چیئرمین سینیٹ کا انتخاب اور نمبر گیم

ایوانِ بالا میں آج اراکین چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب کریں گے۔
اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کی جانب سے مشترکہ طور پر چیئرمین سینیٹ کےلیے یوسف رضا گیلانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کےلیے مولانا عبدالغفور حیدری کو نامزد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سے حکومت نے چیئرمین کے عہدے کےلیے صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدے کےلیے مرزا محمد آفریدی کو میدان میں اتارا ہے۔ ایوان بالا میں موجود حکومتی اتحاد میں پاکستان تحریک انصاف کے 27 اراکین، بلوچستان عوامی پارٹی کے 12 اراکین، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 3 اراکین، آزاد اراکین 3 اور پی ایم ایل کیو اور جی ڈی اے کا ایک ایک امیدوار ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن کے پاس پیپلز پارٹی کے 21، مسلم لیگ (ن) کے 17 اراکین(اسحٰق ڈار کے سوا)، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے 5 اراکین جب کہ اے این پی، بی این پی مینگل، پی کے میپ اور نیشنل پارٹی کے 2، 2 اراکین اور جماعت اسلامی کا ایک رکن ہے۔ یوں اس وقت ایوانِ بالا میں 99 اراکین موجود ہیں ان میں مسلم لیگ (ن) کے خودساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے رہنما اسحٰق ڈار شامل نہیں جنہوں نے اپنی نشست کا حلف بھی نہیں اٹھایا تھا۔ ان 99 اراکین میں 47 کا تعلق حکمران اتحاد جب کہ 52 کا اپوزیشن جماعتوں سے اور اگر جماعت اسلامی کے واحد سینیٹر گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں انتخاب کی طرح ووٹ ڈالنے نہیں آئے تو اس وقت بھی اپوزیشن کے پاس 4 ووٹوں کی برتری ہوگی۔ تاہم یہ بات مدِ نظر رہے کہ اراکین کی تعداد ہمیشہ کامیابی یا شکست کی ضمانت نہیں ہوتی۔ اس کی حالیہ مثال 3 مارچ کو سینیٹ انتخابات کے دوران قومی اسمبلی میں حکومتی اراکین کی اکثریت کے باوجود اسلام آباد سے اپوزیشن امیدوار یوسف رضا گیلانی کا منتخب ہونا ہے جنہوں نے حکومتی امیدوار ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو شکست دے دی تھی۔ اس ضمن میں مسترد ہونے والے ووٹوں نے بھی انتہائی اہم کردار ادا کیا اور یوسف رضا گیلانی نے عبدالحفیظ شیخ کے 164 ووٹس کے مقابلے 169 ووٹس حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔
