خادم رضوی کے دباؤ پر فلم "زندگی تماشا” کی ریلیز نہیں رکے گی

سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اسلامی نظریاتی کونسل کو تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی کے کردار کے حوالے سے بنائی گئی سرمد کھوسٹ کی تنقیدی فلم ‘زندگی تماشا’ کا جائزہ لینے سے روک دیا ہے۔
سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر نے فلم کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ’کیا ریاست اب اسلام آباد پر حملہ کرنے والے مولویوں کے ہاتھوں یرغمال بنے جائے؟ انہوں نے کہا کہ ہم ریاست کو یرغمال بنانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہیں آئیں گے۔ ریاست کے معاملات پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہی چلائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرمد کھوسٹ کی فلم "زندگی تماشا” کی نمائش کا فیصلہ اسلامی نظریاتی کونسل نہیں بلکہ پارلیمنٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک کے دباؤ پر سنسر بورڈ کی طرف سے ریلیز روکے جانے کے بعد سرمد کھوسٹ کی فلم ’’زندگی تماشا‘‘ کو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھجوا کر اس کی رائے طلب کی گئی تھی تاکہ فلم کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کیا جاسکے۔ تحریک لبیک نے اس فلم پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اس میں علامہ خادم حسین رضوی کے کردار کو مسخ کرکے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا گیا ہے۔
اسلام آباد میں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ دیتے ہوئے مرکزی فلم سنسر بورڈ کے چیئرمین دانیال گیلانی نے بتایا کہ پاکستانی فلم ’زندگی تماشا‘ پر کوئی پابندی عائد نہیں کی تاہم شدت پسند مولویوں دباؤ کے باعث فلم کے بارے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے مانگی گئی ہے۔ فلم کے پروڈیوسر سے درخواست کی گئی ہے کہ کچھ عرصہ تک فلم کو ریلیز نہ کیا جائے۔
تاہم چیئرمین کمیٹی مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ فلم سنسر بورڈ کا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنا ایک مذاق سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویسے بھی اسلامی نظریاتی کونسل کو کوئی بھی معاملہ بھیجنے کا اختیار پارلیمان کے پاس ہے۔ انہوں نے مرکزی فلم سنسر بورڈ کے چیئرمین کو ہدایت کی کہ فلم پہلے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو دکھائی جائے۔ اگر کمیٹی نے سمجھا کہ اس میں کوئی قابل اعتراض مواد نہیں تو فوری فلم کی نمائش کی اجازت دے دی جائے گی اور اگر اس میں قابل اعتراض مواد ہوا تو اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے مانگی جائے گی۔‘
مرکزی فلم سنسر بورڈ کے چیئرمین دانیال گیلانی نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ ’فلم کے حوالے سے پروڈیوسر نے 26 جولائی 2019 کو درخواست دی تھی جس پر سنسر بورڈ نے فلم دیکھنے کے بعد 30 جولائی 2019 کو سرٹیفیکیٹ جاری کیا۔ ’3 اکتوبر کو تحریک لبیک پاکستان نے سنسر بورڈ کو درخواست دی جس پر سنسر بورڈ نے فلم کو دوبارہ دیکھنے کا فیصلہ کیا جس میں کچھ متنازع مناظر ہٹائے گئے اور 14 اکتوبر کو فلم کو دوبارہ سرٹیفیکٹ جاری کر دیا گیا۔
مرکزی فلم سنسر بورڈ کے چیئرمین نے بتایا کہ ’اس کے بعد تحریک لبیک معاملہ عدالت میں لے کر گئی اور 17 جنوری کو فلم روکنے کے لیے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ دانیال گیلانی نے کہا کہ 22 جنوری کو بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ کر رہی تھی اس لیے سندھ سنسر بورڈ نے 21 جنوری کو ہونے والا پرومو روک دیا اور پنجاب سنسر بورڈ نے فلم کو جاری سرٹیفیکیٹ کے حوالے سے نظر ثانی کا فیصلہ کیا۔
کمیٹی کے چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مرکزی فلم سنسر بورڈ کے چیئرمین پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا ریاست اب مولویوں کے ہاتھوں یرغمال بنے گی اور مولوی بھی وہ جنہوں نے دو بار اسلام آباد پر حملہ کیا۔ چیف جسٹس اور آرمی چیف کے خلاف فتوے دیے؟ چیئرمین مرکزی سنسر بورڈ نے کہا کہ ’ہم نے اس معاملے کا درمیانی راستہ نکالنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے مانگی ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے اعتراض اٹھایا کہ آپ کے پاس یہ اختیار نہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے مانگیں، ’کونسل سے رائے پارلیمان مانگ سکتی ہے سنسر بورڈ نہیں۔‘
کمیٹی کے ارکان نے چیئرمین مرکزی فلم سنسر بورڈ دانیال گیلانی سے متعدد بار پوچھا کہ اس فلم میں ایسا کیا ہے؟ کمیٹی کے رکن عثمان کاکڑ نے کہا کہ ’ بتایا جائے ’زندگی تماشا‘ میں کیا تماشا ہے؟ یہاں تو ساری زندگی ہی تماشا بنی ہوئی ہے۔ دانیال گیلانی نے کہا کہ ’تحریک لبیک پاکستان نے فلم کا ٹریلر دیکھا اور ان کو لگا کہ یہ فلم ان کے خلاف بنائی گئی ہے۔ ’ہم نے فلم سے کچھ سینز حذف کیے ہیں لیکن فلم پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔‘
اجلاس کے بعد چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنسر بورڈ کو اسلامی نظریاتی کونسل کو فلم دکھانے سے روک دیا گیا ہے۔ ’سنسر بورڈ 16 مارچ کو کمیٹی کو فلم زندگی تماشا دکھائے گا اور کمیٹی اس فلم کی نمائش کے بارے میں فوری فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ابھی تک جو اطلاعات ملی ہے ان کے مطابق فلم میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ اپنے لوگوں کو چھڑوانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا لیکن ہم ایسے گروپوں کے دباؤ میں نہیں آئیں گے جو ریاست کو یرغمال بناتے ہیں۔ ریاست کے معاملات پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہی چلائے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button