خود ڈیٹنگ کر کے 3 شادیاں کر لیں، پھر ہماری ڈیٹنگ ایپس پر پابندی کیوں؟


پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے ملک میں ٹنڈر سمیت پانچ ڈیٹنگ ایپس پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد نوجوان صارفین گلہ کر رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے خود تو ڈیٹنگ بھی کر لی اور ایک چھوڑ تین تین شادیاں بھی ٹکا لیں لیکن ہماری باری آئی تو تمام ڈیٹنگ ایپس بند کروا دی ہیں جو سراسر ظلم اور انکے جذبات سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔
یاد رہے کہ پاکستانی نوجوانوں کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی ڈیٹنگ ایپس بشمول ٹِنڈر، ٹیگڈ، سکاؤٹ، گرائنڈر اور سے ہائے کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بند کردیا ہے۔ پی ٹی اے کا کہنا یے کہ ان ڈیٹنگ ایپس سے پیدا ہونے والے غیر اخلاقی اور غیر مہذب منفی اثرات کو کنٹرول کرنے کے لیے مذکورہ پلیٹ فارمز کی انتظامیہ کو ڈیٹنگ کی آپشن ختم کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تھے لیکن کہیں سے کوئی جواب نہیں آیا۔ پی ٹی اے ترجمان کے مطابق پابندی کا فیصلہ اس لیے لیا گیا ہے کہ ان ایپس کو کسی اخلاقی اور قانونی دائرے میں لایا جائے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پابندی کا فیصلہ وزیراعظم کی ہدایت پر لیا گیا اور اس پر تبھی نظر ثانی کی جائے گی جب ان ایپس کی انتظامیہ مناسب لائحہ عمل کے تحت غیر اخلاقی اور غیر مہذب مواد کنٹرول کرنے اور ڈیٹنگ کی آپشن ختم کرنے کی یقین دہانی کروائے گی۔
دوسری طرف پاکستان ڈیجیٹل رائٹس گروپ بائٹس فار آل کے ڈائریکٹر شہزاد احمد نے پی ٹی اے کی ‘اخلاقی پولیسنگ’ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘اگر نوجوان ایک ایپ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ریاست کا کوئی حق نہیں کہ وہ انہیں ایسا کرنے سے روکے۔’ انہوں نے کپتان حکومت کی جانب سے ان ایپس پر پابندی کو انتہائی مضحکہ خیز قدم قرار دیتے ہوئے کہا لوگ اس کا کوئی نہ کوئی متبادل تلاش کر لیں گے۔ شہزاد احمد نے کہا کہ پہلے حکومت نے مین سٹریم میڈیا پر پابندی لگائی اور اب سوشل میڈیا ایپس پر بھی پابندی عائد کی جا رہی ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ملک میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بعد ڈیجیٹل میڈیا کو بھی خسی کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے جولائی میں پاکستانی حکام نے مشہور چینی ایپ ٹک ٹاک کو حتمی تنبیہ جاری کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ وہ نازیبا مواد کو فلٹر کرے۔ان پابندیوں کے بعد یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ کیا ملک کے سبھی مسائل کا حل سوشل میڈیا کو پابند بنانے اور اخلاقی پولیسینگ کرتے ہوئے ڈیٹنگ ایپس کو بند کروانے میں ہی چھپا ہے۔ بعض صارفین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا ڈیٹنگ ایپس بند کرنے سے فحاشی اور غیر اخلاقی مواد کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے گا؟
ڈیٹنگ ایپس پر پابندی کے بعد جہاں کچھ سوشل میڈیا صارفین اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے ان ایپس کو غیر اخلاقی قرار دے رہے ہیں وہیں زیادہ تر صارفین کا خیال ہے کہ یہ پابندی غیرضروری ہے۔ ایک صارف نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ہمارے وزیراعظم نے خود تو ہر طرح کی ڈیٹنگ بھی کر لی اور تین عدد شادیاں بھی ٹکا لیں لیکن ہماری باری آئی تو ڈیٹنگ ایپس بھی بند کروادیں جو کہ نوجوانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔
مینا نامی صارف نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ کیا پاکستان کے تمام مسائل کا حل ٹنڈر کو بلاک کرنا ہی تھا؟ ایک اور ٹویٹر صارف مصطفیٰ نے چٹکلہ چھوڑا کہ پاکستان نے ٹنڈر پر پابندی لگائی ہے کیونکہ یہاں صرف پھوپھو کے بچوں کے ساتھ آپ کے تعلقات ہی قابل قبول ہیں۔ اور اب چونکہ آپ بالغ ہو چکے ہیں اس لیے آپ خاندان سے باہر مرضی کے دوست نہیں بنا سکتے۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین اس بحث میں الجھتے دکھائی دئیے کہ ٹنڈر پر پابندی لگنے سے زیادہ متاثر مرد ہوئے ہیں یا خواتین۔ مریم نامی ٹویٹر صارف نے مرد حضرات پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اوہ کیا واقعی ٹنڈر بین ہوگیا، اب شادی شدہ مرد دوست بنانے کہاں جائیں گے؟ مردوں کو بھی تو سمجھو۔ امیر وڑائچ نامی صارف نے تبصرہ کیا کہ اسکا مطلب یہ ہوا کہ صرف مرد ہی ٹنڈر استعمال کرتے ہیں، یہ کیا مذاق ہے۔ ٹنڈر ایک سوشل ایپ ہے جسے مرد اور خواتین دونوں استعمال کرتے ہیں۔’ سعدیہ شیخ نامی صارف نے لکھا کہ آج ہمارے شادی شدہ اور کنوارے مردوں کے لیے نہایت افسوس کا دن ہے۔
یاد رہے کہ ان تازہ پابندیوں سے پہلے گذشتہ دنوں پی ٹی اے نے یوٹیوب اور چینی ویب سائٹ ٹک ٹاک کی انتظامیہ کو فحش مواد ہٹانے کے لیے نوٹسز جاری کیے تھے۔ پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ اسے ٹک ٹاک اور بیگو جیسی سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پر موجود ’فحش اور غیراخلاقی مواد‘ اور اس کے پاکستانی معاشرے اور نوجوان نسل پر منفی اثرات کے حوالے سے شکایات ملی ہیں۔ پی ٹی اے کے مطابق ان شکایات کے بعد مذکورہ بالا سوشل میڈیا کمپنیوں کو نوٹس جاری کیے گئے لیکن تسلی بخش جواب نہ ملنے پر اب فوری طور پر بیگو کو بند کرنے اور ٹک ٹاک کو ایک حتمی نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ پی ٹی اے نے ایک ہفتے کے اندر ہی بیگو پر عائد پابندی اٹھا لی تھی اور ٹک ٹاک کے جواب پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button