مریم کو جان سے مارنے کی دھمکی کس نے اور کیوں دی؟

سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے مریم نواز کی جان کو درپیش خطرات کے حوالے سے پاکستانی فوجی قیادت پر لگائے جانے والے تازہ ترین الزام نے اسٹیبلشمینٹ کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی یے۔ جہاں اس بیان کو حکومتی حلقوں نے فوج کی ساکھ خراب کرنے کی ایک سازش قرار دیا ہے وہیں لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں صاحب نے مریم کو دی گئی دھمکی پبلک کرکے دراصل ان کی زندگی محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے۔ نواز شریف کے اس سخت ترین بیان سے یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنے مسلسل دعووں کے باوجود ملکی سیاست میں ایک فعال کردار ادا کر رہی ہے اور عمران کی اتحادی بن کر اپوزیشن کے خلاف ڈٹی ہوئی ہے۔
11 مارچ کو نواز شریف نے ٹوئٹر پر جاری کردہ ویڈیو میں کہا ہے کہ ان کی بیٹی مریم نواز کو دھمکی دی گئی ہے کہ انھیں ‘سمیش’ SMASH کر دیا جائے گا۔ مریم نواز نے اپنے والد کی ٹویٹ کے بعد ایک صارف کو جواب دیتے ہوئے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ انھیں ’صرف دھمکیاں نہیں، گندی گالیاں بھی دی گئیں۔‘
نواز شریف نے پاکستانی وقت کے مطابق رات 8.45 پر کی گئی ٹویٹ میں فوجی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے پیغام لکھا کہ ‘پاکستان کے جمہوری نظام اور اخلاقیات کو پاؤں تلے روندتے ہوئے آپ اس حد تک گر چکے ہیں کہ پہلے آپ نے کراچی میں چادر اور چار دیواری کو پامال کیا، رات کے وقت مریم نواز کے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا اور اب انہیں دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر وه باز نہ آئیں تو انہیں SMASH کر دیا جائے گا۔’
ویڈیو میں نواز شریف نے کہا کہ ’مریم جس جرات اور ایمان کے ساتھ عوام کے حق حکمرانی اور ووٹ کو عزت دو کی جنگ لڑ رہی ہیں انشا اللہ ان کی حفاظت ہمارا اللہ کرے گا۔‘ نواز شریف نے کہا کہ ‘میں خدائی لہجے میں دھمکیاں دینے والوں کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی نے کوئی مذموم حرکت کی تو اس کے ذمہ دار عمران خان کے علاوہ جنرل قمر جاوید باجوہ، جنرل فیض حمید اور جنرل عرفان ملک ہوں گے۔’ یاد رہے کہ جب اپوزیشن کا اتحاد نے گجرانوالہ سے حکومت مخالف تحریک شروع کی تھی تو نواز شریف نے پہلے جلسے میں جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید کا نام لے کر ان پر قومی سیاست میں مداخلت کرنے کے الزامات عائد کیے تھے اور یہ بھی کہا تھا کہ عمران خان کو 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے برسر اقتدار لانے میں بھی ان دونوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس طرح کی اطلاعات آنا شروع ہوئیں کہ شاید فوجی اسٹیبلشمنٹ اب اپوزیشن اتحاد کے ساتھ اپنے معاملات بہتر کر رہی ہے جس کے بعد میاں صاحب کی جانب سے بھی جرنیلوں کا نام لینا بند کر دیا گیا۔ اسی دوران فوجی ترجمان نے کم از کم دو مرتبہ یہ اعلان کیا کہ فوج سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی اور وہ مکمل طور پر غیر جانبدار ہے۔ تاہم سینٹ کے الیکشن اور پھر عمران خان کو قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ دلانے کے عمل میں یہ بات واضح ہوکر سامنے آئی کہ اسٹیبلشمنٹ اب بھی سیاسی ہے اور حکومت کے ہاتھوں میں اپوزیشن کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ چنانچہ مریم نواز کے لہجے میں دوبارہ سے اسٹیبلشععمنٹ کے حوالے سے سختی آنا شروع ہوگئی اور انھوں نے یہ دعوی کردیا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اب بھی کپتان کی حمایت میں اپوزیشن کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے اپنی ایک تحریر میں انکشاف کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو کھلے عام روزانہ للکارنے والی مریم نواز کو انتہائی اعلیٰ حکومتی سطح پر جان سے مار دینے کی سازش تیار کی جا رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مریم کو انکے خیر خواہوں نے اطلاع دی یے کہ اُنہیں کسی حادثے میں پار لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے اور کوشش کی جائے گی کہ ان کی موت حادثہ لگے۔ سہیل وڑائچ نے یہ خبر بریک کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مریم اِس طرح کی اطلاعات کو دھمکی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی سمجھنے میں حق بجانب ہیں، کیوں کہ جب سیاسی ماحول ہی شک اور سازش کا ہو تو ایسے میں مریم شک کو حقیقت کیوں نہ سمجھیں؟ سہیل وڑائچ کے مطابق جب شفافیت نہیں ہوتی، جبر اور ظلم کی دھند چھائی ہوتی ہے تو پھر جسٹس وقار احمد سیٹھ، جج ارشد ملک اور علامہ خادم حسین رضوی کی موت بھی مشکوک بن جاتی ہے۔ ہر طرف سازش اور شک کا دور دورہ ہے، جب ریاست میں قانون کی عملداری اور انصاف کی بالا دستی نہ ہو تو سازش اور شک کا کلچر پروان چڑھتا ہے، ہر ایک کو دوسرے پر شک ہے کہ وہ اُس کے خلاف سازش کر رہا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق سازش کے اسی ماحول میں مریم نواز کو اُن کے کسی بہی خواہ نے اطلاع دی ہے کہ اُن کو انتہائی اعلی سطح پر جان سے مار دینے کی سازش سوچی جا رہی ہے اور کوشش یہ کی جائے گی ان کے انکی موت حادثاتی لگے۔
یاد رہے کہ جسٹس وقار سیٹھ، جج ارشد ملک اور علامہ خادم حسین رضوی کی اموات بظاہر کرونا وائرس سے ہوئیں لیکن سازشی نظریہ رکھنے والی یہ الزام لگا رہے ہیں کہ ان کو سازش کے تحت قتل کیا گیا گیا کیونکہ تینوں کے پاس ایسے دھماکہ خیز راز تھے جو کھل جاتے تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا پراگندہ چہرہ مزید داغدار ہو جاتا۔
سہیل وڑائچ نےیاد دلوایا کہ قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک کے کئی بڑے واقعات سازش اور شک کی داغدار چادر سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ بیمار قائداعظم محمد علی جناح کو سازش کے تحت خراب ایمبولینس بھیجی گئی اور ملک کا بانی کئی گھنٹے سڑک پر دوسری ایمبولینس کا انتظار کرتا رہا۔ شک کا پھن پھیلائے سانپ ہمارے دو وزرائے اعظم لیاقت علی خاں اور بےنظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے اندر اور باہر قتل کیے جانے کو بھی سازش قرار دیں تو اسے حقیقت مانے بغیر بھی چارہ نہیں۔ اِسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی جیل میں پھانسی اور دوسرے کئی وزیراعظموں کی اسمبلیوں کو صدور اور عدالتوں کے ذریعے جبراً قتل پر اگر ایک سازش اور شک کا الزام لگے تو کون اِس سے انکار کرے گا؟ اِسی طرح یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کے خلاف مرضی کے عدالتی فیصلوں کے ذریعے اُنہیں وزارتِ عظمیٰ سے نکالنے کو سازش اور شک کے زمرے میں شامل کئے جانے کے علاوہ چارہ کار کیا ہے؟
سہیل وڑائچ کا استدلال تھا کہ شک اور سازش کی عمومی صورتحال کے باوجود ریاست سے یہ سوال اُٹھانا پڑتا ہے کہ اسکا کا پہلا فرض تو فرد کے جان و مال کی حفاظت ہے، ایسے میں مریم نواز کو اگر حکومت اور ریاست سے ہی اپنی جان کا خطرہ ہو تو کون ہے جو اُسے دلاسہ دے اور کون ہے جو اُسے اِس پریشان کن صورتحال سے امان دے؟ نہ یہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے غیرجانب دار نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی عدل و انصاف فراہم کرنے والے ایوانوں پر مسلم لیگ ن کا اعتماد ہے۔ جب اداروں پر اتفاقِ رائے نہ ہو، نہ ہی کوئی ضمانتی یا متفق علیہ ہو، ہر کسی کو دوسرے پر شک اور سازش کا گمان ہو تو پھر گھڑمس، تصادم اور کشمکش سے کیسے بچ سکیں گے؟ کسی ریاست کے جمہوری اور انصاف پسند ہونے کا معیار یہ ہوتا ہے کہ وہاں اقلیتوں اور مخالفوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ مریم نواز کے والد لندن میں، چچا یعنی شہباز شریف جیل میں ہیں، وہ اپوزیشن کی اہم رہنما ہیں، اکیلی جنگ لڑ رہی ہیں، اگر ایسے میں اُنہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں یا واقعی اُنہیں جان سے مارنے کی سازش ہو رہی ہے تو یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
ان حالات میں سہیل وڑائچ اصرار کرتے ہیں کہ ریاست کے اعلیٰ ترین عہدیداروں اور وزیراعظم کو خود یہ اعلان کرنا چاہئے کہ مریم نواز کی جان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اور جو کوئی، جس بھی سطح پر اس بارے میں کچھ منفی سوچ رہا ہے، اُس کا احتساب کرنا چاہئے۔
حکومت اور ریاست یہ موقف اختیار کر سکتے ہیں کہ مریم نواز کو محض وہم ہے، اُن کا شک ناجائز ہے، حکومتی یا ریاستی سطح پر اُنہیں مارنے کی کوئی سازش نہیں ہو رہی مگر کیا اتنا کافی ہے؟ اگر ریاستی اور حکومتی لوگوں میں اِس وقت کوئی بھی ایسا نہیں جو مریم نواز کی جان لینے کا ارادہ رکھتا یے تو بھی ریاست اور حکومت کے دشمن غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لئے ایسے وسوسے اور شک تو ڈال سکتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق ہو سکتا ہے کہ حکومت، اپوزیشن پر سازش کا جو الزام لگا رہی ہے، وہ بھی صرف شک ہو اور اپوزیشن، حکومت سے جن سازشوں کا سامنا کر رہی ہے وہ بھی محض شک ہوں مگر فرض کریں کہ ریاست کے کسی ادارے یا ملک کے کسی فرد کے ساتھ کوئی حادثہ ہو گیا، کسی سازشی نے، کسی ملک دشمن نے، کسی غدار نے، کسی لڑائی کروانے والے نے بےنظیر بھٹو جیسا کوئی نیا حادثہ کر دیا تو پھر ذمہ داری کون لے گا؟
یاد رہے کہ اپنی ویڈیو میں نواز شریف نے پاکستانی فوجی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ ‘جو کچھ آپ نے کیا ہے اور کرتے چلے آ رہے ہیں، یہ سنگین جرم ہے، اس کا آپ کو بہت جلد حساب دینا پڑے گا۔’ انھوں نے وڈیو بیان میں الزام عائد کیا کہ ‘آپ’ نے سینیٹ انتخاب میں شکست کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں بھی مدد کی اور مزید دعوی کیا کہ ‘ڈسکہ کا الیکشن 2018 کے عام انتخابات کا ری پلے تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ’پھر کہتے ہیں کہ ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔’
تاہم واضح رہے کہ حکومت وزیر اعظم کے اعتماد کے ووٹ اور ڈسکہ انتخابات میں اپوزیشن کے الزامات کو متسرد کرتی رہی ہے۔ حکومت کا الزام ہے کہ دراصل اپوزیشن نے سینیٹ کے انتخاب میں پیسے کے زور پر کامیابی حاصل کی۔
اس کے علاوہ پاکستانی فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر بھی حالیہ عرصے میں مسلم لیگ ن کی قیادت کی فوجی قیادت پر سیاست میں مداخلت کی تنقید کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا سیاستدانوں سے کہنا ہے کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹا جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں اپوزیشن کی حکومت مخالف پی ڈی ایم کے جلسے کے سلسلے میں مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر اعوان سندھ کے شہر کراچی میں موجود تھیں جہاں انھوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دی تھی۔
ان کے شوہر کیپٹن صفدر پر جناح کے مزار پر نعرے بازی کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور بعد میں سندھ پولیس نے پیر کی صبح انھیں مقامی ہوٹل سے گرفتار کر لیا تھا۔مریم نواز نے واقعہ کے بعد پریس کانفرنس سے خطابت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ صبح فجر کے بعد چھ بجے کے بعد کسی نے زور زور سے ہوٹل میں ان کے کمرے کا دروازہ پیٹنا شروع کر دیا۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ ابھی صفدر کپڑے ہیے تبدیل کر رہے تھے کہ پولیس زبردستی حفاظتی لاک توڑ کر اندر آ گئی اور انھیں گرفتار کر کے لے گئی۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ ‘ووٹ کوے عزت دو سے، مادرِ ملت زندہ باد کے نعروں سے کسے ڈر لگتا ہے۔’انھوں نے مزید کہا تھا کہ نواز شریف نے اور پی ڈی ایم نے جو سوالات اٹھائے ہیں، کیا ان کا جواب یہی ہے کہ غداری اور دہشتگردی کے مقدمات درج کیے جائیں؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف کی جانب سے مریم نواز کے قتل کی سازش تیار کرنے کا الزام لگنے کے بعد پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کیا کرتی ہے۔
