اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی عمران خان کو جھنڈی دکھا دی؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں ضمانت اور اخراج مقدمہ کی تمام درخواستیں مسترد کر کے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو کسی قسم کے ریلیف کی فراہمی سے صاف انکار کر دیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 16 اکتوبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر گمشدگی کیس میں نہ صرف سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی بلکہ چیئرمین پی ٹی آئی کی اخراجِ مقدمہ کی درخواست بھی خارج کر دی۔27 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل محفوظ فیصلہ سنایا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی درخواست ضمانت اور مقدمہ اخراج درخواستیں مسترد کرنے کے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت اور مقدمہ اخراج کی درخواستوں میں دلائل تقریباً ایک جیسے ہونے کے باعث فیصلہ ایک ساتھ سنا گیا۔حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ’درخواست گزار وکلا کے مطابق آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا اطلاق صرف مسلح افواج کے افسران پر ہوتا ہے۔ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن 1 سب سیکشن 2 کے تحت اس کا اطلاق پاکستان کے ہر شہری اور حکومتی عہدیداروں پر ہوتا ہے۔‘جاری حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’استغاثہ کے مطابق درخواست گزار نے سائفر حاصل کیا، پھر گما دیا۔ درخواست گزار نے سائفر کے مندرجات عام عوام میں توڑ مروڑ کر پیش کیے۔‘فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ’استغاثہ کے مطابق درخواست گزار بالکل ایسا نہیں کر سکتے تھے، سائفر ایک خفیہ دستاویز تھا۔
حکم نامے کے مطابق ’اس مد میں چیئرمین پی ٹی آئی کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سیکشن پانچ، ون سب سیکشن اے کے تحت ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ اس سیکشن کے تحت جرم کی سزا سزائے موت یا 14 سال قید ہے۔ کیس کے حقائق کے مطابق بادی النظر میں اس مقدمے میں سیکشن 5 کا اطلاق ہوتا ہے۔ سائفر کھو دینے کے حوالے سے سیکشن 5 ون سب سیکشن ڈی کا اطلاق ہوتا ہے جس کی سزا 2 سال قید ہے۔‘فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’درخواست گزار کے وکلا نے اپنے دفاع میں وزیر اعظم کے اٹھائے گئے حلف کو شامل کیا ہے۔ درخواست گزار وکلاء کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی ذمہ داری تھی کہ وہ بطور وزیراعظم سازش کے حوالے سے عوام کو آگاہ کریں۔‘
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’وزارت خارجہ کے افسران بشمول سائفر کے مصنف اسد مجید نے بیان میں کہا کہ کوئی سازش نہیں تھی۔‘تاہم ’اسد مجید کے مطابق سائفر کو پبلک کرنے سے سائفر کوڈ سکیورٹی کو خطرے میں ڈالا گیا۔ اسد مجید کے مطابق بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے دیگر ممالک سے تعلقات کو بھی خراب کیا گیا۔‘
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں قید ہیں۔ 23 اکتوبر کو اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سائفر گمشدگی کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پارٹی رہنما شاہ محمود قریشی پر فردِ جرم عائد کر دی تھی۔اڈیالہ جیل میں خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سائفر کیس کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ سنایا تھا۔عدالت نے گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کر دی تھی۔واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی گرفتاری کو دو ماہ سے زائد ہو گئے ہیں، عمران خان کو سائفر کیس میں 15 اگست 2023 کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کو 20 اگست 2023 کو گرفتار کیا گیا تھا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے 30 ستمبر 2023 کو عدالت میں چالان جمع کرایا تھا جس میں انہوں نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشنز پانچ اور نو کے تحت سائفر کا خفیہ متن افشا کرنے اور سائفر کھو دینے کے کیس میں مرکزی ملزم قرار دیا تھا۔ایف آئی اے نے چالان میں 27 گواہان کا حوالہ دیا، مرکزی گواہ اعظم خان ہیں جو پہلے ہی عمران خان کے خلاف ایف آئی اے کے سامنے گواہی ریکارڈ کروا چکے ہیں۔خصوصی عدالت میں جمع کروائے گئے چالان کے مطابق سیکریٹری خارجہ اسد مجید اور سابق سیکریٹری خارجہ سہیل محمود بھی گواہوں میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ فیصل نیاز ترمذی بھی ایف آئی اے کے گواہوں میں شامل ہیں
