے ایک ہی جملہ کہا تھا کہ ”میں اپنا فیصلہ خدا کے سپرد کرتا ہوں۔“ جانے وہ قبولیت کی گھڑی تھی یا نواز شریف کے دکھی دل کی آہ تھی، تب سے آج تک کپتان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے جو کہا، جو کیا، وہ انھیں تھوک کر چاٹنا پڑا۔ نواز شریف پر کون کون سے الزامات نہیں لگائے گئے ؛کرپشن، دہشت گردی، ملک دشمنی، کفر کے فتوے، اقرباء پروری، فوج کے خلاف اعلان جنگ، مہنگائی، معیشت کی تباہی۔ لیکن یہ سب الزام سب آج عمران حکومت کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ تب نواز شریف پر ٹھٹھے لگائے گئے، ”گو نواز گو“ کی کمپین چلائی گئی۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس میں نہ اپوزیشن کا کوئی کردار ہے، نہ پی ڈی ایم کے جلسوں سے یہ ممکن تھا، نہ ملک کے جغرافیائی حالات کو کوئی مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے، نہ عالمی طاقتیں اس کی ذمہ دار ہیں۔ یہ سب مکافات عمل ہے اور اس کا نزول آسمانوں سے ہو رہا ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ ملکوں کی تاریخ میں ایسی سازشوں کی قلعی کھلنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہم نے تین سال میں ہی کایا پلٹتے دیکھ لی۔ جس سرعت سے نواز شریف کو نا اہل کیا گیا تھا اسی سرعت سے اس حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید ہو رہی ہے۔ جتنی پلاننگ سے نواز شریف کے خلاف سازش کی گئی تھی، جتنے انہماک سے جمہوریت کش منصوبہ بنایا گیا تھا، کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ صرف تین سالوں میں سازشوں کو یہ قصر زمیں بوس ہو جائے گا۔ بقول عمار، اللہ بڑا کارساز ہے اور صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے اس حکومت اور اس کے لانے والوں کو نواز شریف کا صبر کھا گیا ہے۔ ان کو تین بار کے بے دخل وزیر اعظم کی آہ لگی ہے۔ ان کی ہزیمت خود ان کے اعمال کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ کوئی حکمت عملی اس برق رفتاری سے اس حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی تنزلی کا سبب نہیں ہو سکتی تھی، یہ فیصلے کسی اور عدالت میں ہو رہے ہیں۔ جہاں مظلوم کی داد رسی ہوتی اور ظالم کو اس کے ظلم کی سزا ملتی ہے، یہ انسانوں کے بس کی بات نہیں۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ آج کسی ایک شعبے کو اٹھا لیں، کسی ایک نکتے کو پکڑ لیں، بات اس حکومت کی تذلیل پر ختم ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ایک لمحے میں پرانی وڈیوز، پرانے بیانات، پرانے عزائم سامنے آ جاتے ہیں۔ صورت حال اس قدر واضح ہو چکی ہے کہ اب اس حکومت کے پاس نہ منہ چھپانے کو جگہ ہے، نہ شرم سے ڈوب مرنے کو پانی میسر ہے۔ اس حکومت کے لانے والے آج اب بھی اس کے پیچھے کھڑے ہیں اس کی وجہ نہ جمہوریت ہے، نہ حب الوطنی ہے، نہ کسی ادارے کی ساکھ ہے، نہ غیرت کا کوئی مقام ہے ؛ اب اس حکومت کے چلنے کی واحد وجہ ڈھٹائی ہے، بے شرمی ہے، بے حسی ہے۔ خان صاحب کہا کرتے تھے، ”آئی ایم ایف سے قرض لینے سے بہتر ہے ہم خود کشی کر لیں“ آج دنیا دیکھ کر رہی ہے کہ ہم کشکول ہاتھ میں لیے در در گھوم رہے اور ہمارے کاسے میں صرف وطن کی عزت کی نیلامی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ خان صاحب کہتے تھے، ”معیشت اچھی نہیں تو بری بھی نہیں“ آج معیشت کو تباہ کر کے، ہر شعبے کو فنا کر کے نہ کوئی سیمینار ہو رہا ہے، نہ کوئی ٹویٹ آ رہی ہے۔
عمار مسعود یاد دلواتے ہیں کہ عمران کہتے تھے ”اپنے لوگوں پر تشدد کی اجازت نہیں دیں گے“ آج صحافی اغوا ہو رہے ہیں، دھرنے والوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں، اپنے لوگوں کو ہی قتل کیا جار ہا ہے، ہنستے بستے شہروں میں خندقیں کھودی جا رہی ہیں لیکن نہ کوئی ٹویٹ آ رہی، نہ رینجرز نادیدہ حکم پر پیچھے ہٹنے سے انکار کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں موصوف کہا کرتے تھے، ”پٹرول کی قیمت بڑھانے والے حکمران کرپٹ ہوتے ہیں“ اب پٹرول کی قیمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگ خود کشی کر رہے ہیں مگر حکمرانوں کی کرپشن والا نعرہ کوئی نہیں لگا رہا۔ خان صاحب کہتے تھے سبز پاسپورٹ کی اتنی عزت ہو گی کہ دنیا یہاں نوکریاں ڈھونڈنے آئے گی، اب سبز پاسپورٹ کی اتنی عزت ہے، بائیڈن فون نہیں کر رہا، مودی کال نہیں اٹھا رہا، پوری دنیا اس وزیر اعظم کو کٹھ پتلی کہہ رہی ہے۔
بقول عمار مسعود، سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ایک ٹویٹ کے جواب میں ”ریجیکٹڈ“ کی ٹویٹ لکھنے والوں کو علم ہی ہو گا کہ ایک نا اہل شخص نے اس ملک کے ساتھ اس کے سب سے منظم ادارے کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفیکیشن پر وہ کھلواڑ کھیلا گیا کہ ادارے میں دو واضح گروپ نظر آنے لگے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اب ریجکیٹڈ کا کوئی ٹویٹ نہیں آیا۔ کہتے تھے جب چیزیں مہنگی ہوتی ہیں تو پیسے حکمرانوں کی جیب میں جاتے ہیں، آج اس ملک میں صرف موت سستی رہ گئی ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کی ماضی میں خان صاحب کہتے تھے، ”ہم ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، پچاس لاکھ گھر غریبوں میں تقسیم کریں گے“ لیکن آج کروڑوں لوگوں کو بے روزگار کر دیا اور غریبوں کی جھگیاں مسمار کر دیں مگر بنی گالہ کا محل ریگولرائزڈ ہو گیا ہے۔ بقول عمار، موصوف کہتے تھے، ”ہم ایک پیج پر رہ کر اداروں کی عزت بڑھائیں گے“ آج ملک کا بچہ بچہ جنرل فیض حمید اور جنرل باجوہ پر پھبتیاں کس رہا ہے، عاصم باجوہ سے رسیدیں نکالنے کا مطالبہ کر رہا ہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔ انھوں نے نواز شریف پر جوتا پھینکا، خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینکی، احسن اقبال کو گولی ماری اور آج ان کے اپنے ایم این اے، ایم پی اے اپنے حلقوں میں اس خوف سے نہیں جاتے کہ لوگ انھیں پتھر ماریں گے۔
اور تو اور کہتے تھے کہ اپنے لوگوں کے خلاف طاقت استعمال نہ کی جائے۔ لیکن آج حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے، میڈیا پر مارشل لاء لگا ہوا ہے مگر کسی کو شرم نہیں آ رہی۔ یہ تو چند مثالیں ہیں گزشتہ تین سال کی تاریخ ایسی ہزیمت سے بھری پڑی ہے۔ اب نہ حکومت کو غیرت آتی ہے، نہ لانے والوں کو شرم آتی ہے۔ سب ایک ڈھٹائی سے اس منظر کو دیکھ رہے ہیں، اس ملک کے عوام کی زبوں حالی پر قہقہے لگا رہے ہیں، غریبوں کی موت، بے روزگاروں کی حالت زار پر، ان کے افلاس پر تمسخر اڑا رہے ہیں لیکن ان تین سالوں میں اس ملک کے عوام کو معلوم ہو گیا ہے کہ کس طرح منتخب وزرائے اعظم کو نکالا جاتا ہے، کس طرح سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس ملک کو برباد کیا جاتا ہے، کس طرح جمہوریت کو پامال کیا جاتا ہے، کس طرح میڈیا کو شکنجوں میں قید کیا جاتا ہے، عمار مسعود کہتے ہیں کہ یہ مکافات عمل نہیں تو اور کیا ہے، یہ اس حکومت پر اللہ کا عذاب نہیں تو اور کیا ہے۔ نواز شریف نے اچھا کیا کہ لندن میں بیمار بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر مریم نواز کا ہاتھ تھامے جب لندن سے ایک بے بنیاد مقدمے میں سزا کاٹنے آئے تو انھوں نے اپنا فیصلہ خدا کے سپرد کر دیا۔ انسانوں سے اس قدر جلد انصاف کو توقع نہیں کی جا سکتی۔
