خفیہ ویڈیوبنوانے سے کیسے بچا جائے؟

https://youtu.be/7bXyMmTxO0Y
مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق گورنر محمد زبیر کی خفیہ کیمروں سے بنائی گئی چند نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ آخر ان خفیہ کیمروں سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں کمرے میں خفیہ طور پر نصب سپائی کیمروں کے ذریعے بنایا گیا جن کا علم عام آدمی کو کسی صورت نہیں ہو سکتا۔
سابق گورنر محمد زبیر کی نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد آواری ہوٹل نے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے ہوٹل کے کمروں میں کوئی خفیہ کیمرے نصب نہیں کیے، کم از کم ان کے علم میں تو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ہوٹل کی انتظامیہ کو وضاحت جاری کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ زبیر کی زیادہ تر ویڈیوز میں جو کمرے نظر آ رہے ہیں وہ فائیو سٹار آواری ہوٹل کے ہیں۔ زبیر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی قابل اعتراض ویڈیوز بھی لیک ہو چکی ہیں۔
ان حالات میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ ایسے خطرناک خفیہ کیمروں سے کیسے بچا جائے اور پوشیدہ مقامات پر نصب کیمروں کا سراغ کیسے لگایا جائے ؟ اس کا سب سے آسان حل تو یہ ہے کہ ایسی گندی حرکتوں سے پرہیز کیا جائے جو خفیہ کیمروں میں ریکارڈ ہونے کے بعد آپ کے لیے بدنامی اور رسوائی کا باعث بنیں۔ تاہم اگر پھر بھی آپ باز آنے کے موڈ میں نہیں تو آپکو خفیہ کیمرے تلاش کرنے کے انتہائی مفید طریقے بتا دیتے ہیں۔ سب سے پہلے یاد رکھیے کہ انتہائی چھوٹے خفیہ کیمرے سمیت تمام لینز روشنی دیتے ہیں۔ چنانچہ کمرے میں پوشیدہ طور پر نصب کیے گئے خفیہ کیمرے کو ڈھونڈنے کے لئے تمام لائٹس بند کر دیں اور اپنے سمارٹ فون کی ٹارچ آن کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی مقام پر روشنی منعکس ہوتی نظر آتی ہے تو آپ اس کی گہری جانچ کریں۔ یوں خفیہ کیمرے اسانی سے پکڑے جا سکتے ہیں۔
اسکے علاوہ خفیہ کیمروں کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے آپ کسی بھی ہوٹل میں کمرہ لیتے وقت اپنے مشاہدے کی مہارت بروئے کار لائیں۔ آپ جائزہ لیں کہ کیا کمرے میں رکھا لیمپ اپنی جگہ سے کچھ ہٹا ہوا ہے؟ اسی طرح چیک کریں کہ کمرے کے کلاک میں کوئی عجیب چیز تو نظر نہیں آ رہی روز؟ اگر آپ محسوس کریں کہ کچھ گیجٹ کمرے میں غیر ضروری اور عجیب و غریب انداز میں رکھے گئے ہیں تو آپ کو زیادہ چوکس رہنا ہوگا۔ اسکے علاوہ ہوٹلز کے کمروں اور باتھ رومز میں لگے سموگ ڈٹیکٹرز یعنی آگ یا دھویں کا سراغ لگانے والے آلات میں بھی خفیہ کیمرہ نصب ہو سکتا ہے اس لیے ان پر زیادہ توجہ دیں۔اس کے علاوہ دیوار کی سجاوٹ، الیکٹرونک آؤٹ لیٹس، ٹشو بکس، وال ساکٹس، ڈیسک پلانٹس اور ایئر فلٹر کا سامان بھی چیک کریں کیونکہ خفیہ طور پر لگایا گیا کیمرہ ایک بٹن کے سائز کا بھی ہوسکتا ہے جو انسانی آنکھ کے لئے ڈھونڈنا محال ہوتا ہے۔
چنانچہ اگر آپ پیشہ ورانہ طور پر خفیہ کیمروں کا سراغ لگانے والا آلہ یعنی کیمرہ ڈٹیکٹر ڈیوائس خرید سکتے ہیں تو ایما زون پر آر ایف سگنل ڈٹیکٹر تلاش کریں جہاں آپ کو ایک وسیع رینج ملے گی۔ بَگ ڈٹیکٹر سے کمرے کی چھان بین کریں۔ یہ چھپے ہوئے کیمرے کا پتہ لگانے کا ایک بہترین طریقہ ہو سکتا ہے خاص طور پر اگر آپ زیادہ تر ایسی جگہوں پر جاتے ہیں جہاں پر آپ کو ہوٹلز میں رکنا پڑتا ہو۔ اگر آپ کو اپنے کمرے میں کوئی مشکوک ڈیوائس مل جاتی ہے اور آپ نہیں جانتے کہ وہ کس مقصد کے لیے لگائی گئی ہے یا اس کا کیا استعمال ہے تو سب سے بہتر یہ ہو گا ہے اس ڈیوائس کو ان پلگ کر دیں اور اسے تولیے سے ڈھانپ دیں۔ آپ اس ڈیوائس کو الماری میں بھی رکھ سکتے ہیں۔
اسکے علاوہ اگر آپکو ہوٹل کے کمرے میں چھپے ہوئے آلات کا کوئی نشان نہیں بھی ملا اور آپ پھر بھی پر اطمینان نہیں ہیں تو ایک ایپلیکیشن اہنےموبائل فون پر ڈاؤن لوڈ کریں جو ریکارڈنگ ڈیوائس کو فریکوئنسی کا استعمال کرتے ہوئے سکین کرے گی۔ Detectify اور Radarbot ان ایپلیکیشنز میں بہترین ہیں جنہیں آپ اینڈروئیڈ فون پر ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ خفیہ کیمرہ تلاش کرنے کے لیے ان میں سے بہت سی ایپلی کیشنز مفت سروس فراہم کرتی ہیں۔ لہذا اپنی مکمل تسلی کے لیے ان میں سے کسی ایک ایپلیکیشن کو اپنے موبائل فون پر ڈاون لوڈ کر لیں تاکہ آپ کو چھپے ہوئے کیمروں کا سراغ مل جائے۔
