نواز شریف پر ڈیل کا الزام کس نے اور کیوں لگایا؟

نواز شریف کی پاکستان آمد کے بعد سیاسی حلقوں میں نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ ڈیل کے افواہیں گرم ہیں۔ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں اور بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے مسلسل یہ راگ الاپا جا رہا ہے کہ ن لیگ کو اقتدار دینے کیلئے ملکی سیاسی گراؤنڈ تیار کی جا رہی ہے اور نواز شریف کی واپسی بھی ڈیل کے تحت ہوئی ہے۔ جبکہ نون لیگ کے سینئر رہنما اسحاق ڈار نے ایسی کسی بھی ڈیل کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نواز شریف نہ کوئی ڈیل کر کے واپس آئے ہیں اور نہ ہی وہ کسی ڈیل پر یقین رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ نے عوام کی جمہوری عمل میں شرکت اور انتخابی عمل کو ایک رسمی کارروائی بنا دیا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی کمزوریوں کے سبب عوام سے رجوع کرنے کی بجائے انتخابی کامیابی کے لیے ایک مرتبہ پھر مقتدر حلقوں کی جانب دیکھ رہی ہیں۔تاہم ملکی ترقی اور استحکام کیلئے سیاسی جماعتوں کو مقتدر حلقوں کے بجائے عوام کے ساتھ ڈیل کرنی ہو گی۔تاہم مبصرین کے مطابق پاکستان میں آئندہ بھی اقتدار کا ہما اسی کے سر بٹھایا جائے گا، جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اس کی مرضی کی ڈیل کر لے۔
سیاسی امور کے تجزیہ کار جاوید فاروقی نے ڈی ڈبلیوسے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ماضی کی نسبت کافی مضبوط اور واضح نظر آنے لگا ہے۔ انہوں نے کہا، ”سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ اقتدار میں آنے کے لیے صرف عوام کی حمایت کافی نہیں ہے۔ اس لیے تقریباﹰ ساری بڑی سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی متمنی رہتی ہیں۔‘‘جاوید فاروقی کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کا عوام کی بجائے اسٹیبلشمنٹ پر انحصار کرنے کا نقصان یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں آسانی کی عادی ہوتی جا رہی ہیں اور اپنی پارٹیوں کو گراس روٹ لیول پر منظم کرنے، عوام کے ساتھ باقاعدہ اور موثر رابطہ رکھنے اور منصفانہ طور پر پارٹی الیکشن کروانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتیں۔
ان کے خیال میں پاکستان میں ‘ڈیل کلچر‘ ڈرائنگ روم کی سیاست کو پروان چڑھاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو محنت کیے اور بھاگ دوڑ کے بغیر ہی حکومت ‘مینج‘ کرکے دے دی جاتی ہے، ”ایک تاثر یہ بھی ہے کہ بعض اوقات سیاسی جماعتیں عوامی قوت کا مظاہرہ بھی عموماﹰ اس لیے کرتی ہیں تاکہ اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ ان کے ساتھ ڈیل کر لے۔‘‘ جاوید فاروقی نے یاد دلایا کہ بے نظیر بھٹو جب ملک واپس آئیں تھی تو انہیں سانحہ کارساز کا سامنا کرنا پڑا تھا، ”لیکن نواز شریف کی آمد پر جو ماحول ہم نے دیکھا اس سے لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔‘‘
خیال رہے کہ پاکستان میں حالیہ دنوں میں ڈیل کی بحث اس وقت شروع ہوئی جب ملک کی دو بڑی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے الزام لگایا کہ میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کرکے پاکستان آئے ہیں۔دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے مطابق نواز شریف کیا ڈیل کرکے پاکستان آئے ہیں اس کی تفصیلات تو ابھی کسی کو معلوم نہیں البتہ جس طریقے سے پاکستان مسلم لیگ نون کی مرضی کی نگران حکومت بنی، نون لیگی رہنماؤں کے مقدمات ختم ہوئے، جس طرح نواز شریف کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت ملی، جس طرح احتساب عدالت نے ان کے وارنٹ معطل کرتے ہوئے وطن واپسی پر انہیں گرفتار کرنے سے روکا، نیب نے عدالت میں حیران کن طور پر ان کی مخالفت نہیں کی، ان کے بائیو میٹرک کے لیے نادرا کا عملہ ایئرپورٹ پہنچا، ان کے لیے لاہور میں ہیلی پیڈ بنوائے گئے۔اعلی پولیس افسروں نے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ ان کے لیے جس طرح کے حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ ان سب سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ وہ طاقتور حلقوں کے ساتھ معاملات طے کرکے ملک واپس لوٹے ہیں۔
بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس ڈیل کلچر کی بہت سی مثالیں سمیٹے ہوئے ہے۔ بینظیر بھٹو، آصف زرداری، نواز شریف، شہباز شریف، عمران خان ، پرویز الہی سمیت بہت سے سیاست دانوں نے کبھی نہ کبھی مقتدر حلقوں کے کہنے پر اتحاد بنائے، سمجھوتے کیے اور اقتدار میں آئے۔
تجزیہ کار سلمان عابد نے کہا، ”ڈیل کلچر کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ الیکشن ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے اور الیکشن کا نتیجہ الیکشن سے پہلے ہی سب کومعلوم ہو جاتا ہے۔ جو عوام کی حمایت سے اقتدار میں نہیں آئے گا وہ عوام کے لیے کام کیوں کرے گا وہ اسی کی بات مانے گا جس کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آیا ہے۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا، ”یہاں شروع سے ہی دیکھا جا رہا ہے کہ کچھ سیاست دان، سیاسی جماعتیں، اور اسٹیبلشمنٹ مل جل کر کسی کے حق میں یا کسی کی مخالفت میں، معاملات طے کر لیتے ہیں۔ پھر اسی بنیاد پر سارا سیاسی نظام سجایا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک ڈیل کلچر کو تقویت دینے میں اسٹیبلشمنٹ، سیاستدانوں، عدلیہ، بیوروکریسی اور میڈیا سمیت سب نے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔‘‘
سیاسی ماہرین کے مطابق مسلم لیگ نون کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مبینہ ڈیل کی خبروں نے دوسری جماعتوں کی تشویش کو بڑھا دیا ہے اور وہ برابری کی بنیاد پر سلوک کیے جانے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ ان میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں، جو دو مہینے پہلے مسلم لیگ نون کی اتحادی تھیں۔ سلمان عابد نے بتایا کہ اگلے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع ملنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
پاکستان کے ممتاز ماہر سیاسیات ڈاکٹر رسول بخش رئیس کے مطابق سیاسی جماعتوں کو عوام کے ساتھ ڈیل کرنا چاہیے۔ ان کے بقول پاکستان میں اس وقت حقیقی جمہوریت نہیں ہے جب تک ساری سیاسی جماعتوں کو آزادانہ طور پر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ملتی۔انہوں نے کہا، ”جب تک فوج سیاست سے الگ نہیں ہوجاتی عدلیہ اور میڈیا کو آزادی نہیں ملتی، پاکستان میں حقیقی جمہوریت فروغ نہیں پا سکتی۔‘‘
