خود انحصاری منزل،سپر ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہوگا

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری منزل خود انحصاری ہے،خود انحصاری ہی کسی قوم کی معاشی، سیاسی آزادی کی ضمانت ہوتی ہےضمانت دیتا ہوں کہ سپر ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہوگا،ہم مشکلات میں گھرے ہیں، ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے چند فیصلے ایسے کرنے ہوں گےجنہیں کوئی حکومت تبدیل نہ کرسکے، اگرایسا نہ کیا تو دائرے میں گھومتے رہیں گے، پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے، یہ وہ صلاحیت ہے جس نے دشمن کے دانت ہمیشہ کے لیے کھٹے کردیے ہیں۔
اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں ٹرن آرائونڈ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا وزیر خزانہمفتاح اسماعیل نےصبح میسج بھیجا کہ آئی ایم ایف سے 1 نہیں 2 ارب ڈالر مل جائیں گے، مفتاح اسماعیل کو جواب میں کہا کہ ہماری منزل خود مختاری ہے،پاکستان میں اربوں روپے کے قدرتی وسائل موجود ہیں مگرآج تک ہم ان کو استعمال نہیں کر سکے، میرے سامنے دنیا کے بہترین اذہان بیٹھے ہیں، ریکوڈک میں اربوں ڈالر کا خزانہ دفن ہے مگر ہم نے ایک دھیلہ نہیں کمایا اور مقدمے لڑتے ہوئے قوم کے اربوں روپے ضائع ہوگئے۔
انہوں نے کہا دنیا میں عالمی بحران کے باعث فیول کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں، ہمارے گزشتہ دور حکومت میں سستی ایل این جی کے معاہدے کیے گئے، اس پر تنقید کی گئی، مگر سابقہ پی ٹی آئی حکومت نے ایل این جی خریدنے کا کوئی معاہدہ نہیں کیا،گزشتہ دنوں ایل این جی کی اسپاٹ پر قیمت 4 ڈالر جبکہ طویل مدتی معاہدے کے تحت اس کی قیمت 4 یا 5 ڈالر تھی، اس وقت کسی نے اس کی خریداری کے بارے میں سوچا تک نہیں اور آج جب دنیا بحران کی زد میں ہے تو کسی ملک نے ہمیں ایل این جی دینے کی پیش کش نہیں کی۔
وزیر اعظم نے کہا مخلوط حکومت کے کچھ فوائد ہیں لیکن اس کے ساتھ اس میں کچھ چیلنجز کا بھی سامنا ہوتا ہے، مشاروت اہم عمل ہے، فیصلوں پر مشاورت جمہوری عمل ہے، اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں گے،گزشتہ دنوں میں نے گھی اور خوردنی تیل کے بحران کے دوران انڈونیشیا کے صدر کو کال کی تو انہوں نے فوری پر پاکستان کے لیے گھی روانہ کیا، یہ ایک مثال ہے، اگر ہم کام کرنا چاہیں تو معاملات کو چلایا جاسکتا ہے، ملک کے جو حالات ہیں اس کا ہم کسی سے کوئی گلہ نہیں کرسکتے۔
شہباز شریف نے کہا ہم نے آج ملک کی بہتری کے لیے چند فیصلے کرنے ہوں گے کہ کوئی بھی حکومت آئے ہم نے اپنی ترقی سے متعلق پالیسوں کو اپنے ذاتی اور سیاسی مفاد کے لیے تبدیل نہیں کرنا، اگر ہم نے یہ فیصلہ نہیں کیا تو ہم اسی طرح دائرے میں گھومتے رہیں گے اور ترقی نہیں کرسکیں گے اور تاریخ کے اوراق میں ہمارا ذکر بھی نہیں ہوگا، مل کر فیصلہ کریں کہ ہم سب نے ایک ہو کر اس قوم کی تقدیر بدلنی ہے تو ہمارا ترقی کی منزل سے فاصلہ بہت کم رہ جائے گا، ملک کی قسمت بدل جائے گی، اس ٹرن آراؤنڈ کانفرنس کا مقصد خود کو بدلنا ہے، اس مقصد کے حصول کے بغیر یہ سب بے معنی ہے۔
انہوں نے کہا اس حکومت کے دور میں ہمارا مقصد زراعت کے شعبے سے جڑی ہوئی ایگرو بیسڈ صنعتی سرمایے کو ترقی دینا ہے اور ہماری حکومت کا دوسرا مقصد برآمدات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا، اس کے ساتھ بجلی بحران پر قابو پانے کے لیے 2 ارب روپے کی بچت کرتے ہوئے کوئلہ درآمد کر رہے ہیں، چین سے 2 ارب ڈالر مل رہے ہیں جن کو خاص طور پر ملک کی معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا ہم اپنی حکومت کے دوران ملک میں معاشی استحکام لانے کی کوشش کریں گے مگر معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام بہت ضروری ہے اور سیاسی استحکام کے لیے میں یہاں موجود دانشوروں سے گزارش کروں گا کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔
