خدیجہ شاہ کو کسی قسم کا ریلیف ملنا ناممکن کیوں؟َ

9 مئی کو مبینہ طور پر کور کمانڈر ہاؤس پر حملے میں ملوث ہونے کے سبب گرفتار پی ٹی آئی کارکن و فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ نے سینٹرل جیل کوٹ لکھپت سے ایک کھلا خط لکھ کر خواتین ملزمان کی حالت زار کا واویلا مچا رکھا ہے

5 صفحات پر مشتمل ہاتھ سے تحریری کردہ خط میں سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ آصف نواز جنجوعہ کی پوتی خدیجہ شاہ نے بتایا کہ وہ 9 مئی کو ہونے والے احتجاج میں ’پُرامن شرکت‘ کرنے کے جرم میں 4 ماہ سے زیادہ عرصے سے قید ہیں۔خط میں خدیجہ شاہ نے سب سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ پی ٹی آئی کے حامی ہیں یا نہیں، انسانیت کا تقاضہ ہے کہ اب اِس ٹرائل کو انجام تک پہنچایا جائے۔

تاہم دوسری طرف سینئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی کا دعویٰ ہے کہ تمام تر واویلے اور ضمانتوں کے باوجود خدیجہ شاہ کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا کیونکہ خدیجہ شاہ کی سوشل میڈیا پوسٹس سے واضح ہو گیا ہے کہ احتجاج اور بغاوت کے ذریعے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ہٹانے کی سازش کا بھی خدیجہ شاہ کو علم تھا۔ ان کی تمام پوسٹوں کی ٹائمنگ سے پتا چلتا ہے کہ خدیجہ شاہ کو ناصرف سازش کا علم تھا بلکہ وہ اس میں شامل بھی تھیں۔خدیجہ نے پارٹی کارکنوں کو فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے پر اکسایا تھا۔’9 مئی کے فسادات ، خدیجہ شاہ کو براہ راست ملوث ہونے کی وجہ سے کوئی ریلیف نہیں ملے گا’

نیا دور ٹی وی پر ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار مزمل سہروردی نے کہا کہپاکستان تحریک انصاف کی سپورٹر خدیجہ شاہ کو لاہور کور کمانڈر کے گھر پر حملے کے منصوبے کا علم تھا اور انہوں نے سہ پہر 3 بجے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کی جس میں انہوں نے پارٹی کارکنوں کو جناح ہاؤس پہنچنے اور حملہ کرنے کے لیے اکسایا۔ 9 مئی کے ہنگامے میں پی ٹی آئی کی سابق رہنما عندلیب عباس اور خدیجہ شاہ کے کردار میں فرق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقاتی اداروں کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں یہ ثابت ہو گیا کہ عندلیب کور کمانڈر کے گھر کے احاطے میں داخل نہیں ہوئیں اور باہر ہی کھڑی رہیں۔ اس دوران ان کی بیٹی کے ساتھ کال پر بات چیت میں ان کا یہی کہنا تھا کہ میں اندر نہیں جا رہی، باہر سے ہی واپس جارہی ہوں۔ یہ جو بھی ہو رہاہے بڑاغلط ہو رہا ہے۔ لہٰذا وہ کور کمانڈر ہاؤس کے باہر موجود ضرور تھیں لیکن وہاں توڑ پھوڑ کرنے، لوگوں کا اشتعال دلانے اور آگ لگانے میں ملوث نہیں تھیں۔ تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ کور کمانڈر ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں عندلیب عباس کا کردار ثابت نہیں ہو ا البتہ خدیجہ شاہ کے حوالے سے تحقیقاتی نتائج مختلف ہیں۔ خدیجہ شاہ نے سہ پہر 3 بجے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کی اور کہا کہ سب کور کمانڈر کے گھر چلیں۔ آج کور کمانڈر ہاؤس میں احتجاج ہو گا۔ یعنی خدیجہ شاہ کو دوپہر میں ہی علم تھا کہ آج کمانڈر ہاؤس پر حملہ ہونا ہے جو کہ شام کے وقت ہوا۔

تجزیہ کار نے کہا کہ خدیجہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر یہ پوسٹ بھی کی جس میں انہوں نے آرمی چیف کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے، یورپین یونین اور دیگر کو ٹیگ کیا اور کہا کہ آرمی میں بغاوت ہو گئی ہے۔ یہ ایک غیرقانونی طور پر تعینات کیا گیا آرمی چیف ہے جسے ہٹایا جائے۔ اس پوسٹ سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ہٹانے کی سازش کا بھی خدیجہ شاہ کو علم تھا۔ ان تمام پوسٹس کی ٹائمنگ سے پتا چلتا ہے کہ خدیجہ شاہ کو ناصرف سازش کا علم تھا بلکہ وہ اس میں شامل بھی تھیں۔خدیجہ نے پارٹی کارکنوں کو فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے پر اکسایا کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ حالات اتنے کشیدہ ہو جاتے کہ اس وقت کے چیف جسٹس اس پر از خود نوٹس لے لیتے اور فوج کے اندر سے ہی آرمی چیف کو ہٹانے کی بات شروع ہو جاتی۔ جس کے نتیجے میں آرمی چیف کو ہٹا دیا جاتا۔

تجزیہ کار مزمل سہروردی نے کہا کہ خدیجہ نے اپنی رہائی کے لیے امریکی سفیر کا اثر و رسوخ بھی استعمال کیا لیکن فوج نے امریکی سفیر کو واضح پیغام دیا کہ 9 مئی کے فسادات میں ملوث افراد کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا جائے گا۔مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ دوسری جانب عندلیب کور کمانڈر کے گھر پر حملے میں ملوث نہیں پائی گئیں جس کی وجہ سے اس نے معافی مانگ لی اور استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوگئی۔

Back to top button