مولانا کا اپنے سخت ناقد عمران خان سے ہاتھ ملانے کا فیصلہ؟

ماضی قریب میں مولانا فضل الرحمٰن کو بھرے جلسوں میں مولانا ڈیزل کہہ کر تمسخر اڑانے اور نعرے لگوانے والے عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کی 5 سال بعد سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن سے ان کے گھر پر ملاقات نے ملکی سیاست میں ہیجان پیدا کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار تحریک انصاف کے وفد کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کو آئندہ انتخابات میں ایک نئے سیاسی اتحاد کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ26 اکتوبر کی شام پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما و سابق سپیکر اسد قیصر، علی محمد خان اور بیرسٹر سیف نے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر نہ صرف ملاقات کی بلکہ ان کی امامت میں نماز مغرب بھی ادا کی۔ یعنی دوسرے معنوں میں پی ٹی آئی وفد نے بھی مولانا کو اپنا امام تسلیم کر لیا ہے۔ملاقات میں تحریک انصاف کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی خوش دامن کے انتقال پر تعزیت کی۔
ملاقات کے بعد سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ ’یہ ایک غیر سیاسی ملاقات تھی جس میں فاتحہ خوانی کے علاوہ کسی موضوع پر بات نہیں ہوئی۔‘’ہم سب ایک علاقے کے رہنے والے ہیں، غم اور خوشی میں شرکت کرنا ہماری ثقافت کا حصہ ہے اور یہ ملاقات پارٹی کی رضامندی سے کی گئی۔‘ چیئرمین پی ٹی آئی سمیت سب کی مرضی اس ملاقات میں شامل تھی‘ ہم فاتحہ خوانی کے لیے آئے تھے اور یہ ہمارے کلچرکا حصہ ہے۔کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی۔اس حوالے سے بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ملاقات کا دورانیہ 1گھنٹے تک رہا، مغرب کی نماز مولانا صاحب کے ہمراہ ادا کی‘اتحاد کی بات قبل ازوقت ہے ‘تلخیاں ختم کرنے کیلئے مولانافضل الرحمان کے پاس گئے ۔ مستقبل قریب میں مزید ملاقاتوں پر بھی اتفاق کیا گیا۔سیاسی لوگ جب بھی بیٹھتے ہیں تو ملکی سیاسی صورت حال پربات ہوتی ہی ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان ایڈووکیٹ معظم بٹ نے اس ملاقات کو سیاسی میٹنگ قرار دیا۔ انہوں نےبتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے قائم کیے جا رہے ہیں اور آج کی ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔انہوں نے کہا کہ ’تحریک انصاف این آر او نہیں چاہتی بلکہ کوشش کر رہی ہے کہ الیکشن کے لیے سیاسی ماحول کو سازگار بنایا جائے۔‘معظم بٹ کے مطابق ’مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کا مقصد بھی یہی تھا کہ فوری الیکشن کے لیے انہیں قائل کیا جائے کیونکہ جمہوریت کا واحد حل انتخابات ہیں۔‘ ترجمان پی ٹی آئی ایڈووکیٹ معظم بٹ کے مطابق ’صدر پاکستان بھی تمام سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرچکے ہیں۔‘جمہوریت کے لیے کسی سیاسی جماعت کے لیڈر سے بات چیت کرنا کوئی بُری بات نہیں ہے، اس طرح کی ملاقاتیں دیگر سیاسی پارٹیوں سے بھی کی جائیں گی۔‘
دوسری جانب پشاور کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار کاشف الدین کے مطابق مولانا فضل الرحمان سے ملاقات سیاسی موسم میں تبدیلی کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ ’اس سے پہلے بھی سیاست میں فاتحہ خوانی کے نام پر اہم سیاسی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔‘ ’مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد کمرے کے اندر بھی الگ سے میٹنگ ہوئی ہے، اس میں کیا باتیں ہوئیں اس کی تفصیل چند روز میں سامنے آجائے گی۔‘کاشف الدین کی رائے کے مطابق ہم مفاہمت کی بازگشت سن رہے تھے اور اب ایسا لگ رہا ہے کہ عملی طور پر پی ٹی آئی نے اس پر کام شروع کردیا ہے۔’پی ٹی آئی اپنی پالیسی کی وجہ سے بالکل ایک سائیڈ پر ہوگئی تھی، اسی لیے اب وہ کوشش کر رہی ہے کہ پالیسی میں نرمی لاکر تمام جماعتوں سے گفت و شنید کی جائے۔‘
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے وفد اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان ملاقات میں دو طرفہ امور اور ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ اہم سیاسی ملاقاتیں میں ایک نئے سیاسی اتحاد کی تجویز پر بھی غور کیا گیا جبکہ نئے سیاسی اتحاد کے لیے پی ٹی آئی وفد نے مولانا فضل الرحمٰن سے مزید وقت مانگ لیا۔ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے وفد کے ساتھ ملاقات میں آئندہ عام انتخابات سے متعلق تفصیلی مشاورت کی گئی، ملاقات میں پاکستان ڈیموکریٹک الآئنس یعنی پی ڈی ایم طرز پر نئے سیاسی اتحاد کی تجویز پر بھی غور کیا گیا ہے، جب پی ٹی آئی وفد نے نئے سیاسی اتحاد کے لیے چیئرمین پی ٹی سے مشاورت کے لیے مولانا فضل الرحمٰن سے مزید وقت مانگ لیا۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے یقین دھانی مانگتے ہوئے پی ٹی آئی وفد سے کہا کہ وہ سیاسی اتحاد کے لیے مکمل مینڈیٹ لے کر آئیں۔ نئے سیاسی اتحاد میں پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتوں کو بھی شامل کرنے پر غور کیا گیا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ ملاقات میں انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کے لیے مساوی مواقع کے لیے سیاسی جدوجہد پر بھی اتفاق کیا گیا۔ جبکہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان جلد دوبارہ ملاقات ہوگی۔
