آرمی چیف جنرل عاصم کے خلاف امریکی سازشیں کیسے رکیں؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ اللّہ خان نیازی نے کہا ھے کہ جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہیں، جو امریکی اثر و رسوخ سے باہر ھیں۔وہ مقدر کے سکندر ھیں ، اسرائیل کی دہشت گردی میں ہم جولی بننے پر امریکہ کی پوری توجہ اس وقت مشرق وسطی ٰپرمبذول ہے ۔ وگرنہ امریکہ جنرل عاصم منیر کیخلاف اب تک سازشوں کا انبار لگاچُکا ہوتا ۔عین ایسے موقع پر جب چین پہلی دفعہ خم ٹھونک کر حقی سچی ’’ سپر پاور ‘‘بن چُکا ہے۔ جنرل عاصم کیلئے چین کے پاس موثر جائے اماں موجود ہے ۔ اپنے ایک کالم میں حفیظ اللّہ خان نیازی کہتے ہیں کہ آرمی چیف کی تعیناتی توسیع کے کچھ رہنما اُصول اور بھی ھیں ، بقول جنرل حمید گل اس میں ا مریکہ کی مرضی شاملِ حال رہتی ہے ۔ جنرل باجوہ شاید اس سے بھی ایک درجہ اوپر تھے کہ موصوف امریکی پلانٹڈ تھے۔ زباں زدِ عام ھے کہ جنرل باجوہ جاتے جاتے نئے آرمی چیف کیلئے مشکلات کا انبار لگا گئے ۔ چند ہفتے پہلے درجن بھر اپنے اعتماد کے لیفٹیننٹ جنرل بنا ڈالے۔ اہم پوزیشنوں پر چار سُو اپنی پسند کے جرنیل تعینات کر گئے ۔ یوں مستقبل قریب میں بھی ادارے کے ڈسپلن پر اثر انداز ہونے کے راستے پختہ کئے۔ مت بھولیں کہ جولائی 2019ء میں جنرل باجوہ ہی تو اپنی توسیع کیلئے عمران خان کی اُنگلی پکڑ کر صدر ٹرمپ کے پاس جا پہنچے۔ عمر ان خان نے امریکی صدر کے آگے سر تسلیم خم رکھا ۔اس خوشی کے موقع پر جنرل باجوہ کو پینٹاگون نے 21توپوں کی سلامی دی ۔ ہمیں کیا معلوم کہ’’باپ بیٹا‘‘مارے خوشی ، کشمیر بھارت کے حوالے کر آئیں گے۔

حفیظ اللّہ خان نیازی اپنے سیاسی تجزئے میں کہتے ہیں کہ آج مملکت خداداد کے اصل مجرم کا تعین آسان ھے ، اس کا قرعہ فال بنام جنرل محمد ایوب خان ہی نکلنا ہے۔ ایک وقت تک یقینا مجرم جنرل ایوب تھا کیوں کہ تب تک جنرل قمر جاوید باجوہ بنفس نفیس پردہِ سیمیں پر جلوہ افروز نہیں ہوئے تھے۔ آج وہ ایوب خان کے شانہ بشانہ مقام پا چُکے۔ جنرل باجوہ کا کریڈٹ یہ ھے کہ انہوں نے آئین چھیڑا نہ مارشل لا لگایا اور نہ ہی ایمرجنسی ۔۔ یعنی ’’دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ … تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو ‘‘۔ مگر پھر بھی ملک میں سیاسی عدمِ استحکام ، اپنے ادارے کی بے حُرمتی اور نظام کی تباہی و بربادی کی ایک تاریخ رقم کی۔ ان کا کسبِ کمال یہ تھا کہ نواز شریف کو خاطر خواہ ذلیل ، رسوا اور خوار کر کے نکالا بھی اور پھر اپنی توسیع کا ووٹ بھی لے لیا ۔ ’’تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے ‘‘، ساری سیاسی جماعتیں، سارے سیاسی رہنما باجماعت باوضو، وردی اور توسیع مدتِ ملازمت کو فقید ِ المثال پذیرائی میں مستعد رہے۔ ایسابڑا اتفاق رائے ہوا جو 1973ء کے آئین پاکستان پر نہ ہو سکا۔

حفیظ اللّہ نیازی کے مطابق جنرل باجوہ خوش قسمت رھے کہ جب ان کی دوسری توسیع کا معاملہ آیا تو’’جمعیت سیاسی مسلمین‘‘ بشمول عمران خان دوسری توسیع ملازمت دینے پر بھی راضی تھے ۔ شُنید کہ اس دفعہ امریکہ کیساتھ دوسرے ممالک بھی مُصر تھے۔ آخری دنوں میں تو شہباز شریف نے بھی لندن جا کر ڈیرے ڈالے۔ توسیع کا پروانہ لیے بغیر واپس آنے سے صاف انکاری تھے ۔ عمران خان ان سے بھی دو قدم آگے نکلے اور لانگ مارچ کر ڈالا تاکہ ممکنہ آرمی چیف کی تعیناتی رُک جائے تو جنرل باجوہ سُرخرو رہیں ۔ اس سارے عمل میں جنرل باجوہ نے کمالِ ہوشیاری سے حکومت کو سرنگوں رکھا جبکہ اپنے ایک بااعتماد قریبی ساتھی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے حقوق ِملکیت عمران خان کو منتقل کئے تاکہ عمران خان بھی موثر طریقہ سے زیر استعمال رہے۔ یہ تو بھلا ہو نواز شریف کاکہ نومبر 2022ء میں رنگ میں بھنگ ڈال دیا اور باجوہ کو بے آبرو ہو کر رُخصت ہونا پڑا ۔
حفیظ اللّہ خان نیازی کہتے ہیں کہ 2021 ء میں جب طے ہوا کہ عمران خان کو فارغ کرنا ہے تو عدم اعتماد کی تحریک ہی سہارا بننا تھی۔ دسمبر 2021ءسے یہ بھی عیاں تھا کہ اپوزیشن جنرل باجوہ کے دام میں آ چُکی ہے اور وہ تحریک عدم اعتماد لا کر رہے گی۔۔ پس پردہ جنرل باجوہ کا عزم صمیم یہ تھا کہ نگران حکومت کے ذریعے سپریم کورٹ کے پانچ ججز کی بھرتی ھو گی ، پھر قاضی فائز عیسیٰ کی دائمی رُخصتی اور پھر اپنی مرضی کی سپریم کورٹ کی مدد سے لمبی نگران حکومت کیلئے تحفظ ملنا تھا۔ مگر آج اللہ کی اسکیم حرکت میں ھے ، جنرل باجوہ اپنے تمام تر منصوبوں میں ناکام و نامراد رھے، بالآخر توہین آمیز رُخصتی ان کا مقدر بنی۔ جنرل باجوہ پاکستان کی قسمت سے کھیلے ہیں، اُنکا حساب کتاب لینا ہوگا، یہ ’’بدلہ‘‘ نہیں’’ادلہ‘‘ ہے۔ یہ’’ تیسا‘‘نہیں یہ’’ ایسا‘‘ ہے۔

Back to top button