دبئی کی ملکہ نے گارڈ سے معاشقے کے بعد بادشاہ کو چھوڑا

حال ہی میں لندن ہائی کورٹ نے دبئی کے امیر محمد بن راشد المکتوم کے خلاف ان کی سابق اہلیہ شہزادی حیا کی جانب سے کیے گئے بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا جس کی سماعت کے دوران چند ہوشربا انکشاف ہوئے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران شیخ راشد کے وکیل نے شہزادی حیا پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنے برطانوی گارڈ کی محبت میں مبتلا ہوکر دبئی کے حکمران سے طلاق لی۔
اب برطانوی ویب سائٹ ڈیلی میل آن لائن نے بھی یہ دعوی کیا ہے کہ دبئی کے شاہی جوڑے کی علیحدگی اور مقدمہ بازی کی بنیادی وجہ شہزادی حیا کا اپنے سابق برطانوی سکیورٹی آفیسر کے ساتھ افیئر تھا، جس کے باعث طلاق ہوئی اور شہزادی حیا فرار ہو کر برطانیہ آ گئیں۔ دبئی کے حکمران ستر سالہ شیخ محمد بن راشد المکتوم کی اہلیہ اور اردن کے وزیراعظم شاہ عبداللہ دوم کی سوتیلی بہن شہزادی حیا بنت الحسین گزشتہ سال اس وقت خبروں کی زینت بنیں، جب وہ اپنے دو بچوں کے ہمراہ متحدہ عرب امارات سے فرار ہو کر پہلے جرمنی اور پھر وہاں سے برطانیہ پہنچ گئیں۔ جولائی 2019 میں لندن ہائیکورٹ میں شیخ راشد اور شہزادی حیا کے مابین بچوں کی حوالگی کے حوالے سے لندن میں عدالتی جنگ شروع ہوگئی جس میں شہزادی حیا فاتح قرار پائیں۔ مشرق وسطیٰ کے شاہی خاندانوں میں یہ اپنی نوعیت کا ایک انتہائی انوکھا اور حیران کن واقعہ تھا کہ کس طرح ایک شہزادی بچوں کو ساتھ لے کر دوسرے ملک منتقل ہوئی اور اپنے انتہائی بااثر شوہر پر اپنے دیگر بچوں اور بہن بھائیوں کے ساتھ نہ صرف غیر انسانی سلوک کا الزام لگایا بلکہ بچوں کی حوالگی سے بھی انکار کر دیا۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیا ہوا کہ شہزادی حیا کو متحدہ عرب امارات اور شاہی خاندان کی پر آسائش زندگی چھوڑ کر برطانیہ منتقل ہونا پڑا۔ انہوں نے تب یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بچوں کی جان خطرے میں ہے اس لیے انہیں ایسا کرنا پڑا۔ شہزادی حیا کے قریبی ذرائع کے مطابق انھیں خوف تھا کہ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو شیخ محمد کی بہن شہزادی لطیفہ اور دیگر بیٹیوں کے ساتھ ہوا۔خیال رہے کہ چھ بیویوں سے شیخ محمد کے 23 بیٹے بیٹیاں ہیں اور حیا چھٹی بیوی تھیں۔
ان سب اطلاعات کے برعکس برطانوی اخبار دی گارڈین نے دعویٰ کیا ہے کہ شہزادی حیا کو اپنے شوہر محمد بن راشد کی سفاکی سے ہی تنگ نہیں تھی بلکہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ شہزادی حیا اپنے برطانوی سکیورٹی آفیسر کی محبت میں گرفتار ہو گئی تھی اور شیخ راشد نے دونوں کو برطانیہ میں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق برطانوی فوج کے سابق میری ٹائم سیکیورٹی آفیسر رسل فلار جو کہ پانچ سال تک شہزادی حیا کے چیف پروٹیکشن آفیسر کے طور پر ذمہ داری نبھاتے رہے، ایک روز برطانیہ میں شیخ راشد المکتوم کے اچانک چھاپے پر ان کی اہلیہ کے ساتھ پائے گئے۔ خیال رہے کہ رسل فلار اس واقعے سے ایک سال قبل شیخ راشد کی فیملی کی سیکیورٹی ٹیم سے فارغ کئے جاچکے تھے۔
ڈیلی میل آن لائن کے مطابق شیخ محمد راشد کو شہزادی حیا اور رسل فلار کے تعلقات کے حوالے سے شک تھا جس کی بنا پر رسل کو عرب امارات سے واپس برطانیہ بھجوادیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ شاہی خاندان کے ساتھ قیام کے دوران شہزادی حیا نے رسل فلار پر غیر معمولی عنایات اور نوازشات کیں جس پر شیخ راشد سخت ناراض تھے۔ شہزادی حیا اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران رسل فلار کو اپنے ساتھ ساتھ رکھنے پر ضد کیا کرتی تھیں۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ شہزادی کی سیکیورٹی میں شامل دیگر گارڈز کو بھی دونوں کے معاشقے کا علم تھا اور یہ سب رسل فلار اور شہزادی حیا کو ایک ساتھ رہنے میں اپنی بھرپور مدد اور تعاون فراہم کیا کرتے تھے۔
شیخ راشد کو معلوم ہوا تھا کہ ان کی لاڈلی بیوی شہزادی حیا نے اپنے برطانوی گارڈ کو پچاس ہزار پاؤنڈ کی ایک قیمتی رائفل لے کر دی جبکہ دیگر کئی مواقعوں پر بھی انہوں نے رسل کو بیش قیمت تحائف دئیے تھے۔ جب رسل فلار سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا انہی کی وجہ سے شہزاد حیا کو طلاق ہوئی ہے، تو رسل نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔
دوسری جانب شیخ راشد المکتوم نے شہزادی کے برطانیہ فرار کے بعد اپنے انسٹا گرام اکاونٹ پرایک نظم شائع کی ہے جس میں محبوب کی بیوفائی اور ہرجائی پن کا ذکر کیا گیا ہے۔ شاہی خاندان کے قریبی افراد کا ماننا ہے کہ شیخ راشد نے دراصل اس نظم میں اپنی سابق بیوی شہزادی حیا کو بےوفا اور بد کردار ٹھہرایا تھا۔ شیخ راشد المکتوم نے یہ الزام بھی لگایا کہ متحدہ عرب امارات چھوڑنے کے بعد شہزادی حیا نے ان کے بچوں کے اکاؤنٹ سے 32 ملین امریکی ڈالر غیر قانونی طور پر نکلوائے ہیں۔
یاد رہے کہ 10 اپریل 2004 کو 30 سال کی عمر میں اردن سے تعلق رکھنے والی شہزادی حیا بنت الحسین کی شادی دبئی کے امیر اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم سے ہوئی تھی۔ اس وقت وہ 53 سال کے تھے اور شہزادی حیا ان کی چھٹی اہلیہ تھیں۔ پندرہ سال بعد شیخ محمد بن راشد المکتوم نے فروری 2019 میں عین اس روز شہزادی حیا کو طلاق دی جس دن ان کے والد اردن کے سابق بادشاہ شاہ حسین کی بیسویں برسی تھی۔ دبئی میں قید و بند کے خطرات کو بھانپ کر شہزادی حیا 25 اپریل 2019 کو اپنی بارہ سالہ بیٹی جلیلہ اور آٹھ سالہ بیٹے زید کے ہمراہ متحدہ عرب امارات سے فرار کے بعد براستہ جرمنی برطانیہ پہنچیں اور پھر لندن ہائی کورٹ میں بچوں کی حوالگی اور فلاح و بہبود کے حوالے سے شیخ محمد اور شہزادی حیا میں مقدمہ بازی شروع ہوگئی۔ اگرچہ شیخ محمد بن راشد المکتوم ایک مرتبہ بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے تاہم ان کی قانونی ٹیم نے عدالت میں تمام ترالزامات کو ماننے سے انکار کیا۔ دوسری جانب شہزادی حیا نے لندن میں مہنیوں تک چلنے والی کیس کی تمام سماعتوں میں شرکت کی۔ خیال رہے کہ شہزادی حیا کی وکیل فیونا شیکلٹن نے ہی دو عشرے قبل برطانوی تخت کے وارث شہزادہ چارلس کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے آنجہانی لیڈی ڈیانا سے ان کی طلاق کروائی تھی۔
شہزادی حیا مئی 1974 میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد اردن کے بادشاہ حسین تھے او ان کی والدہ ملکہ عالیہ الحسین تھیں۔ شہزادی حیا اس وقت صرف تین سال کی تھیں جب ان کی والدہ ملک کے جنوب میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہو گئی تھیں۔اردن کے موجودہ بادشاہ عبداللہ دوئم ان کے سوتیلے بھائی ہیں۔ 45 سالہ شہزادی حیا کو گھڑ سواری، عقاب پالنے، نشانے بازی اور بھاری مشینری کا شوق ہے۔ حیا نے اپنی ابتدائی تعلیم برطانیہ سے حاصل کی۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے فلسفہ سیاسیات اور معاشیات میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ شہزادی حیا آزاد خیال اور انتہائی معتبر سمجھی جاتی ہیں انہیں روایتی عرب لباس کی بجائے جینز اور ٹی شرٹ پہننا زیادہ پسند ہے۔ شہزادی حیا بنت الحسین کے برطانوی گارڈ کے ساتھ معاشقے کی داستانیں برطانوی میڈیا میں زبان زد عام ہیں۔ اگر آنے والے برسوں میں شہزاد یحییٰ اور رسل فلار نے شادی کرلی تو یہ ثابت ہوجائے گا کہ دبئی کے امیر محمد بن راشد المکتوم نے اسی افیئر کی وجہ سے شہزادی حیا کو طلاق دی تھی۔
