حکومت کے پاس اسپتال بنانے کے پیسے نہیں

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس تو پیسے نہیں کہ سارے پاکستان میں اسپتال بناتی پھرے نہ ہی وسائل ہیں، بدقسمتی سے ہمارے پاس قرضوں کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ ٹیکس کی مد میں ہونے والی آمدن کا نصف حصہ تو قرضوں کی ادائی میں چلا جاتا ہے۔
پشاور میں ادارہ برائے امراض قلب کے افتتاح کے موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس اتنے فنڈز نہیں کہ 22 کروڑ افراد کو ہیلتھ کوریج دیں لیکن ہیلتھ کارڈ کی وجہ سے نجی سیکٹر آئے گا اور وہ آگے آرہا ہے اسپتال بنانے کےلیے، کیوں کہ جس کے پاس ہیلتھ کارڈ ہوگا وہ سرکاری یا نجی کسی بھی اسپتال سے اپنا علاج کرواسکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کا مطلب کہ وہ علاقے جہاں نجی شعبہ اسپتال بنانے کےلیے نہیں جاتا تھا کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ لوگوں کے پاس وسائل ہی نہیں، لیکن اب نجی شعبہ ان غریب علاقوں میں اسپتال قائم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جن دو صوبوں میں ہے ادھر میں نے ہدایت دے رکھی ہے کہ نجی شعبے کو اسپتالوں کےلیے سستے داموں زمین فراہم کی جائے اور پنجاب میں تو اوقاف کی زمینوں پر سستے داموں اسپتالوں کی تعمیر کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین سستی کرنے کے ساتھ اسپتالوں میں استعمال ہونے والے وہ تمام آلات جو ملک کے اندر نہیں بنتے انہیں ڈیوٹی فری کردیا گیا ہے اور پھر ہیلتھ کارڈ کی وجہ سے لوگوں کے پاس خرچ کرنے کی صلاحیت آجائے گہ تو آپ دیکھیں گے کہ پورے پاکستان میں انقلاب آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سب سے اہم ذمہ داری عوام کی صحت کا دھیان رکھنا ہے تو یہ بہت بڑا اقدام ہے، ساتھ ہی انہوں نے پشاور کارڈیک انسٹیٹیوٹ کا معیار برقرار رکھنے کی خصوصی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسپتالوں کا معیار آہستہ آہستہ گرتا چلا جاتا ہے جسے برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شوکت خانم آج سے 25 سال پہلے تعمیر ہوا تھا لیکن اس کے معیار میں کمی نہیں بلکہ صرف اضافہ ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ سرکاری اسپتال معیاری ہوں تا کہ وہ نجی اسپتالوں کا مقابلہ کرسکیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ لوگوں کی اموات امراض قلب اور کینسر کی بیماریوں سے ہوتی ہیں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کو پشاور کارڈیک انسٹیٹیوٹ کی تکمیل پر مبارکباد دی اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت میں امراض قلب کے ادارے کا نہ ہونا بہت بڑا ظلم تھا۔ انہوں نے بتایا کہ لیڈی ریڈنگ اسپتال میں امراض قلب کے شعبے کی صورتحال بہت بری تھی اور وہاں شرح اموات خاصی بلند تھی جس کی وجہ سے اسے بند کرنا پڑا اس وجہ سے ایک خصوصی کاڑدیک انسٹیٹیوٹ کی بہت ضرورت تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس ادارے کی تعمیر کا منصوبہ کافی پہلے بنایا گیا تھا لیکن فنڈز اور وسائل کی کمی تھی اور اب جب کہ کورونا وبا پھیلی ہوئی ہے اس دوران ان فنڈز کو تلاش کر کے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر میں صوبائی حکومت کو مبارکباد دیتا ہوں۔ عمران خان نے کہا یہ اسپتال نہ صرف سارے صوبے کےلیے مفید ہوگا بلکہ ایسی کوئی سہولت اس علاقے میں نہ ہونے کی وجہ سے افغانستان سے بھی مریض یہاں علاج کروانے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے پورے صوبے کے عوام کو ہیلتھ انشورنش فراہم کرنے کے فیصلے پر انہیں سب سے زیادہ خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اس سے بڑی نعمت کسی قوم بالخصوص غریب طبقے کےلیے نہیں ہوسکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی غریب گھر میں کسی کو کوئی بیماری ہو تو وہ پورا گھرانہ غربت کی لکیر سے نیچے چلاجاتا ہے جس پر آج تک کسی حکومت نے نہیں سوچا تھا، ایک ایسا ملک جہاں اشرافیہ، وزیراعظم، وزرا علاج کےلیے باہر چلے جاتے ہیں وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اگر کسی عام آدمی کے گھر میں مشکل وقت یا بیماری ہو تو وہ کیا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ بار بار کہتے ہیں کہ ریاست مدینہ کہاں ہے تو یہ قدم ریاست مدینہ کی جانب ہے، اُس ریاست میں دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریاست نے کمزور طبقے کی ذمہ داری لی تھی جس کےلیے انہوں نے صرف اپنی ذہنیت تبدیل کی تھی باقی تو اللہ کرتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست نبی ﷺ نے بنائی تھی، ان کے پاس بھی وسائل نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج صوبائی حکومت نے صوبے کے تمام شہریوں کو ہیلتھ انشورنس دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ہم سے کہیں زیادہ امیر ممالک تک میں عوام کو یونیورسل ہیلتھ کوریج نہیں دی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے ہر غریب گھرانے کو یہ اعتماد حاصل ہوگا کہ کسی بیماری کی صورت میں ان کے پاس ہیلتھ کارڈ ہے دوسرا شاید آپ کو بھی اندازہ نہیں کہ آپ صحت کے معاملے میں پاکستان میں انقلاب لے آئے ہیں اس سے آپ کا پوا نظام صحت اٹھ کھڑا ہوگا۔ پمز ملازمین کی ہڑتال کے اعلان پر انہوں نے کہا کہ اسپتالوں کی اصلاحات کا صرف یہ مقصد ہے کہ سرکاری اسپتال بھی نجی اسپتالوں کی طرح کام کریں جہاں سزا اور جزا ہوتی اسی لیے وہ کامیاب بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال اصلاحات کا مقصد ایک بورڈ تشکیل دینا ہے جو اسے نجی اسپتال کی طرح چلائے اس کا مطلب نجکاری نہیں ہے۔ سانحہ آرمی پبلک کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس سانحے نے دکھ میں قوم کو متحد کیا جس کے بعد قوم نے فیصلہ کیا کہ سب مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے۔ اور اس کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کو شکست دی گئی اور اب ملک کے حالات ان حالات سے بالکل مختلف ہیں جو 16 دسمبر 2014 سے پہلے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button