حکومت ہر جگہ سے ناکام ہونے کے بعد خفیہ کیمروں والے مستری لے آئی

3 مارچ کو سینیٹ انتخابات کے بعد ایوانِ بالا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو منتخب کرنے کےلیے آج الیکشن ہورہا ہے تاہم ایسے میں پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمروں کی تنصیب کا معاملہ سامنے آیا جس پر اپوزیشن اراکین کے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین کی جانب سے بیانات داغنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اس ضمن میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹر پیغام میں 2018 کے عام انتخابات اور ڈسکہ میں ہوئے حالیہ ضمنی انتخاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آر ٹی ایس اور ڈسکہ دھند کے بعد سینیٹ پر ڈاکا ڈالنے والے آخری جنگ ہار چکے ہیں۔ مریم نواز نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سے منہ کی کھائی، آئینی ترمیم میں ناکام رہے، صدارتی آرڈیننس ردی کا ٹکڑا بن گیا تو خفیہ کیمروں والے مستری لے آئے، آئین میں خفیہ ووٹ کا ذکر ہے خفیہ کیمروں کا نہیں! ووٹ چورو شرم کرو اور کرسی چھوڑو!۔ نائب صدر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اور اپوزیشن کے ووٹ چوروں کو این آر او دینے سے انکار کے بعد، الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے میں ناکامی کے بعد خفیہ کیمروں کے ذریعے آئین کی توہین ایک سنگین جرم ہے، سیلیکٹرز بھی سوچتے ہوں گے کیا مصیبت گلے پڑ گئی! نا اُگلے بن رہی ہے نا نگلے بن رہی ہے۔ ایک اور ٹوئٹر پیغام میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ سیلیکٹرز نے اتنا ساتھ دیا، ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا، اپنی نوکریاں اور امیج خطرے میں ڈال دیا مگر ناکامی پر ناکامی، شرمندگی پر شرمندگی!۔ رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ آپ کا لے پالک ڈوب رہا ہے مگر آپ کو ساتھ لے کر ڈوب رہا ہے، فوج کے ادارے کو اس ووٹ چور، آٹا چور، چینی چور، ملکی ترقی چور اور فوج کی حرمت چوری سے بچائیں!۔ دوسری جانب پولنگ بوتھ کے کیمروں کے معاملے پر بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صادق سنجرانی نے جس طرح ایوان کے عزت و وقار کو مجروح کیا ہے اس پر ان کو مستعفی ہوجانا چاہیے اس کے سوا اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل میں ایک داغ آچکا ہے جسے ہمیں دور کرنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے بتایا کہ ان کی جماعت کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کےلیے سینیٹ سیکریٹریٹ میں درخواست دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مصدق ملک نے آج چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کےلیے بنائے گئے پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمرے نصب ہونے کا انکشاف کیا تھا اور انہوں نے اس کی تصاویر اور ویڈیوز بھی پیش کی تھیں۔
اس معاملے پر اراکین سینیٹ کی حلف برداری کے بعد ایوان میں اپوزیشن نے شور شراباکیا تھا جس پر پریزائیڈنگ افسر نے پولنگ بوتھ تبدیل کرنے کی ہدایت جاری کردی تھی۔ دوسری جانب حکومتی اراکین نے خفیہ کیمروں کی تنصیب کا الزام الٹا اپوزیشن پر عائد کردیا اور کہا کہ اپوزیشن کی سازش بے نقاب کردی ہے اور جس نے کیمرا لگایا ہے اس نے ہی ڈھونڈا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button